0
Wednesday 7 Aug 2019 08:40

آئینی المیے سے نئے فلسطین تک

آئینی المیے سے نئے فلسطین تک
اداریہ
ہندوستان کی پارلیمانوں لوگ سبھا اور راجیھا سبھا نے کشمیر کے بارے میں جو قانون پاس کیا، اس سے برصغیر پاک و ہند سمیت کشمیر کے موضوع سے وابستہ تمام غیر جانبدار حلقے بھی حیران و پریشان ہوگئے ہیں۔ اکیسویں صدی میں جمہوریت نے یہ رنگ بھی دکھانے تھے، کوئی اندازہ بھی نہیں کر رہا تھا۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک اور دنیا کی ایک بڑی جمہوریت نے ووٹوں کی طاقت پر ایک ایسی قوم کے بارے میں چند گھنٹوں میں فیصلہ دے دیا، جو گذشتہ سات عشروں سے اپنے خون، ناموس اور مستقبل کی قربانی دیتی چلی آرہی ہے۔ ان مائوں جن کے جواں سال بچے، وہ بوڑھے باپ جن کی زندگی کا سہارا، وہ بہنیں جن کے بھائی، وہ سہاگنیں جن کے سہاگ، وہ معصوم بچے جن کے باپ کشمیر کی حق خودارادیت کی تحریک میں خاک و خوں میں نہلا گئے، ہندوستانی جمہوریت کی اس ادا پر غم و اندوہ کے سمندر میں غرق ہوگئے ہیں۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمں ہندوستانی آئین کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ اور سوا کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل اس خطے کے مظلوم عوام کے استحصال پر انگشت بدندان ہیں۔ کشمیر کی تاریخ اور جغرافیہ ہندوستانی جمہوریت کے اس فیصلے پر کیا ردعمل دکھائے گا، روز روشن کی طرح واضح ہے۔ ہندوستانی پارلیمانوں نے ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے اپنی اکثریت کو تو ثابت کر دیا، لیکن کیا پارلیمانوں کے اندر کسی قوم کی خواہشات اور امنگوں کو ووٹوں کی اکثریت سے دبایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو جمہوریت کے بلآخر دینا پڑے گا۔ ہندوستان میں اس بظاہر جمہوری لیکن کشمیری عوام کے استحصال کے آمرانہ فیصلے کو ہندوستانی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دھبہ اور ہندوستانی جمہوریت کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ تصور کیا جائے گا۔

ہندو توا اور حکمران جماعت بی جے پی کے حامی آر ایس ایس جیسے ادارے اور انتہاء پسند ہندو تنظیمں بہت خوش اور جشن سرور منا رہی ہیں، لیکن یاد رکھیں کشمیر کی زمین کو تو پارلیمانی فیصلوں سے ہندوستان کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے، لیکن کشمیر کی سرزمین پر بسنے والے کشمیریوں کے دلوں کو ہندوستان کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ مین بھی 367 کے مقابلے میں صرف 67 حریت پسندوں نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جو خود اپنی جگہ پر ایک علامت ہے۔ ہندوستان میں اس فیصلے کو آئینی المیے اور بعض تجزیہ نگاروں نے تو اسے برصغیر پاک و ہند میں ایک نئے فلسطین کی تشکیل سے تعبیر کیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں دنیا کی حریت پسند تحریکیں اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 809306
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب