0
Friday 9 Aug 2019 07:53

کشمیر اور افغانستان بارگینگ

کشمیر اور افغانستان بارگینگ
اداریہ
ہندوستان کی حکمران جماعت بی جے پی نے کشمیر کے بارے میں آرٹیکل 370 تین سو ستر اور 35 اے کو ختم کرنے کا جو اعلان کیا ہے، اسے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک حلقے کا یہ کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت اتنا بڑا فیصلہ جو اقوام متحدہ میں بھی موجود ہے، اس کو بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ، فرانس، برطانیہ اور روس کو اعتماد میں لئے بغیر نہیں کرسکتی اور بعض تجزیہ نگار تو اس بات کی کڑیاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اس ملاقات سے بھی جوڑتے ہیں کہ امریکی صدر نے جو ثالثی کی پیشکش کی تھی، اس کے پیچھے وہ بریفنگ تھی، جو ہندوستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے ٹرامپ کی دی گئی تھی۔ تجزیہ نگاروں کے بقول ڈونالڈ ٹرامپ نے یہ بات ہندوستانی حکومت کے اعلان کے بعد کرنا تھی، لیکن ڈونالڈ ٹرامپ کی غیر حاضر دماغی اس بات کا باعث بنی کہ انہوں نے امریکی ثالثی کا پیشگی اعلان کر دیا، جس کی وجہ سے ہندوستان کو بھی اپنے پروگرام میں سرعت لانا پڑی۔

تجزیہ نگاروں کی ایک جماعت کا یہ کہنا ہے کہ افغانستان کے ایشو سے بھارت کو نکال باہر کرنے کے امریکی اور پاکستانی مذاکرات کے ردعمل میں ہندوستان نے  کشمیر کارڈ کھیلا ہے اور اس کی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ افغانستان میں امریکی امور کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد پاک ہند کشیدگی سامنے آنے کے فوری بعد طالبان سے مذاکرات منسوخ کرکے فوراً دہلی گئے ہیں۔ ہندوستان افغانستان میں گذشتہ کئی برسوں سے فوجی، اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں سمیت کئی میدانوں میں وسیع سرمایہ گزاری کرچکا ہے، وہ افغانستان سرحد کو پاکستان کے لئے کبھی بھی ایک پرامن اور پائیدار سرحد میں تبدیل نہیں ہونے دے گا، اسی طرح افغان حکومت کو بھی بے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتا۔ خطے کی صورتحال کے تناظر میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو رہی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو چھیڑنے کا زمان و مکان نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اسے بی جے پی کا جذباتی قدم قرار دے کر ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کی ثالثی کے پیچھے چھپے ہوئے کئی اسلام دشمن اقدامات نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔ امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی سامراجی ملک اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان جیسے ایٹمی توانائی کے حامل ملک کو پرامن اور پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتا۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لئے حالیہ نرم گوشہ بہت سے اندیشوں کے سر اٹھانے کا باعث بن رہا ہے۔ کہیں امریکی ثالثی کا اعلان پاکستان کی تقسیم کے ایجنڈے کی طرف تو رہنمائی نہیں کر رہا؟ امریکہ کا ماضی گواہ ہے کہ اس نے خطے کے مسائل میں کبھی بھی مسلمان ممالک کے مفاد میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ امریکہ کی ثالثی خطے کو ایک ایسی دلدل میں گراسکتی ہے، جس میں کشمیر کی صورتحال بد سے بدتر بھی ہوسکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 809743
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب