0
Saturday 10 Aug 2019 08:41

دودھ کا رکھوالا بلا

دودھ کا رکھوالا بلا
اداریہ
امریکی مداخلت کی وجہ سے خلیج فارس کا علاقہ روز بروز کشیدہ سے کشیدہ ترین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکہ کبھی برطانیہ کے ذریعے اور کبھی علاقائی اتحادیوں کے ذریعے ماحول کو خراب کرنے میں مصروف ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس سمندری راستے بلکہ خطے کے اہم ترین آبی راستے پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کا آبی سرحدی علاقہ ہے اور خلیج فارس کا چودہ سو سے زائد کلومیٹر پر مشتمل ساحلی علاقہ ایران کی قانونی ملکیت ہے، جس میں کئی آباد اور غیر آباد جزیرے بھی موجود ہیں۔ ایران نے عراق کے ساتھ سخت ترین جنگی حالات میں، جب اس خطے میں آئل ٹینکروں کی جنگ عروج پر تھی، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو تسلط پیدا نہیں کرنے دیا، آج جبکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے ماضی سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، کس طرح کسی ملک یا علاقائی اتحاد کو اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ وہ خلیج فارس کے پانیوں میں آئل ٹینکروں یا دیگر بحری جہازوں کی سیکورٹی کے بہانے مداخلتوں کا مرتکب ہوتا رہے۔

امریکہ نے اپنے انتہائی جدید ڈروں کے سقوط اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ گنوانے کے بعد اب نئی چال چلنے کا ارادہ کیا ہے اور خلیج فارس میں سمندری سلامتی کے ایک نئے اتحاد کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے سب سے پہلے جاپان اور اس کے بعد چند یورپی ممالک کو دعوت دی گئی، لیکن برطانیہ کے علاوہ کسی یورپی ملک نے اس اتحاد میں شامل ہونے کی حامی نہیں بھری۔ جاپان نے تو کھلا کھلا یہ کہہ دیا کہ ایران سے اس کے قدیمی روایتی تعلقات ہیں اور اس کو ایران سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد امریکہ کی تنہائی دیکھ کر غاصب صہیونی حکومت نے اس اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل کی غاصبانہ اور اسلام دشمن پالییسیوں سے کون واقف نہین۔ اسرائیل کو اس بات کا بھی اچھی طرح علم ہے کہ خطے میں استقامت و مزاحمت کا بلاک ایران کی وجہ سے روز بروز ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، لہذا وہ ایران کے راستے میں ڈالی جانے والی ہر رکاوٹ کو مضبوط و مستحکم کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔ اسرائیل امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خلیج فارس کی بحری سکیورٹی کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران کے اعلیٰ سطح کے دفاعی عہدیدار نے قطر، کویت اور عمان سے ٹیلی فونک ملاقاتوں میں خطے اور خلیج فارس کی سکیورٹی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا اور ایران نے خطے کے ممالک کو پیشکش کی ہے کہ خطے کی سلامتی اور خلیج فارس کی سکیورٹی خلیج فارس کے ممالک کے علاوہ کسی کو واگذار نہیں کی جا سکتی اور ایران اسرائیل سمیت کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ علاقائی مسائل میں مداخلت کرے۔ کیا دودھ کا رکھوالا بلا بھی ہوسکتا ہے۔؟
خبر کا کوڈ : 809843
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب