0
Sunday 11 Aug 2019 11:43

مسلم صرف ایک تھا

مسلم صرف ایک تھا
تحریر: سیدہ ایمن نقوی

حضرت مسلم بن عقیل حضرت امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی، مرد حق، نہایت شجاع اور مقام عالی امام علیہ السلام کے حقیقی آشنا تھے۔ آپ اسلامی فتوحات اور جنگ صفین وغیرہ میں شریک رہ چکے تھے، جب امام حسین علیہ السلام نے بیعت یزید کو ٹھکرا کر مدینہ کو خدا حافظ کہا تو آپ بھی امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مکہ تک تشریف لائے، حضرت مسلم بن عقیل بن ابی طالب کے بیٹے، بنی ہاشم کے ایک باوقار شخص تھے۔ جب امام حسین علیہ السلام یزید کا مطالبہ بیعت ٹھکرانے کے بعد مدینہ کو خدا حافظ کہہ کر مکہ پہنچے تو اہل کوفہ کے خطوط کا سلسلہ شروع ہو گیا، ان کی جانب سے دعوت کے پیغامات لمحہ بہ لمحہ موصول ہونے لگے، یہاں تک کہ ہزاروں کی تعداد میں خط آپ کو ملے اور آخری خط اس وقت وصول ہوا جب آپ رکن اور مقام کے درمیان دو رکعت نماز بجا لا رہے تھے، آپ نے پروردگار سے خیر و نیکی کی دعا کی اور اس کے بعد جناب مسلم کو طلب کیا۔ اہل کوفہ کے خطوط کا جواب ایک خط کی صورت میں لکھا۔ امام حسین علیہ السلام کوفہ کی تہذیب اور وہاں کے لوگوں کی بدلتی ہوئی طبیعت اور مفاد پرستی سے بخوبی آگاہ تھے ، کیونکہ اسی کوفہ میں آپ کے پدر بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا۔ ایسے شہر کے لئے کسی مخلص اور تجربہ کار شخص کی ضرورت تھی کہ جو لحظہ بہ لحظہ ان رنگ بدلنے والے افراد سے شکست نہ کھا سکے اور اپنے مقصد کے حصول سے ہنگامی حالات میں بھی غافل نہ رہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے مختصر قافلہ پر نظر ڈالی اور مسلم بن عقیل کو اپنا نمائندہ منتخب فرماکر کوفہ روانہ کردیا۔

امام حسین (ع) کا اہل کوفہ کے نام خط:
آپ (ع) اپنے خط کے متن میں کچھ یوں رقمطراز ہیں کہ، "آپ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہمارا کوئی امام نہیں، ہماری طرف تشریف لائیں شاید خدا آپ کے وسیلے سے ہماری ہدایت کر دے اور ہم متحد ہو جائیں، اسلئے میں اپنے بھائی اور چچا کے بیٹے مسلم بن عقیل، جو میرے نزدیک معتمد شخص ہیں، کو آپ کے پاس بھیج رہا ہوں، لہٰذا اگر انہوں نے مجھے یہ اطلاع دی کہ کوفہ کے عقلاء اور اہل فضل کی رائے اور آپ لوگوں کا مشورہ وہی ہے جو آپ نے اپنے خطوط میں لکھا ہے تو میں جلد آپ سب کے پاس پہنچ جاؤں گا۔۔۔‘"۔ جناب مسلم وسط رمضان میں مکہ سے نکلے اور مدینہ تشریف لے گئے۔ مسجد نبوی (ص) میں نماز ادا کی اور اپنے رشتہ داروں کو خدا حافظ کہا اور راستہ دکھانے والے چند افراد کو ساتھ لے کر کوفہ کی طرف چل پڑے۔ اس سفر میں آپ کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آپ اور آپ کے ساتھیوں نے راستہ گم کر دیا آپ کے دو ساتھی پیاس کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ گئے لیکن آخر کار 5 شوال کو جناب مسلم کوفہ پہنچ گئے۔ راستہ کی مشکلات برداشت کرتے ہوئے مدینہ سے کوفہ پہنچے۔ سفیر حسین کی آمد کی خبر سن کر اہل کوفہ ان کے گرد جمع ہوئے، آپ جب آپ امام علیہ السلام کا خط ان کو پڑھ کر سناتے تو وہ شوق محبت میں گریہ کرتے تھے، یہاں تک کہ اٹھارہ ہزار اہل کوفہ نے جناب مسلم کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ آخرکار جناب مسلم نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد امام علیہ السلام کو خط لکھا اور انہیں کوفہ آنے کی دعوت دے دی۔

اتنی تعداد میں بیعت کئے جانے کی خبر جب یزید بن معاویہ تک پہنچی تو اس نے عبید اللہ بن زیاد جو بصرہ کا حاکم تھا کو حکم دیا کہ وہ کوفہ کی حکومت بھی سنبھالے۔ عبیداللہ بن زیاد ایک خاص مکر و فریب کے ساتھ کوفے میں داخل ہوا اور حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد ہانی بن عروہ کو جو کوفہ کے بزرگان میں سے تھے اور جناب مسلم ان کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے کو گرفتار کر کےآزار و اذیت دینا شروع کر دی۔ جناب مسلم نے جب ہانی کو شکنجے دیئے جانے کی خبر سنی تو اہل کوفہ سے مطالبہ کیا کہ ہانی کی مدد کو نکلیں۔ لوگ جمع ہو گئے، مسجد کوفہ، اطراف کا بازار اور دار الخلافہ لوگوں سے بھر گیا، جبکہ عبیداللہ کے پاس اس وقت پچاس افراد بھی نہیں تھے۔ عبیداللہ نے انتہائی چالاکی اور سیاست سے کام لیتے ہوئے چند لوگوں کو کوفہ کے مختلف قبیلوں کے درمیان بھیجا تاکہ انہیں پہلے ڈرائیں، نہیں تو پیسے یا مقام کا لالچ دیں۔ اور بعض قبیلوں کے سردار جو دار الخلافہ کے اندر موجود تھے انہیں دھمکی دے کر دار الامارہ کی چھت پر بھیجا تاکہ ان لوگوں کو جنہوں نے قصر کا محاصرہ کر رکھا ہے کو کسی نہ کسی حربے سے دار الامارہ سے دور کریں۔

اہل کوفہ کی بیوفائی:
اہل کوفہ نے جب اپنے سرداروں کی باتوں کو سنا تو نرم پڑ گئے، شور شرابا دھیرے دھیرے کم ہونے لگا ہر کوئی دوسرے سے کہہ رہا تھا، چلو واپس چلیں، دوسرے لوگ ہیں وہ کافی ہیں۔ آہستہ آہستہ جناب مسلم کے اطراف سے لوگ دور ہوتے گئے یہاں تک کہ صرف 30 افراد مسجد میں ان کے پاس باقی رہ گئے۔ جناب مسلم نے جب اس عہد شکنی کا مشاہدہ کیا تو اسی قلیل تعداد کے ساتھ "باب الکندہ" کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچنے کے بعد دیکھا کہ صرف 10 افراد ان کے ساتھ ہیں اور جب وہاں سے اور آگے بڑھے تو ان کے ہمراہ کوئی نہ رہ گیا تھا۔ جناب مسلم غربت کے عالم میں، ناآشنا شہر میں تن تنہا، چاروں طرف دیکھ رہے ہیں لیکن کوئی انہیں نظر نہیں آرہا ہے جو انہیں راستہ بتائے یا اپنے گھر میں انہیں پناہ دے۔ سفیر حسین (ع) پریشانی کی حالت میں کوفہ کی گلیوں میں چل رہے ہیں، جبکہ انہیں نہیں معلوم کہ کہاں جانا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ایسے گھر کے سامنے پہنچے، جس کے دروازے پر ایک بوڑھی عورت کھڑی ہوئی تھی۔ اس عورت کا نام طوعہ تھا وہ اپنے بیٹے کی انتظار میں کھڑی تھی جو لوگوں کے ہمراہ گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ جناب مسلم نے اس بڑھیا کو سلام کیا اور اس سے پانی کا مطالبہ کیا۔ طوعہ نے آپ کو پانی دیا اور کاسہ رکھنے گھر کے اندر چلی گئی۔

تھوڑی دیر بعد پھر اپنے بیٹے کو دیکھنے کے غرض سے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ شخص مسکینوں کی طرح اس کے دروازے پر بیٹھا ہوا ہے۔ کہا، "اے بندہ خدا جب پانی پی لیا تو اب اپنے گھر چلے جاؤ"۔ جناب مسلم خاموش ہو گئے بڑھیا نے دو تین بار یہی جملہ دہرایا تو جناب مسلم کھڑے ہو گئے اور کہا، "میرا اس شہر میں کوئی گھر نہیں ہے، میں مسلم بن عقیل ہوں، اس قوم نے مجھے دھوکہ دیا اور مجھے اپنے گھروں سے باہر کر دیا ہے۔ ضعیفہ نے جناب مسلم کو اپنے گھر میں پناہ دی، ان کے لئے الگ کمرے میں فرش لگایا، کھانے کا انتظام کیا۔ لیکن جناب مسلم کھانا تناول کئے بغیر سو گئے اور عالم خواب میں اپنے چچا امیر المومنین علی علیہ السلام کو دیکھا کہ ان سے فرما رہے ہیں۔ "جلدی کرو کہ کل تمہیں ہمارے پاس آنا ہے"۔ دوسری جانب، ابن زیاد نے جب دیکھا کہ اس کا حربہ لوگوں پر کارآمد ثابت ہوا ہے اور لوگوں نے جناب مسلم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو اپنے قصر سے باہر نکلا اور مسجد میں آکر جناب مسلم کو تلاش کرنے پر ایک ہزار دینار انعام مقرر کیا۔ طوعہ کا بیٹا جب مسجد سے گھر واپس پہنچا تو گھر میں جناب مسلم کے موجود ہونے سے باخبر ہو گیا۔ اس نے علی الصبح انعام کی لالچ میں یہ خبر ابن زیاد تک پہنچا دی۔ عبید اللہ نے درجنوں سپاہیوں پر مشتمل لشکر جناب مسلم کی گرفتاری کے لئے طوعہ کے گھر بھیج دیا۔

شھادت سفیر حسین (ع):
جناب مسلم اپنے خدا سے راز و نیاز میں مصروف تھے کہ لشکر نے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنتے ہی مسلم نے اپنی دعا و مناجات کو تمام کیا اور جلدی سے زرہ پہن کر جنگ کے لئے آمادہ ہو گئے۔ لشکر کے گھر سے قریب ہوتے ہی آپ مقابلہ کے لئے گھر سے باہر آ گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو دشمن بڑھیا کا گھر جلا دیں۔ کریم گھرانے کا کریم فرزند ہے، مشکل کے عالم میں بھی محسنہ کو نہیں بھولا۔ جناب مسلم جو دلیر اور جنگی فنون میں ماہر تھے، نے کئی سپاہیوں کو واصل جہنم کر دیا۔ ابن زیاد کا لشکر جب کسی طرح آپ کر قابو نہ پا سکا تو اس نے مل کر جناب مسلم پر حملہ کیا، مکانوں کی چھتوں سے پتھر اور آگ برسائی، آخر کار پیاس کی شدت اور زخموں کی فراوانی اور اس نیزے کی وجہ سے جو پیٹھ پیچھے سے آپ کی پشت پر مارا گیا، آپ زمین پر گر گئے اور یزیدیوں نے بڑھ کر آپ کو گرفتار کر لیا۔ (بعض کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ جب سپاہیوں نے دیکھا کہ جناب مسلم کو گرفتار کرنا ممکن نہیں ہو پا رہا ہے تو انہیں امان دینے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا اور اس طریقے سے انہیں گرفتار کر کے دار الامارہ لے جایا گیا۔)

جناب مسلم جب گرفتار ہو گئے تو کلمہ استرجاع  "انا للہ و انا الیہ راجعون" زبان پر جاری کرنے کے بعد گریہ کرنے لگے۔ لشکر میں سے ایک شخص نے انکے رونے پر تعجب کرتے ہوئے اسکا سبب پوچھا، جناب مسلم نے کہا، خدا کی قسم میں اپنے قتل کئے جانے پر گریہ نہیں کر رہا ہوں، مجھے موت سے خوف نہیں ہے، میں اہلبیت پیغمبر، حسین اور ان کے بچوں کیلئے گریہ کر رہا ہوں جو یہاں آ رہے ہیں"۔ جناب مسلم کو عبید اللہ کے حکم سے دارالخلافہ کی چھت پر لے جایا گیا اس حال میں کہ جناب مسلم خداوند عالم کی تسبیح پڑھ رہے تھے اور طلب مغفرت کر رہے تھے۔ دارالخلافہ کی چھت پر لے جانے کے بعد جناب مسلم کا سر تن سے جدا کر دیا گیا، اور پہلے سر پھر بدن کو دار الامارہ کی چھت سے نیچے گرا دیا گیا تاکہ لوگ ان کا حشر دیکھ کر امام حسین (ع) کی نصرت سے دستبردار ہو جائیں۔ اس کے بعد ان کے بدن کو مجمع عام کے سامنے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ہانی بن عروہ کہ جو ۸۹ سال کے بوڑھے تھے کو بھی کوفہ کے بازار میں لے جا کر دردناک طریقے سے شہید کیا اور تختہ دار پر لٹکا دیا جبکہ وہ اپنے ساتھیوں کو مدد کے لئے بلاتے رہے لیکن کسی نے ان کی مدد نہ کی۔ بعد از آں، ابن زیاد نے جناب مسلم اور ہانی کے سروں کو یزید کے لئے شام بھیج دیا۔ جناب مسلم کا لاشہ بنی ہاشم میں سے وہ پہلا لاشہ تھا جسے تختہ دار پر لٹکایا گیا اور ان کا سر وہ پہلا سر تھا جو شام بھیجا گیا۔ قبلہ اظہر حسین زیدی کا یہ جملہ بہت دل کو لگتا ہے کہ" کوفہ مسلمانوں سے بھرا ہوا تھا لیکن مسلم صرف ایک تھا"۔
مسلم نے سینچا خون سے ایماں کے باغ کو
 جلاد نے بجھا دیا حق کے چراغ کو


منابع و مآخذ:
1۔ سید بن طاووس، اللھوف فی قتلی الطفوف، قم، منشورات الرضی، ۔۱۳۶۴
2۔ شیخ عباس قمی، نفس المھموم، ترجمہ و تحقیق علامہ ابوالحسن شعرانی، قم، انتشارات ذوی القربیٰ، ۱۳۷۸۔

 
خبر کا کوڈ : 810052
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب