0
Sunday 11 Aug 2019 08:32

مشرکین سے بیزاری کا اعلان

مشرکین سے بیزاری کا اعلان
اداریہ
خداوند عالم کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے امام خمینی اور ان تمام زندہ و شہید علماء و غیر علماء پر، جنھوں نے اپنی عظیم قربانیوں اور محنتوں سے ایران کے اسلامی انقلاب کو کامیاب و کامران کرنے اور ایک اسلامی حکومت کے قیام کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلام کے بہت سے احکامات کی عملی اور سیاسی تعبیرات اور فلسفہ نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ انہی عبادات اور احکامات میں سے ایک اہم ترین حج ہے، جس کے عباداتی و سیاسی پہلو کو امام خمینی اور آج رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای  امت مسلمہ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ حج کے مناسک میں ایک مشرکین سے دوری اختیار کرنا بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ حج کے اس فلسفے پر ایران نے سینکڑوں شہداء کی قربانیں بھی پیش کی ہیں۔ امام خمینی اپنے دور میں ہر سال حج کی مناسبت سے اپنا خصوصی پیغام جاری فرماتے تھے، آج رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی اس اسوہ حسنی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس سال کے پیام حج میں آپ نے جو اہم نکات بیان فرمائے ہیں، ان میں سے ایک ایک نکتے پر مفصل لکھنے کی ضرورت ہے، ہم اس پیغام میں سے صرف برات از مشرکیں والے نکتے کو پیش کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اعلان برائت جو ہر زمانے کی طاغوتی طاقتوں کی ہر طرح کی بے رحمی، ستم، برائی اور بدعنوانی سے بیزاری اور مختلف ادوار کی استکباری قوتوں کی بلیک میلنگ اور تحکمانہ روش کے مقابلے میں استقامت کے معنی میں ہے، حج کی برکتوں میں سے ایک اور مظلوم مسلمان اقوام کے لئے سنہری موقع ہے۔ آج استکباری قوتوں اور ان میں سرفہرست امریکہ کے کفر و شرک کے محاذ سے اعلان برائت کا مطلب مظلوموں کے قتل عام اور جنگ افروزی سے بیزاری ہے، امریکی بلیک واٹر اور داعش جیسے دہشت گردی کے مراکز کی مذمت ہے، اس اعلان برائت کا مطلب بچوں کی قاتل صیہونی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں اور اس کے مددگاروں کے خلاف امت اسلامیہ کی فلک شگاف فریاد ہے، اس کا مطلب مغربی ایشیا اور شمالی افریقا کے حساس علاقے میں امریکہ اور اس کے حامیوں کی جنگ افروزی کی مذمت ہے، جنہوں نے اقوام کے رنج و آلام کو آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے اور آئے روز ان پر سنگین مصیبتیں مسلط کر رہے ہیں۔
 
اس اعلان برائت کا مطلب جغرافیائی محل وقوع یا نسل و رنگ کی بنیاد پر تفریق و نسل پرستی سے بیزاری ہے۔ اس اعلان برائت کا مطلب اس شرافت مندانہ، نجیبانہ اور منصفانہ روش و سلوک کے مقابلے میں جس کی اسلام دعوت عام دیتا ہے، جارح و فتنہ انگیز طاقتوں کی استکباری اور خبیثانہ روش سے بیزاری ہے۔ یہ اس حج ابراہیمی کی برکتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جس کی حقیقی اسلام نے ہمیں دعوت دی ہے۔ یہ اسلامی سماج کے اعلیٰ اہداف کے اہم حصے کا مجسم نمونہ ہے، جو ہر سال مسلمان افراد کے ذریعے حج کی ہدایت کاری میں پرمغز اور عظیم منظر پیش کرتا ہے اور زبان گویا سے سب کو ایسے معاشرے کی تشکیل کی کاوش کی دعوت دیتا ہے۔ دنیائے اسلام کے دانشوروں کے دوش پر، جن کی ایک تعداد مختلف ملکوں سے آکر اس وقت حج کے اعمال میں شریک ہوئی ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کاش امت مسلمہ کے علماء اور دانشور ان نکات کو اپنے لئے نصب العین قرار دیں۔
خبر کا کوڈ : 810080
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب