0
Friday 9 Aug 2019 17:28

آیت اللہ محسنی، ایک عالم سوگوار ہے

آیت اللہ محسنی، ایک عالم سوگوار ہے
تحریر: ثاقب اکبر

آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد آصف محسنی 5 اگست 2019ء کو رحلت فرما گئے، اس روز ہم اپنے محبوب شہید علامہ عارف حسین الحسینی کا روز شہادت منا رہے تھے کہ غم فزوں تر ہوگیا۔ آیت اللہ آصف محسنی جہان علم و فضل میں بلند پایہ مقام رکھتے تھے، وہ مرد جہاد اور میدان سیاست کے کہنہ کار شناور بھی تھے۔ انھوں نے اتحاد امت کے لیے ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں کہ ہر کوئی ان کے لیے رطب اللسان اور خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ ان کی جدائی کا غم ہے کہ جس نے ایک عالم کو سوگوار کر دیا ہے۔ اتنا بڑا انسان ہم سے رخصت ہوا کہ ملکوں ملکوں، بستی بستی جس کی جدائی پر اہل ایمان و اسلام غم رسیدہ ہیں۔ کم لوگ ہوتے ہیں کہ جو دنیائے دانش میں کچھ نیا کرکے دکھاتے ہیں اور کاروان علم کو کسی نئی منزل تک پہنچاتے ہیں۔ آیت اللہ آصف محسنی انہی گنے چنے افراد میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ علم حدیث میں ان کے چند کارنامے ہمیشہ اہل علم و تحقیق سے داد و تحسین پاتے رہیں گے۔ علم اخلاق پر ان کی کتاب قرن ہا قرن میں کیے ہوئے اس شعبے میں کارناموں میں ایک گرانبہا اور معتبر اضافہ ہے۔ جس میں ہر روایت صحت کے علمی اصولوں پر پرکھ کر شامل کی گئی ہے۔ علم اصول میں ان کی کتاب ماہرین علم اصول سے خراج تحسین وصول کرتی رہے گی۔ فقہ میں انھوں نے طبی اور جہادی موضوعات پر الگ سے رسالے مرتب کیے۔ انھوں نے اتحاد امت کے لیے بھی ایک فقیہ کی حیثیت سے فتاویٰ بیان کیے۔

 انھوں نے ایک ایسی یونیورسٹی قائم کرکے دکھا دی، جس میں شیعہ سنی مکاتب فکر کے طلبہ اور علماء اپنے اپنے مکتب کے مطابق تعلیم دیتے اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کلامی موضوعات پر بھی ان کا چھوڑا ہوا سرمایہ قابل قدر ہے۔ وہ شام، عراق، ایران، افغانستان اور پاکستان میں دینی اور علمی مراکز میں تدریس کرتے رہے۔ اس طرح سے ان کے طلبہ ملکوں ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے علم کی دھاک ہر جگہ پر بیٹھی ہوئی ہے۔ افغانستان جیسے تباہ حال ملک میں انھوں نے تعمیری جذبے سے بہت سے کام کیے۔ جمہوری اور سیاسی عمل میں ان کا کردار نقش آٖفریں رہا۔ افغانستان کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ افغانستان انہی کی تحریک پر رکھا گیا۔ انھوں نے ایک ایسا آئین تیار کرنے میں کردار ادا کیا، جو سب کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور سنی اور شیعہ کو برابر کے شہری بنا دیتا ہے۔ انھوں نے تمدن کے نام سے ایک ٹی وی چینل شروع کیا، جو اسلامی افکار و تہذیب کا ترجمان بن گیا۔ ان کی کہی ہوئی باتیں سند کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ اپنی چوراسی سالہ فعال اور بھرپور زندگی میں ایک سو اسی کے قریب کتابیں چھوڑ کر جانا ایک پرکار ایمانی وجود کی اعجاز نمائی کے سوا اور کیا کہلا سکتا ہے۔

7 اگست 2019ء کو جامعہ الکوثر اسلام آباد میں مرحوم آیت اللہ آصف محسنی کے لیے مجلس ترحیم منعقد ہوئی، جس میں علماء اور طلاب کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ ایسے بھی افراد تھے، جو ان کی صحبت سے مستفید ہوچکے تھے۔ دینی طلبہ کے لیے ان کی شفقتوں کا بیان تھا، ان کی کرم گستری کے تذکروں پر آنکھیں صرف نم نہ ہوتی تھیں، برسنے اور چھلکنے لگتی تھیں۔ شیخ انور نجفی سٹیج پر آئے تو بار بار آیت اللہ آصف محسنی کے تذکرے سے ان کی آواز رندھ جاتی۔ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر جاتیں اور وہ مشکل سے چند الفاظ کہہ پاتے۔ اس لیے کہ ان کے لیے آیت اللہ آصف محسنی کی شخصیت فقط شنیدہ نہیں تھی، دیدہ بھی تھی اور چشیدہ بھی۔ ان کی محبتوں کا مزہ اور ان کے خلق کی چاشنی ان کے ملنے والوں کی روح کو شیریں کر دیتی تھی۔ وہ طلبہ کو پوری توجہ سے تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرنا کبھی نہ بھولتے تھے۔ طلبہ ان سے ملتے تو ہمیشہ سوال کرتے اور وہ پوری تازگی سے جواب دیتے۔ خود وہ بزرگ علماء کے مابین ہوتے تو علمی تبادلہ خیال کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔

 ان کی وفات پر دنیا کے طول و عرض سے اظہار رنج و تاسف کا سلسلہ جاری ہے: ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے تعزیتی بیان میں فرمایا ہے: "عالم مجاہد، مرحوم، آیت اللہ جناب الحاج شیخ محمد آصف محسنی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت پر میں افغانستان اور ایران میں ان کے تمام عقیدتمندوں اور ان کے محترم خاندان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ اللہ کے راستے میں دسیوں برس سیاسی، ثقافتی، علمی اور اجتماعی میدانوں میں انھوں نے اسلامی ملک افغانستان میں جہاد کیا۔ اس ملک کے شجاع اور غیرت مند لوگوں کو ساتھ لے کر جدوجہد کی۔ انھوں نے افتخار آمیز کارنامے انجام دیئے، جو ان کے  ایک بلند مرتبہ عالم ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ رہ جانے والی برکتیں ان کی گراں قدر روحانی میراث کی حیثیت رکھتی ہیں۔" آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے اس موقع پر اپنے تعزیتی بیان میں فرمایا ہے: "عالم جلیل آیت اللہ الحاج شیخ محمد آصف محسنی (طاب ثراہ) جو بلندپایہ علماء، مخلص اہل فکر، راہ آزادی کے مجاہدین اور ملت شریف افغانستان کی وحدت کے علمبرداروں میں سے تھے، کا بچھڑ جانا ایک بہت بڑا نقصان ہے۔"

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ دوران جہاد ان کی جہادی مساعی اور علوم اسلامی کے لیے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ ان کی رحلت ملک اور عالم اسلام کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ ان کے علمی آثار اور دینی مراکز افغانستان اور عالم اسلام کی آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ آیت اللہ آصف محسنی عالم اسلام کی عظیم شخصیات میں سے تھے۔ انھوں نے عالم اسلام کے لیے ہمیشہ عدل و مساوات کا پیغام پیش کیا۔ ایسی خیر خواہ، مصلح، نیک نام اور خوش کلام عالم دین کی شخصیت کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ انھوں نے ہمیشہ اسلامی اخوت، پرامن بقائے باہمی اور مذہبی رواداری کے لیے کوشش کی۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزائی نے کہا کہ وہ اس دور کی روحانی، عالم اور علم دوست شخصیت تھے، جنھوں نے اپنی بابرکت زندگی اسلامی اور سماجی علوم کی اشاعت میں انکساری کے ساتھ بسر کی۔ اخوت اسلامی اور ملک کے عوام کی خدمت کے لیے ان کی کوششیں گراں بہا ہیں۔

ان کی رحلت پر افغانستان کی حزب دعوت اسلامی کے سربراہ عبد الرب رسول سیاف، افغانستان کے صدارتی امیدوار حنیف اتمر، جنرل دوستم، نائب صدر محمد محقق جیسی بلند پایہ افغانی شخصیات نے اظہار رنج و غم کیا ہے اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا بھی اس موقع پر بیان جاری ہوا ہے۔ پاکستان کے ممتاز شیعہ علماء کی جانب سے بھی تعزیتی بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں علامہ سید ساجد علی نقوی اور علامہ راجہ ناصر عباس بھی شامل ہیں۔ لبنان کے معروف عالم اور امام جمعہ بیروت سید علی فضل اللہ نے اس موقع پر آیت اللہ محسنی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ راقم نے جامعہ الکوثر میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی شخصیت اور خدمات نیز ان کی رحلت پر اظہار رنج کے لیے ایک نظم پیش کی۔ علماء اور طلباء نے بڑی محبت سے اس کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ہم اپنے قارئین کے لیے اسے یہاں نقل کیے دیتے ہیں:
نور ہی نور تھا روشنی روشنی
خیر ہی خیر تھا راہ حق کا دھنی
داد و تحسین سے تھا ہمیشہ غنی
آصف محسنی آصف محسنی

معرکہ زن رہا ظلم و ظلمات سے
قوم کو کھینچ لایا سیہ رات سے
اہل باطل سے جس کی نہ ہرگز بنی
آصف محسنی آصف محسنی

آج صحن چمن سے ہویدا ہوا
وہ گیا تو خلا جیسے پیدا ہوا
رُوح پرواز کی، اُڑ گئی روشنی
آصف محسنی آصف محسنی

فیض صحبت سے ناقص بھی کامل ہوئے
کتنے اس کے مریدوں میں شامل ہوئے
آ گئے کتنے پھر چھوڑ کر دشمنی
آصف محسنی آصف محسنی

ایسا توحیدِ اُمت کا داعی گیا
خود رہا بن کے اُمت میں حبلِ خدا
قاسمِ خیر تا لمحۂ جاں کنی
آصف محسنی آصف محسنی

حق کی جانب رہا حق کی جانب گیا
حق کی خاطر جیا حق کی خاطر مرا
حق کی خاطر رہی دوستی دشمنی
آصف محسنی آصف محسنی

وہ قلم لے کے اُٹھا تو دیکھا گیا
وہ عَلم لے کے اُٹھا تو دیکھا گیا
دشمنوں کی صفوں میں رہی سنسنی
آصف محسنی آصف محسنی

درد دل میں ہے جاں میری رنجور ہے
غم کے کوہ گراں سے بدن چور ہے
اُس کے صدمۂ فرقت سے دل پہ بنی
آصف محسنی آصف محسنی

مکتب اہل بیت نبیؐ کا امیں
سوئے حق ہے سدھارا مگر بالیقیں
جھولیاں بھر کے، مکتب کو کرکے غنی
آصف محسنی آصف محسنی

علمِ فقہ و اصول و رجال و کلام
سیرت آل احمد علیہم سلام
در ہمہ دارد آثار جا ماندنی
آصف محسنی آصف محسنی
خبر کا کوڈ : 809792
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب