0
Tuesday 6 Aug 2019 07:41

سفارتی دنیا کا انوکھا واقعہ

سفارتی دنیا کا انوکھا واقعہ
اداریہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو سفارتی دنیا کا ایک انتہائی متحرک اور موثر فرد سمجھا جاتا ہے، وہ نوجوانی سے اس دنیا میں آئے اور مختلف سفارتی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔ موجودہ منصب یعنی وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ اقوام متحدہ میں ایران کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ اور اخبار نویسوں کے سامنے مختلف ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ان کی مسکراتی تصاویر ان کی شخصیت کی آئینہ دار اور فریق ممالک کو اپنی طرف جذب کرنے کا ذریعہ ہیں۔ میڈیا کے ساتھ ان کا دوستانہ رویہ زبان زد خاص و عام ہے، لیکن ٹاک شوز اور انٹرویوز میں جب ایران کے پرامن چہرے یا ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہر دم مسکرانے والے جواد ظریف کے چہرے پر بے انتہا سنجیدگی طاری ہو جاتی ہے، جو ان کے اندر کے کرب کو ظاہر کرتی ہے کہ دنیا ایک جانی پہچانی حقیقت کو کیوں برعکس بنا کر پیش کرتی ہے۔

جواد ظریف اپنے اکثر انٹرویوز یا میڈیا ٹاکس میں ایران عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ہمیں روایتی دفاعی ہتھیاروں کی تیاری سے کیسے روک سکتے ہیں جبکہ آپ نے ڈکٹیٹر صدام کے زمانے میں ایران کو خاردار تار دینے سے بھی انکار کیا تھا۔ ایران کے اس ہنس مکھ وزیر خارجہ پر دنیا میں آزادی اظہار اور جمہوریت کے سب سے بڑے ٹھکیدار امریکہ نے آج کل پاپندی عائد کر رکھی ہے۔ کسی ملک کے وزیر خارجہ پر پابندی یعنی اس ملک کی آواز اور موقف پر پابندی کے مترادف ہوتی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے گذشتہ روز اپنی ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ میں اس بار نیویارک گیا تو مجھے یہ پیغام دیا گیا کہ اگر تم نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ سے ملاقات نہ کی تو تم پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ ڈاکٹر جواد ظریف کے بقول جب میں نے امریکیوں کی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے امریکی صدر سے ملاقات سے انکار کر دیا تو امریکی حکام نے حسب دھمکی میرے اوپر پابندی عائد کر دی۔

جواد ظریف پر امریکی پابندی کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے ایران کو اپنا موقف پہنچانے میں کیا دقت پیش آسکتی ہے۔ اس سے صرف نظر کرتے ہوئے سفارتی دنیا کے اس انوکھے واقعہ پر سفارتکاری کے عمل کو امن و آتشی کی ضمانت اور جنگ و جدل کو عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھنے والے دانشور اور تھنک ٹینک حیران و ششدر ہیں کہ صدر ٹرامپ کا یہ فیصلہ جنگل کے قانون کی خرابیوں کو بھی عبور کرتا نظر آرہا ہے۔ امریکی صدر کے اس رویئے دیکھتے ہوئے یہ پیشنگوئی کی جاسکتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی صدر ہتھیاروں کو لہراتے ہوئے داخل ہوں اور دنیا کے تمام ممالک کے سربراہوں اور نمائندگان کو گن پوائنٹ پر لیتے ہوئے یہ حکم دیں کہ میرے تمام احکامات کو مانو ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 809114
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب