0
Monday 5 Aug 2019 09:18

بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا

بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا
اداریہ
5 اگست 1988ء عالم اسلام بالخصوص تشیع پاکستان کے لیے وہ سوگوار دن ہے، جسے عالم تشیع ہرگز فراموش نہیں کرسکتا۔ خداوند عالم نے ملت پاکستان کو ایک بہترین نعمت سے سرفراز کیا تھا لیکن سامراجی طاقتوں نے است نعمت کو بہت جلد چھین لیا۔ شہید عارف حسین الحسینی نے اسم با مسمی ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے اپنے زمانہ طالبعلمی سے لے کر شہادت تک حسینی راستے پر گامزن رہ کر حقیقی عارف حسین ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ شہید عارف الحسینی نے ایک انسان، ایک عالم دین اور ایک قوم کے قائد کی حیثیت سے اپنا کردار اس خوبی سے نبھایا کہ آج تین عشروں کے بعد بھی ہر باشعور انسان آپ کے عمل و کردار کی تعریف کرتا نطر آتا ہے۔ خداوند عالم نے قرآن مجید میں بڑے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ صاحبان علم اور جاہل ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ علم کی حقیقت اس کے عمل میں پوشیدہ ہوتی ہے بقول شاعر"عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی"

ایک عالم جب عمل کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے تو اسے عالم ربانی کا خطاب دیا جاتا ہے۔ آپ بلاشک و شبہ اس منزل و مرتبے پر فائز تھے۔ شہید حسینی کی انہی صفات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا تھا کہ "علامہ عارف حسین الحیسنی مکتب اسلام کے وفا دار، محروموں اور مستضعفوں کا دفاع کرنے والے اور امام حسین علیہ السلام کے سچے فرزند تھے۔" امام خمینی نے یہ تین القاب دیکر شہید علامہ حسینی کی شخصیت کا مکمل تعارف کرا دیا۔ شہید حسینی کو یہ القابات اپنے عمل و کردار کی وجہ سے ملے۔ آپ نے اپنی زندگی کو مکتب اسلام کے لیے وقت کر رکھا تھا اور آپ نے اسی دین اسلام کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی راہ حق میں نثار کر دیا۔ آپ نے محروموں کے دفاع کے لیے روز و شب کی پرواہ کیے بغیر انتہائی دلجمعی اور جہد مسلسل سے کام کیا اور چار سالہ قیادت میں مظلوموں، محروموں اور مستضعفین کی آواز بن گئے۔

آپ کا حسینی کردار ہر طرح کی مشکلات و خطرات کے باوجود وقت کے یزیدیوں کے سامنے کربلا کا منظر پیش کرتا رہا۔ وقت کے آمروں نے مختلف ہتھکنڈوں سے آپ کو حسینی راستے سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن نہ دھونس، نہ دھمکیاں، نہ لالچ، نہ خوف، نہ منصب، نہ مصلحت کوئی بھی چیز آپ کو اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور نہ کرسکی۔ شہید حسینی کا کردار ایک انمٹ کردار ہے، جہاں کہیں بھی باطل کے خلاف کوئی قیام کرے گا، جہاں بھِی کوئی شخص فوجی و سول آمروں کے خلاف ڈٹ جائے گا، کسی بھی سرزمین میں کوئی مزاحمت و استقامت کا راستہ اپناتے ہوئے طاغوت و سامراج کو للکارے گا، وہاں شہید حسینی کا کردار نکھر کر سامنے آجائے گا۔ آج بحرین، یمن، نائیجریا سمیت کئی ممالک میں یہ کردار اپنے وجود کا احساس دلا رہا ہے۔ صرف نعروں، تقریروں، جلسے جلوسوں اور شہید حسینی کے فرزند و پیروکار ہونے کے دعووں سے روح حسینی خوش نہیں ہوگی۔ شہید حسینی کا کردار اپنانے سے حق ادا ہوگا، کیونکہ اسی کردار کو ختم کرنے کے لیے طاغوتی طاقتوں نے شہید حسینی کو پانچ اگست 1988ء کے دن ہم سے جدا کیا تھا، لیکن "بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا" شہید حسینی کا عمل و کردار کل بھی زندہ تھا اور آج بھی۔ آیئے آج کے دن اس کردار کو اپنانے کے لیے تجدید عہد کریں۔
خبر کا کوڈ : 808926
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب