1
Saturday 10 Aug 2019 22:10

کشمیر۔۔۔۔ یہ حرمین شریفین کی بیٹیاں

کشمیر۔۔۔۔ یہ حرمین شریفین کی بیٹیاں
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

جنگیں ارادوں کے ساتھ لڑی جاتی ہیں اور پالیسیوں کی بدولت جیتی جاتی ہیں، بدقسمتی سے ہم مسلم ممالک کے سامنے بھی مسئلہ کشمیر کو سفارتی تقاضوں کے مطابق پیش نہیں کرسکے۔ ہم نے سفارتکاری کے اعتبار سے کشکول کو کشمیر پر ترجیح دے رکھی ہے، ہم ہر دور میں گدائی میں ہی مصروف رہے اور گذشتہ دنوں بھارت نے کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا، نیز مقبوضہ کشمیر کو لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، چنانچہ اب مقبوضہ کشمیر کا علاقہ ایک ریاست کے بجائے وفاقی اکائی کہلائے گا اور وہاں کے انتظامی امور ایک لفٹیننٹ گورنر انجام دے گا۔ ہندوستان کے نزدیک کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرنے کا مقصد اسرائیل کی طرز پر کشمیر میں ہندووں کو آباد کرنا ہے، جس سے آبادی کے تناسب کو بدل کر ممکنہ ریفرنڈم سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے ہیں۔ اپنی اس خواہش میں بھارت کس حد تک کامیاب ہوتا ہے، یہ وقت ہی بتائے گا، تاہم کشمیر کی بدلتی ہوئی ڈیموگرافی سے پاکستان پر جو اثرات مرتب ہونگے، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

کشمیر کی ڈیمو گرافی کا مسئلہ صرف کشمیر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کی بقا اور سالمیت کا مسئلہ ہے۔ یہ جملہ ہمارے ہاں بہت عام ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، لیکن ہم اس جملے کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکے اور سچ بات تو یہ ہے کہ  اس کی اہمیت ہمیں تب سمجھ میں آئے گی، جب خدانخواستہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنا شروع ہو جائے گا۔ ممکن ہے کشمیریوں کے واویلے اور عالمی برادری کے دباو کے باعث بھارت کو عارضی طور پر کشمیر کی علیحدہ حیثیت ختم کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑے، لیکن یہ اس مسئلے کا دائمی حل نہیں۔ یہ مسئلہ، یہ صرف ایک مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کی طولانی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ بھارت کے مقابلے میں ہماری منصوبہ بندی میں اب تک چند جوشیلی تقریروں، اسمبلی کی قراردادوں، دھواں دار دھمکیوں، بھارت کے پرچم جلانے اور مردہ باد ہندوستان کے نعرے لگانے کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ ویسے بھی ہماری حکومتوں کو داخلی تنازعات نیز قرض لینے اور ٹیکس لگانے سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے لیں۔

اب چند دن شور و غل رہے گا، اسمبلی میں ڈیسک بجائے جائیں گے، بازاروں میں ریلیاں نکلیں گی اور پھر ہم واپس قرض لینے کے لئے کشکول اٹھا کر نکل پڑیں گے۔ گذشتہ بہتر سالوں میں جتنی گدائی ہم نے ڈالروں کے لئے کی ہے، اگر اتنی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کرتے تو آج صورتحال بہت مختلف ہوتی۔ اگر ہم نظریاتی طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتے ہیں تو ہمیں نعروں اور تالیوں کی دنیا سے باہر نکل کر اپنی شہ رگ کو بھارت کے پنجے سے آزاد کروانا پڑے گا۔ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں اور جامع منصوبہ بندی کرنا دراصل خود پاکستان کی اپنی بقا اور سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ ہمیشہ بھارتی اقدامات کے ردعمل میں چند روزہ کشیدگی پیدا کرکے، سرحدوں پر بارود کی بارش برسا کر اور لوگوں سے جلسے جلوس نکلوا کر اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں مسئلہ کشمیر پر بار بار ردعمل دکھانے کے بجائے اب بحیثیت قوم عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کشمیر کی آزادی کے لئے مستقل عمل کرنا ہوگا اور وہ عمل ہمہ جہتی ہی ہوسکتا ہے۔

قارئین کو  یہ بتانا ضروری ہے کہ ہندوستان کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد جمعرات کے روز ایران کے دارالحکومت تہران میں کشمیریوں کے حق میں اور ہندوستان کے خلاف ایک زبردست احتجاجی ریلی نکالی گئی، اس کے علاوہ ایران میں نماز جمعہ کے خطبات میں بھی مسئلہ کشمیر کی سنگینی اور بھارت کی ہٹ دھرمی کی مذمت کی گئی۔ علاوہ ازیں متعدد دیگر اسلامی ممالک میں بھی کشمیریوں کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ہی اب کشمیریوں کو انتظار ہے کہ وہ دن کب آئے گا کہ جب دیگر اسلامی ممالک کی طرح سعودی عرب کے دارالحکومت میں بھی ہندوستان کے خلاف مظاہرے شروع ہونگے۔ ساتھ ہی ہم حرمین شریفین کے نام پر بننے والے اکتالیس ممالک کے سعودی فوجی اتحاد کی فوجِ ظفر موج کو یہ اطلاع دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو افواج کے ہاتھوں حرمین شریفین کی بیٹیوں کی عصمت لٹ رہی ہے۔ جب کبھی تمہیں سعودی بادشاہوں اور ٹرمپ کے دسترخوان کی نچڑی ہوئی ہڈیاں چوسنے سے فرصت ملے تو کشمیر  کی خبر بھی لینا، چونکہ یہاں کشمیر میں حرمین شریفین کی بیٹیاں تمہیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 810003
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب