0
Thursday 8 Aug 2019 20:22

شہید علامہ عارف الحسینی کی 31ویں برسی پر سید علی مرتضیٰ زیدی کی تقریر سے اقتباس

شہید علامہ عارف الحسینی کی 31ویں برسی پر سید علی مرتضیٰ زیدی کی تقریر سے اقتباس
ترتیب و تنظیم: سعید علی پٹھان

میں کوشش کروں گا کہ اس پروگرام میں تین نکات عرض کروں۔
1۔ شہادت کا اثر کیا ہوتا ہے؟
2- شہداء کی شخصیتوں میں خاص بات کیا تھی؟
3- قوم شہداء سے سیکھنا چاہتی ہے تو کیا کرنا چاہیئے؟
علامہ شہید عارف الحسینی کی شہادت کے بعد تہران میں ایک پروگرام ہوا تھا، جس میں شہید باقرالحکیم شہید نے شہید کی زندگی پر تقریر کی کہ اگر معاشرے میں ایک فعال آدمی کی شہادت ہوتی ہے تو اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے یہ نکات اٹھائے تھے۔ ایک نکتہ یہ تھا کہ اگر کسی کو شہید کیا گیا ہو، جیسے شہید باقر الصدر، شہید عارف الحسینی کو شہید کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس بندے کے اندر ایسی خصوصیات تھیں کہ دشمن سوائے شہید کرنے کے اس کا کوئی اور راستہ نہیں نکال سکا تھا۔ ان کے پاس بس ایک ہی راستہ تھا کہ اس کو شہید کر دیں۔ مثال کے طور پر اگر اس آدمی نے کوئی مفاہمت کرنی ہوتی تو دشمن شہید نہیں کرتا، دشمن کہیں نہ کہیں مفاہمت کر لیتا۔

دنیا میں طاقت کا مختلف طریقے سے استعمال ہوتا ہے۔ کبھی آپ جسمانی طاقت استعمال کرتے ہیں۔ جسمانی طاقت کے استعمال میں فوری نتائج نکلتے ہیں۔ تاہم اس میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ جو ہار گیا ہے، وہ پھر سر اٹھائے گا۔ مثال کے طور پر اگر زنجیروں میں جکڑے ہوئے آدمی کو موقع ملے کہ وہ اٹھے تو وہ یقیناً اٹھے گا۔ جسمانی طاقت کے استعمال سے فائدہ فوری تو ملتا ہے، مگر اس کا اثر پائیدار نہیں ہوتا ہے۔ جسمانی طاقت کیا آخری حربہ یہ ہوتا ہے کہ مار ڈالو، ختم کر دو، قیدی ہے، زندہ ہے، ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہو، تو مار دو۔ گو مار دینا بھی خطرناک ہے۔ اس سے بندہ تو مر جاتا ہے، مگر اپنی فکر کی نمائندگی میں روح چھوڑ کر جاتا ہے، وہ روح لوگوں کو اتنی استقامت میں لے جائے گی کہ مرنے پر آمادہ کرے گی۔ ہمارے مکتب میں مرنے والوں میں زندوں سے زیادہ طاقت ہے۔ خداوند متعال شہداء کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کو مردہ نہ کہو یہ قطعاً زندہ ہے۔ معاشرے زیادہ تر مردوں کے اثرات پر چلتے ہیں۔ ہمارے پاس تو شہادت کی آئیڈیالوجی ہے۔ خداوند متعال فرماتا ہے کہ ان کو مردہ نہیں کہو، یہ زندہ ہیں، خود بھی رزق پاتے ہیں اور آنے والوں کو بھی بشارتیں دیتے ہیں۔

سادہ طور پر کسی نے طاقت کا استعمال کیا، سامنے والے کو شکست دے دی، تو کیا معاملہ ختم ہوگیا۔ نہیں اس کا دماغ باقی ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی واپس آجائے۔ مار دیا تب بھی ختم نہیں ہوا، کیونکہ وہ تو لوگوں کو پیغام دے رہا ہے۔ اگر پہلے اس فکر پر لوگ مرنے پر تیار نہیں تھے تو اب اس کے ماننے والے مرنے کو بھی تیار ہیں۔ وہ خود تو اس فکر پر مرگیا، مگر اب اس فکر میں بہت طاقت آئے گی۔ اس کا مقابلہ کس طرح کریں؟ پہلہ حربہ مرنے والے کی موت کو غلط رنگ دے دیں۔ تفسیر کچھ اور کر دیں۔ دوسرا حربہ مرنے والے کی فکر کو منحرف کر دیں۔ امام خمینی نے شہید حسینی کی شہادت پر پیغام دیا کہ شہید کے افکار کو زندہ رکھیں۔ ان کو معلوم تھا کہ عارف حسینی کو شہید کرنے والے دشمن اب ان کے افکار کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دشمن، شخص کو شہید کرنے کے بعد اس کی شخصیت کو شہید کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ بعض اوقات اس شخص کو شہید نہیں کرتے مگر شخصیت کو شہید کر دیتے ہیں، یہ تب کرتے ہیں جب معلوم ہو کہ اس کی شخصیت کو موت کے بغیر بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایسی چال چلی جائے کہ بندہ تو زندہ رہے، مگر اس کی شخصیت کو ختم کردیا جائے۔

شہید عارف الحسینی اور ڈاکٹر نقوی وہ شخصیتیں تھیں کہ ان کی شخصیت کو ختم کرنا دشمن کیلئے ممکن نہ تھا۔ کچھ لوگ اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ آپ ان کی شخصیت کو مار نہیں سکتے، اس لئے ان کو طبیعی طور پر ختم کروا دیا جاتا ہے۔ شہید عاف الحسینی کی زندگی میں ان کی شخصیت کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ کیا کیا الزام نہیں لگائے گئے، مگر وہ ان تمام افواہوں کو اپنی شخصیت کے ذریعے دبا دیتے تھے۔ دشمن نے شہید عارف الحسینی کو ہم سے چھین لیا اور ہم نے غلطی یہ کی کہ شہید کا نام تو زندہ رکھا، مگر ان کے پیغام کو نہیں سمجھ سکے۔ ہمیں معلوم  ہے کہ شہید حسینی اور شہید نقوی کی شناخت میں امام خمینی کی شخصیت شامل ہے۔ ان لوگوں نے امام خمینی کی شخصیت پر بہت محنت کی، تابعداری دکھائی اور ان کے افکار کو پاکستاں میں پہنچانے کیلئے بےپناہ تکلیفیں اٹھائی۔ امام خمینی نے شہید حسینی کی شہادت پر جو تعزیتی خط لکھا تھا، اس کو شہید سے محبت رکھنے والے افراد کو ہر ہفتے پڑھنا چاہیئے۔ بہت کم لوگ پہچانتے تھے کہ وہ کرنا کیا چاہتے تھے۔؟

اسلام ناب محمدی
امام خمینی نے ان کی شخصیت کو درک کروانے کیلئے جو بنیادی نکتہ دیا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کے افکار کو زندہ رکھیں نیز یہ کہ اسلام کی دو صورتیں ہیں۔ ایک دین محمدی، جو کہ حقیقی اسلام ہے اور ایک وہ اسلام جو ظالمین نے متعارف کروایا ہے۔ ایک اسلام نبی اکرم (ص) لے کر آئے اور ایک اسلام دنیا کے ظالم لے کر آئے۔ جس کو ظالم پروموٹ کر رہے ہیں۔ امام خمینی نے خط کے اوپر لکھا تھا کہ شہید کے افکار کو زندہ رکھیں۔ شہید حسینی کی زندگی میں اہم پوائنٹ یہ ہے کہ وہ اسلام ناب محمدی کا نمائندہ تھا۔ ہم حج کے مناسک میں لبیک لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہیں، شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں، مگر وقت کے شیطان کے نمائندے اپنے سیٹلایٹ دیتے ہیں کہ ان کو دکھائیں۔ حج میں جس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، وہی ہمیں اپنا سیٹلائٹ دے رہا ہے۔ وقت کا شیطان ایک ایسا اسلام چاہتا ہے، جو اس کو چیلنج نہ کرے اور اس کی راہ کی رکاوٹ نہ بنے۔ اسلام، یہودیت اور عیسائیت کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ دین رہے، مگر روح دین نہ رہے۔ شہید حسینی جب قائد بننے کہ بعد ایران آئے تو ان کا والہانہ استقبال ہوا، جس میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی، مگر آیت اللہ جوادی آملی بھی آئے تھے۔ میں بعد میں سوچتا ہوں کہ آیت اللہ جوادی آملی تقریر سننے نہیں بلکہ شہادت کے احترام میں آئے تھے۔

آیت اللہ منتظری جن کی شخصیت بعد میں مورد تنازعہ ہوگئی، جن کو مجلس خبرگان نے جانشین امام مقرر کیا تھا، اس کا خط آیا تو آپ نے وہ خط وضو کرکے بعد میں لیا، وہ ان کا احترام اس لئے کرتے تھے کہ وہ امام خمینی کے نائب تھے۔ ایک بار شہید حسینی آیت اللہ منتظری سے ملنے گئے تو آیت اللہ منتظری نے شہید حسینی کو مخاطب کرکے کہا کہ پاکستان کے کچھ شیعہ علماء آپ کے مخالف ہیں، آپ ان سے مفاہمت کیوں نہیں کرتے تو شہید حسینی نے کہا کہ معذرت کیساتھ کہ آپ کو پاکستان کے حقائق کا کچھ علم نہیں ہے۔ شہید حسینی جس میدان میں لڑ رہے تھے، یہ وہی میدان تھا، جس میں اسلام محمدی اور اسلام آمریکائی کا مقابلہ تھا۔  ایک دین میں ظالموں کی مخالفت ہے اور ایک میں ظالموں کی حمایت ہے۔ جب کوئی شہید ہوتا ہے تو ذمہ داری یہ آتی ہے کہ اس کے پیغام کو زندہ رکھا جائے۔ اس کی تقاریر، تصانیف اور پیغام کو زندہ رکھنے کیلئے ادارے بنائے جاتے ہیں۔ شہید مطھری کی دنیاوی زندگی ختم ہوگی، مگر اب تک ان کی کتب، تقاریر اور تصانیف سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ شہید کے جانے سے معاشرے میں جو خلا پیدا ہوتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ اس کی فکر کو زندہ رکھیں۔ خطرہ یہ ہے کہ نام تو باقی رہے، لوگ نعرے لگاتے رہیں، مگر اس کی فکر پر کام نہ کریں۔ دنیا میں کتنے مسلمان زندگی گذار رہے ہیں اور ان میں سے کتنے عدل کے قیام کیلئے زندگی گذار رہے ہیں۔

شہید حسینی کی شخصیت کا پیغام یہ ہے کہ اسلام کی حقیقت کو سمجھیں، اسلام  کے معاشرے پر اثرات کو سمجھیں۔ ان کی شخصیت تشکیل کس طرح پاتی ہے کہ ان کے اندر ایک چیز یہ ہے کہ ان کی زندگی میں روزانہ خدا سے کوئی ملاقات ہے۔ ہر آدمی کہے گا ہم بھی نماز پڑھتے ہیں، کیا ہماری نماز خدا سے ملاقات ہے۔؟  ایک وقت جس میں یہ ہوتے ہیں اور خدا ہوتا ہے یہ چاہیئے۔ اگر کسی نے شہداء کرام کے راستے پر چلنا ہے، اسلام محمدی کو سمجھنا ہے، اس کو زندگی میں ایک وقت چاہیئے، جس میں وہ ہوں اور خدا ہو۔ ہماری زندگی میں ایک وقت ایسا ہو، جس میں ہم ہوں اور خدا سے ملاقات ہو۔ کوئی انسان استقامت نہیں دکھا سکتا، اگر خدا پیچھے نہ ہو۔ استقامت آسان چیز نہیں ہے، یہ مشکل کام ہے، اس میں سب سے بڑی مدد اللہ پاک سے آتی ہے۔ اگر کوئی زندگی میں ثابت کر دے تو پھر وہ کامیاب ہے۔ نبی اکرم پر استقامت کے بارے میں آیت نازل ہوئی کی تم اور جو تمہارے ساتھ ہیں، استقامت دکھائو۔ نبی تو استقامت دکھائیں گے، مگر ساتھ والوں کے لئے بھی ضروری ہے۔ استقامت کہاں سے آئے گی؟ استقامت خداوند کریم کیطرف سے آئے گی۔

قرآن مجید میں ہے کہ تم میری مدد کروگے تو میں تمہاری مدد کروں گا۔ اگر کسی انسان کی زندگی میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اللہ کیلئے کام کر رہا ہے تو پھر کامیابی ہے۔ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ اے پروردگار ہمارے قدموں کو ثابت قدم رکھ۔ ثبات قدمی خدا سے رابطہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں گڑگڑا کر خدا سے دعا مانگنی ہوگی کہ اے پروردگار ہمارے قدموں کو  ثابت قدمی عطا فرما۔ میرے اندر طاقت نہیں ہے کہ میں اس کو جھیل سکوں۔ جس رات انقلاب اسلامی آیا، اس کے اگلے دن یہ ہونا تھا کہ انقلاب آئیگا یا نہیں آئیگا تو اس رات امام خمینی نے اعلان کیا کہ سب لوگ سڑکوں پر نکل آئیں۔ لوگ ان کو سمجھا رہے تھے کہ سڑک پر آگئے تو مارے جائیں گے، امام نے حکم دیا کہ روڈ پر نکل آئیں۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ ان کے مشیر کون ہیں، جنہوں نے ان کو روڈ پر نکلنے کا مشورہ دیا ہے، ان کا کوئی مشیر نہیں، انہوں نے خود کہا ہے۔ امام خمینی کو یہ اطیمنان کہاں سے حاصل ہوا؟  بعد میں لوگوں نے بتایا کہ اس رات امام نے جا کر بہت دعائیں کی ہیں اور گڑگڑائے ہیں، ان کے کمرے میں نورانیت تھی۔

انقلاب کے دوران جتنی شہادتیں ہوئی ہیں اور کیا شہداء کا خون برداشت کرنا آسان تھا، جبکہ وہ چیونٹی کے مرنے پر بھی اس کا صدمہ برداشت کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ جابر، ظالم اور نفس پرست کیلئے یہ مشکل نہیں کہ کتنے لوگ مارے جائیں، مگر ایک متقی انسان کیلئے کتنا مشکل ہوتا ہے کہ کوئی مشکل اٹھائے۔ ایک واقعہ ہے کہ امام خمینی نے گھر کے باہر جو سپاہ کے جوان پہرہ دیتے تھے اور وہ شدید گرمی میں ہوتے ہوئے اپنا پوائنٹ نہیں چھوڑ سکتے تھے تو امام خمینی خود جاکر ان کہ ٹھنڈا پانی پلاتے تھے۔ امام خمینی کسی جوان کی پیاس کو برداشت نہیں کرسکتے تو کہہ رہے ہیں کہ گھروں سے باہر آجائو، مرنا پڑے تو مرجائو، تو کیا وہ یہ سب اپنے بل بوتے پر کہہ رہے تھے؟ نہیں اپنے بل بوتے پر نہیں کہہ رہے تھے، اگر ہمارا خدا سے رابطہ نہیں ہوگا تو ہدایت کہاں سے ملے گی۔؟

رہبر معظم کی بات پوری دنیا کا میڈیا سنتا ہے، روس کے صدر تو کہتے ہیں کہ جو وہ بولتے ہیں، اس کا فوری ترجمہ چاہیئے۔ جیسے بولیں، آپ بتائیں کیا کہا تھا۔ ان کی بات کو پوری دنیا میں ان کے دوست ہوں، چاہے دشمن سنتے ہیں۔ انہوں نے ایک مہینہ پہلے کہا کہ نہ جنگ ہوگی اور نہ مذاکرات کریں گے۔ اگر اللہ سے رابطے نہ ہوں تو  اتنی بڑی بات کہہ سکتے ہیں۔ امام خمینی، سید خامنہ ای،  شہید حسینی اور دیگر شہداء کا مستقل بنیادوں پر اللہ سے رابطہ ہے، آپ بھی اگر ان کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ پانچ دس منٹ نکالیں، خدا سے رابطہ بڑھائیں۔ خدا سے راز و نیاز کریں۔ کچھ اللہ کی باتیں سنیں اور کچھ سنائیں۔ استقامت، سہنا پڑے گا، شخصیت، احترام اور خون تک دینا پڑے گا۔ سید الشہداء نے خون تو دیا ہی ہے، مگر اپنے خاندان کا احترام تک دیا ہے۔ یہ خدا نے قانون بنا رکھا ہے کہ جب تک کوئی اپنی شخصیت کو کچلنے کیلئے پیش نہیں کرے گا، خدا اس کو درجات نہیں دیتا۔ نظریہ، خیالات، افکار تھیوری دینا آسان ہے، میداں میں آنے کی جرائت کم افراد میں ہوتی ہے۔

خدا سے رابطہ بڑھائیں
شہادت کا مرتبہ تب ملتا ہے، جب اپنی شخصیت کو پیش کرتے ہیں کہ اے خدایا تیرے  دین کے خاطر عزت کمائی تھی، اگر تیرے دین کی خاطر ذلت اٹھانی پڑے تو تیار ہیں۔ میں آپ کے سامنے بیٹھ کر بول رہا ہوں، آپ نے مجھے دین کی خاطر عزت دی، کوئی دین کے نام پر بے عزتی اٹھائے گا، یہ مشکل  ہے۔ یہ ان کی ذات کا جوہر ہے کہ یہ اللہ کے نام پر دشمنی جھیلنا جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ قانون تکذیب کے اندر آتا ہے۔ اے نبی یہ تمھاری تکذیب کرتے ہیں، یہ تم سے پہلے والوں کی بھی تکذیب کیا کرتے تھے۔ تکذیب کا مطلب ہے کہ ایک گروہ آکر آپ کو کہتا ہے کہ تم جھوٹے ہو، تمھاری غرض ہے، تم نے حکومت کیلئے کیا ہے، تم نے پیسے کیلئے کیا ہے۔ اگر کوئی خدا کے نام پر اس کو جھیل لے کہ لوگ اس کی شخصیت کو کچلیں اور وہ پیچھے نہ ہٹے تو خدا اس کو عزت دیتا ہے۔ خدا اس طرح کی عزت دیتا ہے کہ ہم 30 برس گزرنے کے باوجود بھی ان کے لئے بیٹھے ہیں۔ اس لئے بیٹھے ہیں کہ ان کا احترام خدا نے ہماری دلوں میں ڈالا ہے۔

مجھے سمجھ میں آیا ہے کہ بہت ساری چیزوں پر ہماری دل کی کیفیت ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ کتنے افراد نے آیت اللہ تقی بھجت کو دیکھا ہے اور اتنے لوگ ان سے متاثر ہیں، یہ کیسے ہو رہا ہے۔ دلوں کی کیفیت خالص خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے سب کے دلوں میں کیوں نہیں ڈالا؟ کیا خدا اپنی خاص نعمتیں سب کو دیتا ہے کیا؟ نہیں دیتا ہے۔ خدا سورج، ہوا سب کو دیتا ہے، مگر اپنے سامنے گڑگڑانے کی نعمت سب کو نہیں دیتا۔ روایت میں ہے کہ اگر کوئی خدا کی نافرمانی کرتا ہے تو خدا اس کا معاملہ کسی ایسے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے، جو خدا کا نافرمان ہو۔ پھر اس سے اس کو جھیلنا پڑے گا۔ اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے دل میں ایسے کیلئے محبت آجائے گی، جو خدا کا نافرمان ہو۔ ایسے شخص کی محبت جس کا خدا سے کوئی رابطہ ہی نہیں ہے۔ دعا کے جملے ہیں کہ خدایا ایک پلک جھپکنے کیلئے بھی مجھے میرے حال پر نہ چھوڑ، مجھے اپنے ساتھ منسلک رکھ۔ اگر خدا ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے گا تو ظالموں کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے گا۔ پھر ان کیساتھ محشور کرے گا۔

کوئی شہداء کے راستہ پر چلنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟
1۔ اسلام کے نظریئے کو گہرائی تک سمجھنے کی کوشش کرے، اسلام فقط نعرے نہیں ہے۔ معاشرے میں اسلام کی طلب موجود ہے، جس میں گہرائی ہے۔ کیا طلب فقط اتنی ہے کہ چند اعمال کروائے جائیں، چند دعائیں اور چند ذکر کی باتیں ہوں اور معاملہ ختم۔ معاشرے میں موجود ظلم، ناانصافی سے کون لڑے گا؟ انہوں نے دہشتگرد ہمارے مراکز تک پہنچائے، جنہوں نے ہماری بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسلام کی طلب میں یہ بھی ہے۔، کیا پاکستان سے فرقہ واریت کا جن ختم ہوگیا ہے؟ دب تو گیا ہے، مگر پتہ نہیں کہ ختم ہوا ہے کہ نہیں ہوا ہے۔ اب ملک میں لبرل ازم کی جو لہر دوڑی ہے، کتنی شدت ہے اس میں۔ دین کے نام پر انتہاء پسندی، شدت پسندی کی وبا ضیا کے زمانے سے، اب  دین کے سامنے لبرل ازم کی وبا ہے، جو جنرل مشرف کے زمانے سے آئی ہے۔ اس شدت سے لبرل ازم آئی ہے کہ شعوری طور پر جن کا فحشا سے کوئی تعلق نہ ہو، وہ بھی پھنسے۔ میں احباب کو کہتا تھا کہ ٹیلیویژن نہ دیکھیں اور انٹرنیٹ پر باخبر رہنے کیلئے خبریں پڑھیں، اب میں نوٹ کر رہا ہوں کہ شعوری طور پر فحشا کی خبریں ڈالی جا رہی ہیں کہ جو بچ کر آیا تھا، وہ بھی ٹریپ ہو۔ یہ مشکل ہے۔
اس وقت ضرورت ہے کہ اسلام کو گہرائی کیساتھ لے کر آئیں، مسائل کو حل کرنے والا اسلام لے کر آئیں۔

ہمارے پاس اسلام کے بارے میں دو رائے ہیں، ایک رویہ ہے کہ ہمارے پاس لوگ دین کیلئے آتے ہیں تو ہم دین دیں، جماعت کروائیں، تجوید سکھائیں، احکام بتائیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جو آئے ہیں، ان کی زندگی کی مشکل دین نے حل کرنی ہے یا بے دین نے حل کرنی ہے۔ ہم ان کو دین کے نام پر جماعت، قرآن دیں گے، مگر مشکل حل نہیں کریں گے، جو ان کی مشکل حل کرے گا، یہ وہاں جائیں گے۔ مثلاً کوئی آدمی آیا کہ میری بچی کی شادی نہیں ہو رہی، مجھے دعا بتائیں۔ میں بچی کا جہیز نہیں بنا پا رہا، کوئی دعا بتائیں۔ میں نماز باجماعت میں دعائیں کرواتا رہا، آخر میں اس کی بچی کی شادی ہونی ہے، اس کو قرضہ چاہیئے۔ وہ میرے پاس آیا تو میں نے کہا کہ بھائی آپ نے دعا کا کہا، میں نے دعا کروائی، اس نے قرضہ کا کہا تو میں نے کہا اس کا بندوبست کہیں اور سے کرو، جس نے اس کی مشکل حل کی ہے، اس کی محبت لے کر آئے گا۔ مولانا اصل میں میری مشکل کوئی اور حل کرے اور فقط میں اعمال کے لیے آپ کے پاس آتا رہوں، اس طرح کام چلے گا؟ اگر یہ بندہ عزت کر بھی لے گا تو اس کی اولاد عزت نہیں کرے گی۔

حضور اکرم (ص) نے مسجد سے سب کچھ حل کیا۔ آپ جا کر روایات دیکھیں کہ آپ نے کس کس طرح کی مشکلات حل کی ہیں۔ ایک روایت بتائیں، جب کسی نے مشکل پیش کی ہو اور آپ (ص) نے کہا ہو کہ میں تمہارا مسئلہ حل نہیں کرسکتا، یہ میرا کام نہیں ہے۔ اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ دین کی طلب میں گہرائی ہے۔ امام خمینی کے استاد آیت اللہ شاہ آبادی تھے، جن کی قبر شاہ عبدالعظیم کے حرم میں ہے، 50 برس پہلے انہوں نے لوگوں کی مالی مشکلات کے حل کا انتظام کیا تھا، وہ اتنے عارف تھے کہ علماء بھی ان کو خط لکھتے تھے کہ امام سے ملاقات ہو تو ان سے یہ مسئلہ پوچھنا۔ اس معیار کا بندہ لوگوں کو قرض الحسنہ دینے کا منصوبہ بناتا ہے۔ تہران میں عارف باللہ نے 50 برس پہلے مائیکروفنانس شروع کیا، تاکہ لوگوں کے مسائل حل ہوں۔  وہ تہران کے بازار کی گلی والی مسجد میں بیٹھے، جس کی گلی کیساتھ غلط کام ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا اگر میں نے ادھر محنت نہیں کی تو کوئی محنت نہیں کرے گا۔  میں اس بازار کو تبدیل کروں گا۔ اب دین کی طلب سادہ نہیں ہے۔ لوگوں کی مشکلات کو حل کریں۔

شہید محمد علی نقوی قم تشریف لائے، میں نے بھی ان سے ملاقات کی، ملاقات مین بات نکلی کہ پاکستان میں شیعہ قوم کا تھنک ٹینک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ادھر آیا تھا تو میں نے تہران مین پاکستان کے اہل تشیع کے بارے میں پریزینٹیشن دی، جس میں پاکستان کے نقسے میں جہاں شیعہ اکثریت ہے اور ان کے مسائل لکھے ہوئے تھے۔ میں نے شہید سے کہا کہ کیا آپ نے اس پر کوئی ادارہ بنایا ہے تو انہوں  نے کہا کہ اس پر شہید حسینی نے 5 افراد کو ذمہ داری دی تھی کہ آپ پاکستان کی شیعہ قوم کیلئے منصوبہ بندی کرکے دیں، اس وقت ہم نے یہ اعداد و شمار جمع کئے تھے۔ شہید حسینی نے قوم کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہی مگر ہم 30 برس گزرنے کے بعد بھی وہیں کھڑے ہیں۔ ہمیں پاکستان میں شیعہ قوم کیلئے اداروں کی ضرورت ہے، مسجد ادارہ ہے، مدرسے بن رہے ہیں، اس کے علاوہ اور ادارے بنائیں۔ ایسا ادارہ جو قوم کیلئے اسٹریٹجی پلان کرے، ان کی معاشیات، تعلیم، پرسنل ڈولپمیںٹ پر کام کرے۔ ہمیں کچھ کرنا پڑے گا، شہید کے کام کے پیچھے اسپرٹ کیا تھا۔ ہمیں آپس میں رابطے بڑھانے ہونگے۔ ہمیں خالص خدائی رابطے بڑھانے ہونگے۔ رابطہ منفعت کی بنیاد پر نہیں بلکہ خدا کی بنیاد پر ہو۔ خداوند کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے جملہ فرمایا، خدایا آگے آنے والوں کے درمیان میرا ذکر سچائی والوں میں قرار فرما۔ شہید حسینی کا ذکر اس بات کا گواہ ہے کہ ان کے رابطوں میں خلوص تھا۔ دشمن نے شہید حسینی کو تو ہم سے چھین لیا۔ ہم میں کمی یہ رہ گئی کہ ہم نے شہید کا نام تو زندہ رکھا، مگر ان کے پیغام کو درک نہیں کرسکے۔
خبر کا کوڈ : 809820
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب