0
Monday 12 Aug 2019 20:19

دنیا سے الگ تھلگ مقبوضہ کشمیر، بھارت نے زندگی جہنم بنا دی

دنیا سے الگ تھلگ مقبوضہ کشمیر، بھارت نے زندگی جہنم بنا دی
رپورٹ: ایس ایم عابدی

مقبوضہ کشمیر دنیا سے کٹا اور غصے سے بھرا زندگی میں ہی جہنم کا نمونہ پیش کر رہا ہے، کئی روز سے فوج کے قید خانے میں موجود لوگوں تک پہلی بار نیویارک ٹائمز کے نمائندے کی رسائی ہوئی تو دہلا دینے والی تصاویر دنیا کے سامنے آئیں۔ دارالحکومت سرینگر میں جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں پر مسلح سکیورٹی اہلکار پوزیشنیں سنبھالے کھڑے ہیں، لوگ کھڑکی سے باہر کا جائزہ لیتے ہیں، بیشتر نے خوراک کم کر دی ہے، شہر پر خوف کے سائے ہیں، دکانیں بند اور اے ٹی ایمز خالی ہیں، دنیا سے ان کے رابطے مکمل طور پر منقطع ہیں، لاکھوں کی آبادی قید تنہائی کا شکار ہے۔ رواں ہفتے کے حکومتی فیصلوں کے بعد کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے، تمام آبادی محصور، پریشان، خوفزدہ اور سخت طیش میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اشیائے ضروریہ خریدنے کیلئے گھر سے نکلنے والوں کو سکیورٹی فورسز کے تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔ گزشتہ جمعہ کو ہزاروں افراد کشمیر کے پرچم لہراتے اور آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر آئے، جن پر فورسز نے فائرنگ کردی، جس پر بھگدڑ مچنے سے 14 سالہ افشانہ فاروق بری طرح کچلی گئی، اس کے والد فاروق احمد نے بتایا کہ نماز جمعہ کے بعد پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ اچانک سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کردی، پیراملٹری فورس اور کشمیر پولیس کے اہلکار صرف سری نگر اور دیگر شہروں میں نہیں بلکہ دور دراز کے دیہات میں بھی تعینات اور ہر ایک گھر کی نگرانی کر رہے ہیں۔

انتظامیہ نے لوگوں کے استعمال کیلئے ایک سرکاری ٹیلیفون کھول رکھا ہے، جہاں ایک خاتون کو ممبئی میں اپنے بیٹے سے بات کرنے کیلئے 400 افراد کی قطار میں کھڑے ہو کر انتظار کرنا پڑا۔ لاک ڈاؤن کے اثرات ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں، اسکول بند، پارک خالی ہیں، خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے، لوگوں کو طبی امداد کیلئے بھی کرفیو پاس کی ضرورت پڑتی ہے۔ 50 سے زائد کشمیریوں نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ بھارتی اقدام سے ان میں تنہائی کا احساس بڑھے گا جس سے بغاوت کو ہوا ملے گی۔ مختلف دیہات کے بزرگوں نے درجنوں نوجوانوں کے لاپتا ہونے کی رپورٹس دی ہیں، امکان ہے کہ وہ حریت پسندوں کیساتھ مل گئے ہیں۔ بھارتی حکام نے ہفتے کو سبزی منڈیوں اور بازاروں میں لوگوں کی ریل پیل کی تصاویر جاری کرکے تاثر دینے کی کوشش کی کہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں جبکہ کشمیر کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز بھی کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ کشمیریوں کو جب بھی موقع ملتا ہے، درجنوں کی تعداد میں گلیوں اور سڑکوں پر نکل کر ان پر پتھراؤ کرکے بھاگ جاتے ہیں، اکثر ان کیساتھ خواتین بھی ہوتی ہیں۔ ان میں خوف نام کی کوئی چیز نہیں، وہ سخت طیش میں ہیں۔

مقامی لالہ دید ہسپتال تک مشکل سے پہنچے مریضوں نے بتایا کہ کرفیو کی وجہ سے ڈاکٹروں کیلئے ہسپتال تک پہنچنا مشکل ہوچکا ہے، صرف عملے کے چند ارکان موجود ہوتے ہیں۔ موقع پر موجود لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنی تاریخ کے بدترین کریک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔ رابطے پر بھارتی وزارت داخلہ کی ترجمان نے جواب دینے سے گریز کیا۔ کشمیریوں کی اکثریت کو خدشہ ہے کہ مودی حکومت کے فیصلے کثیر تعداد میں ہندوؤں کی کشمیر منتقلی کا پیش خیمہ بنیں گے، جس سے وہ اپنے وطن میں اقلیت بن جائیں گے، بھارت کے آئینی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ کشمیر کے بحران کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی ہوگا۔ انٹرنیٹ، فون، ٹی وی سمیت تمام ذرائع ابلاغ کی بندش کے باعث کشمیریوں تک کوئی معلومات نہیں پہنچ رہیں، جس کی وجہ سے ہولناک افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ چار سے آٹھ صفحات کے چند چھوٹے مقامی اخبار شائع ہو رہے ہیں، تین روپے قیمت کے یہ اخبار 50 روپے تک فروخت ہو رہے ہیں، ایک اخبار دن بھر مختلف ہاتھوں سے گزرتا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بے چینی کی وجہ سے ان کی نیندیں اڑ چکی ہیں، انہیں کسی پر اعتبار نہیں رہا۔ پوری مسلم دنیا عیدالاضحی منا رہی ہے لیکن کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اس عید پر رشتہ داروں سے ملنا تو دور کی بات ، فون پر عید کی مبارکباد بھی نہیں دے سکتے۔
خبر کا کوڈ : 810098
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب