6
Wednesday 7 Aug 2019 16:03

بھارت کا کشمیر پر نیا قبضہ، ایک جائزہ

بھارت کا کشمیر پر نیا قبضہ، ایک جائزہ
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
کشمیر کے حوالے سے بھارت کے حالیہ اقدامات کے تناظر میں یہ جائزہ پیش خدمت ہے، البتہ اس میں چند پہلوؤں کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ قبضہ تو پرانا ہی ہے لیکن بھارت نے اسکو نئی حیثیت دی ہے، اس لئے ایک زاویئے سے یہ نئی حیثیت اور نوعیت کا قبضہ ہے۔ یقینی طور پر تازہ ترین کشیدگی کا ذمے دار بھارت ہے، جس نے اپنے زیر انتظام مقبوضہ جموں، وادی کشمیر اور لداخ کی خود مختاری کو تسلیم کرنے والی آئینی شق 370 کو عجلت میں جاری کئے گئے صدارتی حکمنامے کے ذریعے منسوخ کر دیا ہے۔ پاکستان تو شروع سے ہی اس شق کو نہیں مانتا تھا۔ موجودہ کشیدگی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیئے، کیونکہ یہ جنوبی ایشیاء کے امن کو ایک اور مرتبہ خطرے میں ڈال چکی ہے اور پاکستان اور بھارت اب نیوکلیئر اسلحے سے لیس ملک ہیں۔ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لئے جن چند پہلوؤں سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے، وہ اس مسئلے کا تاریخی پس منظر، قانونی حیثیت، کشمیری، بھارتی اور پاکستانی موقف و طرز عمل اور بین الاقوامی برادری کا موقف و طرز عمل ہیں۔

اس تنازعے کا اصلی ذمے دار برطانوی سامراج تھا، جس نے جاتے جاتے جغرافیائی تقسیم کے اصل فارمولا میں دھاندلی کرکے اس علاقے کو ایسا متنازعہ بنا دیا کہ دونوں ملک اس پر کنٹرول کی خواہش سے آج تک دستبردار نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر کنٹرول کے لئے لڑائیاں ہوئیں اور اس متنازعہ علاقے کا ایک حصہ پاکستان کے عملی کنٹرول میں آگیا تو دوسرا بھارت کے کنٹرول میں۔ پاکستان اپنے زیر انتظام علاقے کو آزاد جموں و کشمیر کہتا ہے اور بھارت کے زیرانتظام علاقے کو مقبوضہ کشمیر کہتا ہے اور بھارت کے حالیہ اقدامات نے پاکستان کے موقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔ بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر وہ واحد ریاست تھی، جس نے باقاعدہ مذاکرات کرکے اپنی بہت سی شرائط کو منواکر ایک خاص آئینی انتظام کروایا تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کی بھارت سے الحاق کے معاہدے پر دستخط کی تاریخی شہرت زیادہ ہے، لیکن اسکے بعد کے بہت سے حقائق کم بیان کئے جاتے ہیں۔

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 کوئی ایسی آئینی شق نہیں ہے کہ جو بعد میں بھارتی آئین کا حصہ بنائی گئی ہو بلکہ بھارت کے پہلے باقاعدہ آئین جو 26 جنوری 1950ء میں نافذالعمل ہوا، آرٹیکل 370 اس کا بھی اٹوٹ انگ تھا۔ اس سے پہلے جموں اور کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ اور بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے مئی تا اکتوبر 1949ء، پانچ مہینے اس مجوزہ آئینی شق پر تفصیلی بحث کی تھی۔ 17 اکتوبر 1949ء کو آئین ساز اسمبلی نے اس کو منظور کیا تھا۔ یاد رہے کہ شروع سے ہی پاکستان نے اس انتظام کو قبول نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر کا الحاق فطری اور منطقی لحاظ سے اس وقت نوزائیدہ مسلم اکثریتی ملک پاکستان کے ساتھ ہوتا نظر آرہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ بھارت کے ساتھ الحاق پر پنڈت جواہر لال نہرو کے دیرینہ دوست شیخ عبداللہ کو پاکستان کے حامی کشمیریوں نے ہمیشہ غدار سمجھا، البتہ یہ الگ موضوع ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ بھارت کے قیام سے قبل گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء نافذ تھا اور بعد ازاں انڈیا انڈیپنڈنس ایکٹ 1947ء نافذ العمل ہوا تھا۔ بھارت میں باقاعدہ آئین نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ یہ آخر الذکر قانون 25 جنوری 1950ء تک نافذالعمل رہا تھا۔ بات ہو رہی ہے بھارتی آئینی شق 370 کی، جس کے تحت دونوں فریق یعنی بھارتی وفاق (مرکزی ریاست) اور کشمیر پابند قرار پائے کہ یکطرفہ طور پر اس کو نہ تو منسوخ کرسکتے ہیں اور نہ ہی تبدیل۔ اس زاویے سے بھی بھارت کی مودی سرکار کے دور میں کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے، یہ سب کچھ بھارت کے اپنے آئین کے تحت بھی غیر آئینی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اسے بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور شاید وہاں سے فیصلہ مودی سرکاری کی خواہش کے برعکس آئے، لیکن اس وقت بھارت میں ہندو نیشنلزم اپنے عروج پر ہے، اسلئے وہاں عدلیہ آزادنہ فیصلہ کر پائے گی، اس پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ 6 اگست 2019ء کو عالمی عدالت انصاف نے بھی اپنے بیان میں جموں اور کشمیر کی خود مختاری اور خاص حیثیت کی منسوخی کو ان کے حق نمایندگی اور شراکت کی خلاف ورزی پر مبنی قرار دیا ہے کہ جس کی ضمانت بھارت کے آئین اور انٹرنیشنل لاء نے دے رکھی ہے۔ ہیگ عدالت نے اسے کشمیر اور بھارت میں قانون کی حکمرانی اور حقوق انسانی پر ضرب بھی قرار دیا ہے۔ اس بھارتی فیصلے سے قبل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ، سیاسی قائدین کی بھارت کی جانب سے بلاجواز گرفتاریاں، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندیاں اور احتجاج کو کچلنے کے لئے مزید فوجی تعیناتی کا تذکرہ بھی عالمی عدالت انصاف کے بیان میں کیا گیا ہے۔
 
عالمی عدالت انصاف کے سیکرٹری جنرل سام ظریفی نے اپنے بیان میں بھارت کے ان اقدامات کی مذمت بھی کی ہے اور اسے بھارتی اور بین الاقوامی قانونی معیارات کے بھی خلاف قرار دیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے حقوق انسانی کی رپورٹس اور سفارشات کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق جموں اور کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کا احترام کرے اور ان کے حقوق کا نہ صرف احترام کرے بلکہ انکے حقوق کا تحفظ بھی کرے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کے ردعمل سے زیادہ اہمیت اور حیثیت عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کے ردعمل کی ہے۔
 
بظاہر بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور رہنماؤں میں سے بعض نے مودی سرکار کے ان اقدامات کی مخالفت کی اور ان پر تنقید بھی کی ہے، لیکن جس طرح پاکستان میں بھارت کے موضوع پر پاکستان میں ایک جذباتی ردعمل ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ بھارت میں یہ جذباتیت موجود ہے۔ پاکستان کشمیر کو شہہ رگ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ۔ مودی سرکار نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنانے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اب یہ مودی سرکار کا ناکام سیاسی خودکش حملہ ہے یا کامیاب چال، یہ تو آنے والے وقت میں ظاہر ہوگا، جو چیز ابھی کہی جاسکتی ہے، وہ یہ ہے کہ مودی سرکار نے کشمیر کی خاص حیثیت اس وقت ختم کی ہے، جب پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ پاکستان حکومت یوں ظاہر کر رہی تھی، گویا ٹرمپ کے بیان سے کشمیر پاکستان کا حصہ بن گیا، لیکن مودی سرکار نے کشمیریوں یا پاکستان ہی کو نہیں بلکہ ٹرمپ سمیت پوری دنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ کشمیر کے ایشو پر قوت نافذہ ان کے پاس ہے اور وہ اسکا استعمال بھی کرسکتے ہیں بلکہ کرچکے ہیں۔
 
یعنی مودی سرکار نے پاکستان حکومت کی ٹرمپ سے توقعات کے کھوکھلے پن کو ظاہر کر دیا ہے۔ بھارت نے جو کچھ کیا ہے، وہ ٹرمپ کے بیانات کا ردعمل ہی ہے۔ اب امریکی صدر بالکل خاموش ہیں۔ محض ایک بیان امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان خاتون نے جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے بھارت کے موقف کا تذکرہ کیا ہے کہ بھارت اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دے رہا ہے جبکہ اس بیان میں پاکستان کے موقف کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ بھارتی صدارتی حکمنامے میں لداخ کی حیثیت بھی تبدیل کی گئی ہے، جس پر چینی حکومت نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ البتہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر پر بھارت کے فیصلے پر اس کا ردعمل لداخ ایشو پر ردعمل سے مختلف ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے جموں و کشمیر سے متعلق سوال کے جواب میں 6 اگست 2019 کو کہا ہے کہ:
China is seriously concerned about the current situation in Jammu Kashmir. China's position on the Kashmir issue is clear and consistent. It is also an international consensus that the Kashmir issue is an issue left from the past between India and Pakistan. The relevant sides need to exercise restraint and act prudently. In particular, they should refrain from taking actions that will unilaterally change the status quo and escalate tensions. We call on both India and Pakistan to peacefully resolve the relevant disputes through dialogue and consultation and safeguard peace and stability in the region.
 
جبکہ لداخ سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا موقف تھوڑا مختلف تھا:
China is always opposed to India's inclusion of the Chinese territory in the western sector of the China-India boundary into its administrative jurisdiction. This firm and consistent position remains unchanged. Recently India has continued to undermine China's territorial sovereignty by unilaterally changing its domestic law. Such practice is unacceptable and will not come into force. We urge India to exercise prudence in words and deeds concerning the boundary question, strictly abide by relevant agreements concluded between the two sides and avoid taking any move that may further complicate the boundary question. بھارت کے وزیر خارجہ11 اگست کو چین کے تین روزہ دورے پر جا رہے ہیں۔ شاید یہ معاملات وہاں بھی زیر بحث آئیں۔
 
اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر سے متعلق یہ قدم نپا تلا ہے، سوچ سمجھ کر، پوری کیلکیولیشن کرکے اٹھایا گیا ہے یا جلد بازی میں کوئی فیصلہ ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ سے وزیراعظم عمران خان کی ملاقات کے بعد کم سے کم دو ہفتے گذر چکے ہیں، تب بھارت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کس سیاق و سباق میں کی گئی تھی؟! کیا ٹرمپ حکومت بھارت کے موقف سے آگاہ نہیں تھی؟ یا پھر بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو ترجیح دے رہی تھی؟ یا پھر یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ تھا؟ یعنی یہ کہ پہلے کشمیر ایشو کو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنایا جائے اور اس پر پہلے سے جو طے کر لیا گیا ہے، اس کو رسمی حیثیت دے کر تسلیم کر لیا جائے۔ یعنی بھارت کے زیرانتظام کشمیر بھارت کا حصہ، آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ؟!! لیکن اس تنازعے کا تیسرا فریق چین ہے، جسے جموں اور کشمیر سے زیادہ لداخ میں دلچسپی ہے۔ یا پھر مغربی بلاک بھارت کی مزید جغرافیائی تقسیم کے چکر میں ہے؟ یا پھر پاکستان، بھارت اور کشمیریوں سے الگ الگ معاملات طے کرچکا ہے۔؟
 
جو کچھ بھی ہے، وقتی طور پر مودی سرکار نے ٹرمپ عمران ملاقات کے بعد انصافین حکومت کی جانب سے جو تاثر دیا جا رہا تھا، اس کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔ دنیا کی جانب سے روایتی بیانات آئے ہیں، بہت زیادہ ہوا تو مذمت کر دیں گے، مگر اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے اور اس ساری صورتحال میں یہ تلخ حقیقت ایک اور مرتبہ سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے نالائق حکمران جس امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنا دوست کہتے نہیں تھکتے، انہوں نے کشمیر کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے پاکستان کو کسی بھی قسم کی عملی مدد فراہم نہیں کی ہے۔ امریکا کی بھارت کے ساتھ تجارتی جنگ اور چین کے بھارت کے ساتھ تنازعات کے باجود ان دونوں ملکوں کی جانب سے بھی بھارت کے خلاف کوئی ٹھوس حمایت پاکستان کو ملنے کی امید نہیں ہے۔ البتہ بھارت نے اسرائیل کی نقل میں کشمیر کو فلسطین بنانے کی کوشش کی ہے تو کشمیری بھی فلسطینیوں کی طرح مسلح مزاحمت و انتفاضہ کے علاوہ کسی پرامن ردعمل کا نہیں سوچیں گے!
خبر کا کوڈ : 809407
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب