0
Sunday 11 Aug 2019 13:33

روز عرفہ اور مقام و معرفت امام حسین (ع)

روز عرفہ اور مقام و معرفت امام حسین (ع)
تحریر: سیدہ ایمن نقوی

"عَرَفَۃ" عربی زبان کا لفظ ہے جو مادہ "ع ر ف" سے ہے اور اس کے معنی "کسی چیز کے آثار میں تفکر اور تدبر کے ساتھ اس کی شناخت اور ادراک کرنا" کے ہیں۔ عرفہ کا نام سرزمین عرفات (مکہ مکرم کی وہ جگہ جہاں حاجی توقف کرتے ہیں) سے ماخوذ ہے، یہ پہاڑوں کے درمیان ایک معلوم اور شناختہ شدہ زمین ہے، اسلئے اسے عرفات کہا جاتا ہے۔ یوم عرفہ  مسلمانوں کے ہاں بافضیلت ترین ایام میں سے ایک ہے اور احادیث میں اس دن کے حوالے سے مختلف اعمال ذکر ہوئے ہیں، جن میں سے افضل ترین عمل دعا اور استغفار کرنا ہے۔ روایات میں ملتا ہے کہ یوم عرفہ، اللہ تعالی کی پہچان اور شناخت کا دن ہے، جس میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت اور طاعت کی دعوت دی ہے۔ اس دن حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور دعا اور استغفار کے ساتھ حج جیسے فریضے کی ادائیگی کی توفیق نصیب ہونے پر خدا کا شکر بجا لاتے ہیں۔

اسلام میں روز عرفہ کی بہت خاص اہمیت ہے لہٰذا اس مناسبت سے بہت زیادہ روایات و احادیث ملتی ہیں، حضرت پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں، خداوند متعال عرفہ کے دن صحرائے عرفات میں اپنے حضور صف در صف حاضر ہونے والے اور عاشقانہ و عارفانہ فریادیں بلند کرنے والے اپنے بامعرفت بندوں پر فخر و مباہات کرتے ہوئے فرشتوں سے فرماتا ہے، "اے میرے فرشتوں! میرے بندوں کو دیکھو کہ جو دور دراز  اور نزدیک سے بہت مشکلات برداشت کر کے یہاں آئے ہیں، تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں ان کی حاجات پوری کر رہا ہوں اور ان میں سے نیک و پرہیزگار لوگوں کی خاطر ان تمام کے گناہوں کو بخش رہا ہوں۔ (1) حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا "جو شحض بھی عرفہ کے دن دعائے عرفہ کے اعمال بجا لانے سے پہلے کھلے آسمان کے نیچے خداوند متعال کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کرے، اپنی تمام خطاؤں اور گناہوں کا اعتراف کرے اور بارگاہ پروردگار سے مغفرت و معافی طلب کرے، خداوند متعال نے جو کچھ اہل عرفات کے لئے مقدر فرمایا ہے، اس شحض کو بھی عطا فرمائے گا اور اس کے تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ (2)
 
حضرت امام حسینؑ حج کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے، صحرائے عرفات میں جبل الرحمہ (ایک پہاڑ) کے دامن میں اپنی ملکوتی آواز میں خالق ہستی کے ساتھ راز و نیاز اور مناجات میں مشغول ہو گئے، آنحضرت کی دلنشین آواز سے نہ فقط صحرائے عرفات میں موجود حجاج بہرہ مند ہو رہے تھے بلکہ آپ کی تاریخی و عاشقانہ مناجات آج تک عشق خدا رکھنے والے دلوں کو گرما کر تازگی بخش رہی ہے، امام عالی مقام نے اس دعا کے دوران ایک فراز میں یوں عرض کیا، "پروردگارا! تیری آیات اور نشانیوں میں میرا فکر کرنا تیرے دیدار میں دوری کا باعث بنتا ہے، پس مجھے اپنی خدمت پر لگا دے جو مجھے تیرے ساتھ متصل کر دے (یعنی میں، تیرا بندہ تیرے اور اپنے درمیان دوری اور فاصلے برداشت نہیں کر سکتا) تیرے وجود پر کسی اور چیز کے ذریعے کیسے دلیل لائی جا سکتی ہے جبکہ ہر چیز اپنے وجود میں تیری محتاج ہے ؟ کیا تیرے علاوہ کوئی ایسا ظہور ہے جو تو نہ رکھتا ہو اور کیا تیرے علاوہ کوئی اس قدر ظاہر و آشکار ہے جو تجھے مزید ظاہر و آشکار کر سکے؟ اے معبود!تو کب کسی دلیل کا نیاز مند رہا ہے کہ تجھ پر دلالت کرے؟! (3)
 
آئمہ اطہار علیہم السلام نے اس دن کے مخصوص اعمال، دعا اور مناجات بیان فرمایا ہے، ان میں سے مشہور ترین دعا، دعائے عرفہ امام حسین (ع) جو دعائے عرفہ کے نام سے معروف ہے، دنیا بھر میں شیعیان اس دعا کو نہایت عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں۔ دعائے عرفہ کے علاوہ اور بھی دعائیں ہیں جو اس دن پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے، خاص کر دعائے امام سجاد علیہ السلام، احادیث میں اس دن کو گناہوں کے بخشش کے لئے اللہ کے حضور توبہ کرنے کا خصوصی دن قرار دیا گیا ہے۔ آئمہ معصومین علیہم السلام اس دن کیلئے ایک خاص احترام کے قائل ہیں اور لوگوں کو اس دن کی اہمیت سے روشناس کراتے اور انہیں اس دن کے اعمال کی طرف متوجہ کراتے تھے اور کبھی بھی کسی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے تھے۔ حضرت امام صادق علیہ السلام یوم عرفہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کوئی شحض عرفہ کے دن کھلے آسمان تلے دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کے بعد اپنی تمام خطاؤں اور گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرے تو اللہ تعالی اس شخص کے لئے وہی عطا فرمائے گا جو کچھ اہل عرفات کے لئے مقدر فرمایا ہے اوراس کے تمام گناہ بھی بخش دے گا۔( سید ابن طاووس ، اقبال الاعمال، ص67۔) ایک اور روایت میں ہے کہ امام زین العابدین نے روز عرفہ ایک سائل کی آواز سنی جو لوگوں سے خیرات مانگ رہا تھا تو آپ نے فرمایا، افسوس ہے تجھ پرکہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کر رہا ہے حالانکہ آج تو یہ امید ہے کہ ماؤں کے پیٹ کے بچے بھی خدا کے لطف و کرم سے مالامال ہو کر سعید و خوش بخت ہو جائیں۔

روز عرفہ کے چند ایک اعمال:
1۔ غسل
2۔ امام حسین (ع) کی زیارت کرے، اس کا ثواب ہزار حج و عمرہ اور ہزار جہاد جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس زیارت کی فضیلت میں بہت سی متواتر حدیثیں نقل ہوئی ہیں کہ آج کے دن جو کوئی حضرت کے حرم مطہر میں رہے، تو اس کا ثواب عرفات والوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہے اور وہ ان لوگوں سے مقدم ہے۔ (حضرت کی زیارت کی کیفیت مفاتیح الجنان کے باب زیارت میں ملاحظہ فرمائیں)۔
3۔ نماز عصر کے بعد دعائے عرفہ پڑھنے سے قبل زیر آسمان دو رکعت نماز بجا لائے اور اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرے، تاکہ اسے عرفات میں حاضری کا ثواب ملے اور اس کے گناہ معاف ہوں۔ اس کے بعد آئمہ طاہرین کے حکم کے مطابق دعائے عرفہ پڑھے اور اعمال عرفہ بجا لائے اور یہ اعمال بہت زیادہ ہیں، جس کی تفصیل دعاؤں کی کتب میں موجود ہے۔

عرفہ کے دن امام حسین (ع) کی زیارت کی اہمیت و فضیلت:
عرفہ  کے دن کی اہمیت سے آگاہ ہو جانے کے بعد جو امر قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ عرفہ کے دن حضرت امام حسینؑ کی (کربلا میں) زیارت کی روایات میں بہت تاکید ملتی ہے، ان روایات سے استعفادہ کرتے ہوئے یہاں بعض اہم نکات ذکر کیا جا رہا ہے۔

1۔ حضرت امام حسین (ع) کی زیارت کا ثواب ہزار مقبول حج و عمرہ کے برابر:
ایک معتبر حدیث میں رفاعہ سے نقل ہوا ہے کہ "حضرت امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا، کیا اس سال حج پر گئے تھے؟میں نے عرض کی، میں آپ پر قربان ہو جاؤں، میرے پاس حج پر جانے کی مالی طاقت نہیں تھی لیکن عرفہ کے دن حضرت امام حسین (ع) کی قبر مطہر کے پاس (کربلا میں) تھا۔ فرمایا، اچھا کام کیا ہے، پھر امام حسین کی زیارت کی فضیلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ حج کو چھوڑ دیں گے، تمھارے لئے ایک حدیث بیان کرتا جسے سننے کے بعد ہر گز تم امام حسین کی قبر مطہر کی زیارت ترک نہ کرتے، پھر فرمایا: "میرے والد بزرگوار نے مجھے خبر دی کہ جو شحض بھی امام حسین (ع) کی قبر مطہر کی زیارت کے لئے چل پڑے اور اس حال میں ہو کہ اس امام کے حق کی معرفت رکھتا ہو اور تکبر نہ رکھتا ہو، تو ایک ہزار فرشتے دائیں طرف سے اور ایک ہزار فرشتے بائیں طرف سے اس کے ہمراہ (ہم سفر) ہو جاتے ہیں اور اس شخص کے لئے ایسے ہزار حج اور ہزار عمرے کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے جو پیغمبر خدا (ص) کے ہمراہ یا آنخصرت کے وصی کے ساتھ انجام دیئے گئے ہوں۔ (4) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روایت میں حضرت امام حسین کی زیارت کے ثواب کو پیغمبر یا آنخصرت کے وصی کے ہمراہ ہزار حج اور ہزار عمرے کے ثواب سے مقایسہ کرنا، امام عالی مقام کی عرفہ کے دن  کی زیارت کی اہمیت و فضیلت کو واضح کرتا ہے۔
 
(2) عرش پر خدائے ذوالجلال والاکرام کی زیارت کے مترادف:
حضرت امام حسین کی عرفہ کے دن زیارت کرنے کے فضایل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ اس دن حضرت کی زیارت کرنا عرش پہ خداوند متعال کی زیارت کرنے کے برابر ہے۔ حضرت امام صادق (ع) نے بشیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، "اے بشیر! جب تم میں سے کوئی ایک دریائے فرات کے پاس غسل کرے اور پھر امام حسین (ع) کی قبر مطہر کی زیارت کے لئے جائے، البتہ اس حال میں کہ امام عالی مقام کے حق کا علم و عرفان (معرفت) رکھتا ہو، اس کے ایک ایک قدم کے بدلے میں خداوند متعال ایک سو مقبول حج، ایک سو مقبول عمرے اور مرسل نبی (ع) کی ہمراہی میں ایک سو جنگوں کا ثواب منظور فرماتا ہے، پھر امام صادق(ع) نے مزید فرمایا، اے بشیر! سنو اور ان تک پہنچاؤ جن کے دل اسے قبول کرنے کی ظرفیت و استعداد رکھتے ہوں، کہو، جو شخص عرفہ کے دن امام حسین (ع) کی زیارت کا شرف پا لے وہ اس کی طرح ہے جس نے عرش پر خداوند متعال کی زیارت کا شرف پایا ہو."(5)
 
(3) پروردگار کی امداد اور رحمت کا شامل حال ہونا:
حضرت امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ فرمایا، "خداوند متعال عرفہ کے دن اہل عرفات پہ عنایت فرمانے سے پہلے حضرت امام حسین (ع) کی قبر مطہر کے زواروں پر تجلی فرماتے ہوئے ان کی حاجات پوری کر دیتا ہے اور ان کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے بعد اہل عرفات کی مشکلات حل فرمانے کے لئے عنایت فرماتا ہے۔" (6) حضرت امام صادق (ع) نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے: جب عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ (7) خداوند متعال امام حسین (ع) کی قبر مطہر کے زواروں پر نظر کر کے فرماتا ہے، "اس حالت میں(اپنے وطنوں کو) واپس جاؤ کہ تمہارے گذشتہ گناہ میں نے معاف کر دیئے ہیں اور یہاں سے واپس لوٹنے کے دن سے ستر دنوں تک تم میں سے کسی ایک کا گناہ بھی لکھا نہیں جائگا۔" (8)
 
(4) حاجت روائی:
 حضرت امام صادق (ع) سے روایت ہوئی ہے کہ فرمایا:  " جو شحض حضرت امام حسین(ع) کی زیارت کا شرف ایک سال میں نیمہ شعبان، عید فطر کی رات اور شب عرفہ حاصل کرے تو خدا وند متعال اس زائر کو ایک ہزار مقبول حج اور ایک ہزار مقبول عمرے کا ثواب عطا فرماتا ہے،اور اس کی دنیوی و اخروی ایک ہزار حاجات پوری فرما دے گا۔ (9)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع و مآخذ:
(1) ابو علی فضل بن حسن طبرسی، مجمع البیان، بیروت، دارالمعرفہ، چاپ اول، 1406 ھ.ق، ج7، ص 129
(2) سید ابن طاووس، اقبال الاعمال، ص67
(3) شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان (دعائے عرفہ) ص 240
(4) ایضا
(5) شیخ صدوق، کامل الزیارات، ترجمہ محمد جواد ذہنی تہرانی،تہران، پیام حق، 1377، ص 568۔
(6) سید ابن طاووس ، اقبال الاعمال، ج3، ص 61۔
(7) عرفہ کا دن یا یوم عرفہ " ذی الحجہ کی 9 تاریخ ہے"۔
(8) شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ص 715
(9) شیخ صدوق، کامل الزیارات، ص 565
خبر کا کوڈ : 810084
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب