0
Thursday 8 Aug 2019 16:25

کشمیر پر حالیہ بھارتی جارحیت، کس ملک کا کیا ردعمل آیا؟

کشمیر پر حالیہ بھارتی جارحیت، کس ملک کا کیا ردعمل آیا؟
رپورٹ: ایس ایم عابدی

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متنازعہ بھارتی فیصلے کے بعد سے کشمیر میں تنازعہ کی کیفیت میں شدت آچکی ہے اور اس کے اثرات پاکستان اور بھارت تعلقات میں بھی دکھ رہے ہیں، بھارتی حالیہ اقدام سے جہاں پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل آیا ہے، وہیں اب تک عالمی ردِعمل کیا رہا اور کس کس ملک نے بھارتی حالیہ اقدام کے بارے میں کیا مؤقف اپنایا۔

جرمن ردِعمل
برلن میں جرمن دفتر خارجہ کی ترجمان ماریا آیڈیبار نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم کشیدہ حالات اور جموں و کشمیر میں سامنے آنے والی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہم نے بھارتی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کے فیصلے کے بعد علاقے کی صورت حال کے تناظر میں (اپنے شہریوں کے لئے) سفر اور سکیورٹی سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں، ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ بھارتی حکومت متاثرہ ریاست کے لئے آئندہ جو بھی منصوبہ رکھتی ہے، اس میں علاقے کے لوگوں کے آئینی اور شہری حقوق کو پیش نظر رکھے، ہم بھارتی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل یا علاقے کے لئے اپنا جو منصوبہ رکھتی ہے کے بارے میں متاثرہ عوام سے مذاکرات کرے اور انہیں آگاہ کرے، ہم امید کرتے ہیں کہ صورت حال پر سکون رہے گی، مذاکرات کئے جائیں گے اور حالات مزید کشیدہ نہیں ہوں گے۔

ایران کا مؤقف
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارتی فیصلے پر جمہوری اسلامی ایران نے کہا ہے کہ ایران کشمیر سے متعلق حالیہ بھارتی فیصلے کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔ ترجمان ایرانی دفتر خارجہ عباس موسوی نے کہا کہ حالیہ صورتحال سے متعلق پاکستانی اور بھارتی حکام نے اپنا نقطہ نظر دیا ہے جس پر ایران غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ علاقائی قوموں کی خوشحالی کیلئے پرامن طریقے سے بات چیت کو آگے بڑھائیں۔ ترجمان ایرانی دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہمارے علاقائی شراکت دار اور دوست ممالک ہیں۔ ایرانی دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو چاہیئے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ تمام مسائل کا حل بات چیت سے تلاش کریں۔

اقوام متحدہ نے کیا کہا؟
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریش نے کشمیر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ عالمی ادارے کے فوجی مبصرین کے گروپ نے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب عسکری سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔

امریکی ردِعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کی پیش کش کی تھی، جسے بھارت نے مسترد کردیا تھا۔ حالیہ دنوں کے واقعات کے بعد امریکا نے بھی پاکستان اور بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر امن قائم رکھیں۔ واشنگٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان مورگن اوٹاگس نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال کے بارے میں دیئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں گرفتاریوں کی اطلاعات پر تشویش ہے اور ہم درخواست کرتے ہیں کہ شہریوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ 

ترک صدر طیب اردوان پاکستان کی حمایت میں
ترک صدارتی دفتر کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر سے متعلق بھارتی اعلان کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے انہیں تازہ صورت حال اور پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق صدر اردوان نے صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

بھارتی اعلان سے قبل او آئی سی کا اظہار تشویش
اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے اتوار چار اگست کے روز بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور وہاں مزید بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازع کشمیر کو پر امن طریقے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا، تاہم بھارت کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے فوری بعد اس تنظیم نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
خبر کا کوڈ : 809480
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب