0
Sunday 11 Aug 2019 19:01

کیا عیدالاضحٰی کی قربانی کسی اور دن کی جائے؟

کیا عیدالاضحٰی کی قربانی کسی اور دن کی جائے؟
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

آج عرفہ کا دن ہے، مومنین کرام  و عاشقان حیدر کرار دعائے عرفہ میں مشغول اپنے معبود کے حضور گڑگڑاتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں اپنے بہتر مستقل کے لئے رب کی بارگاہ میں خضوع و خشوع کے ساتھ ان کلمات کو دہرا رہے ہیں، جنہیں امام حسین علیہ السلام نے میدان عرفات میں اپنے لبوں پر جاری کیا تھا، جہاں ہم اپنے لئے دعا کر رہے ہیں وہیں ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ملک کی سالمیت و بقا اور وطن عزیز میں چین و سکون کے سلسلہ کیلئے بھی دعا کریں۔ کشمیر کے ان مظلوم عوام کے لئے دعا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، جو سخت ترین پابندیوں کے درمیان یوم عرفہ منا رہے ہیں اور کل آنے والی عید کے بارے میں پتہ نہیں ان پر کیا افتاد ہوگی، اسی طرح یمن نائجرییا، فلسطین، عراق و شام کے مسلمانوں کے لئے دعا ضروری ہے۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے دعا کے ساتھ آج کے دن ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کل آنے والی عید  کے سلسلہ میں بھی دعا کریں اور نہ صرف دعا کریں، بلکہ کوئی ایسا کام انجام نہ دیں جس سے دشمنوں کو موقع ملے اور نہ ہی کوئی ایسا عمل انجام دیں جو ملک کی سالمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف ہو، کل عید کا دن اس لئے بہت احتیاط کے ساتھ قدم اٹھانے کا متقاضی ہے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کا کانوڑیا تہوار (1) بھی ان ایام کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔

اسی بنا پر مختلف مقامات سے  الگ الگ آوازیں  سننے کو مل رہی ہیں، کوئی کہہ رہا ہے اس بار چونکہ عید ہندو بھائیوں کے ایک خاص تہوار کے ساتھ پڑ رہی ہے، اس لئے قربانی کی ضرورت نہیں، ہم انکی خاطر یہ قربانی دینے کو تیار ہیں کہ اس بات عید کے دن قربانی نہ کریں، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ کیا ضروری ہے ہر سال جانوروں کو ذبح کیا جائے، ہر سال اتنے وسیع پیمانے پر قربانی ہوتی ہے تو کتنے غریبوں کا پیٹ بھرتا ہے؟ کیا ضروری ہے کہ مہنگے سے مہنگے بکروں کی نمائش کی جائے اور اس بار جب ہمارے دوسرے بھائیوں کا تہوار ہے تو کیوں نہ ہم  خیر سگالی کے جذبے کے تحت انکے لئے پیچھے ہٹ جائیں، ایسے میں عید قربان غرض جتنے منھ ہیں تو اتنی باتیں ہیں، قربانی کے فلسفہ پر اگر انسان غور کرے تو متوجہ ہوگا کہ اس عید کی  بنیاد یہ نہیں ہے مہنگے سے مہنگے بکرے ذبح کئے جائیں بلکہ بنیاد جذبہ تسلیم و رضا ہے اور قربانی خواہشات کی قربانی ہے، رہ جاتی ہے بات حلال گوشت چوپایوں کے ذبح کرنے کی تو یہ اس عمل کی یاد میں ہے جو جناب ابراہیم علیہ السلام نے انجام دیا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بغیر فلسفہ قربانی کو سمجھے کچھ لوگ اسے ایک تہوار کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے نتیجہ میں دوسرے مذاہب کے تہواروں سے ملاتے ہیں، چنانچہ آپ نے بھی اخباروں میں شایع شدہ ان اپیلوں کو دیکھا ہوگا جن میں خاص کر یہ اپیل کی گئی ہے کہ عید قربان کے دن چونکہ ہندو بھائیوں کا ایک تہوار پڑ رہا ہے لہٰذا ہم قربانی کو  انکی خاطر دو تین دن بعد تاخیر سے کریں گے۔

چنانچہ مختلف بینروں تلے مختلف تنظیموں کی جانب سے عید ضحٰی کی قربانی کو ایک مخصوص تہوار کے ساتھ پڑنے کی بنا پر دوسرے دن انجام دینے کی اپیل کی گئی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ اپیل زیادہ تر اہلبیت اطہار علیھم السلام کے ماننے والوں کی جانب سے کی گئی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے۔ یوں تو قربانی مکہ میں نہ رہنے والوں کے لئے 10 ذی الحجہ کو دوسرے لوگوں کے لئے ایک مستحب عمل ہے لیکن یہ مستحب موکد ایسا نہیں کہ بلا وجہ   کسی اور دن اسے انجام دیا جائے، یہ اور بات ہے کہ کسی وجہ سے اگر کوئی قربانی نہ کر سکے تو تین دن تک وہ قربانی کر سکتا ہے، لیکن اسکی تاکید ۱۰ ذی الحجہ کو ہی ہے، عید الاضحٰی کے اس خاص دن ہی کے سلسلہ سے تاکید کی گئی ہے، اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ذرا ذرا سی بات پر ہم اپنے دینی مسائل میں پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں؟ کیا دین اب اتنا بےبس و مظلوم ہے کہ اسکی مصلحتوں کو ہم رسول خدا (ص) و امیر المومنین علی ابن ابی طالب سے زیادہ سمجھنے لگیں؟ ہمارے معصومین و آئمہ طاہرین کو کیا اس بات کا علم نہیں تھا کہ آنے والا دور کیسا ہوگا ؟ انہیں کیا ہندوستان کے بدلتے حالات کا علم نہیں تھا کہ کس طرح دین و ایمان کو سیاسی دیوں کے چرنوں میں بھینٹ چڑھایا جائے گا، تو پھر آنے والے سیاسی حالات کے پیش نظر انہوں نے ہماری آسانی کے لئے کچھ کیوں نہیں کیا؟ دینی دستورات کو اگر انہوں نے جامع انداز میں پیش کیا ہے تو یقینا مصلحتوں کو ہم سے بہتر سمجھا ہے۔ جو اپیل مختلف اردو و ہندی اخباروں  میں مختلف شیعہ گروہوں کی جانب سے گردش کر رہی ہے اس پر توجہ سے پہلے ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیں جو عید قربان کے دن قربانی کے استحباب کو بیان کر رہی ہیں، پھر آپکی مرضی رسول اللہ (ص) و امیر المومنین (ع) کی بات مانیں یا نام نہاد قائدین و مولویوں کی جو ابھی تک اپنے ہی وجود کی بھول بھلیوں سے خود کو نہیں نکال پائے تو قوم کی رہنمائی کیا کریں گے ملاحظہ ہو :

وَ جَاءَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَحْضُرُ الْأَضْحَى وَ لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُ الْأُضْحِيَّةِ فَأَسْتَقْرِضُ وَ أُضَحِّي فَقَالَ اسْتَقْرِضِي وَ ضَحِّي فَإِنَّهُ دَيْنٌ مَقْضِیٌّ۔
جناب ام سلمٰی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ نے فرمایا، یا رسول اللہ عید الاضحٰی (بقرعید) آ رہی ہے اور میرے پاس اتنی رقم نہیں کہ قربانی کر سکوں، اس لئے میں قرض لیکر قربانی کر رہی ہوں آپ نے فرمایا، قرض لو اور قربانی کرو بیشک یہ قرض ادا ہو جائے گا۔ (2)
2۔ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ (ع) كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ (ع) لَا يَأْكُلُ يَوْمَ الْأَضْحَى شَيْئاً حَتَّى يَأْكُلَ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام عید اضحی کے دن اس وقت تک کچھ تناول نہ فرماتے جب تک قربانی کا گوشت نہ کھا لیتے۔
3۔ وَلَا تَأْكُلْ يَوْمَ الْأَضْحَى شَيْئاً إِلَّا مِنْ هَدْيِكَ وَ أُضْحِيَّتِكَ إِنْ قَوِيتَ عَلَيْهِ وَ إِنْ لَمْ تَقْوَ فَمَعْذُورٌ۔
قربانی کے دن کچھ مت کھاؤ مگر یہ کہ قربانی گوشت کھایا ہو اگر قربانی کے لئے پیسے نہیں ہیں تو معذور ہو۔ (4)
4۔ قال امیر المومنین (ع) وَ إِذَا ضَحَّيْتُمْ فَكُلُوا وَ أَطْعِمُوا وَ أَهْدُوا وَ احْمَدُوا اللَّهَ عَلَى مَا رَزَقَكُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ۔
جب تم قربانی کر لو تو کھاؤ اور کھلاؤ اور لوگوں کو بطور ھدیہ تقسیم کرو اور شکر خدا بجا لاؤ کہ خدا نے (حلال گوشت) چوپاوں کا گوشت تم تمہارے لئے بطور رزق قرار دیا۔
5۔ وَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ وَ أَبُو جَعْفَرٍ (ع) يَتَصَدَّقَانِ بِثُلُثٍ عَلَى جِيرَانِهِمْ وَ بِثُلُثٍ عَلَى السُّؤَّالِ وَ بِثُلُثٍ يُمْسِكَانِهِ لِأَهْلِ الْبَيْت۔
امام زین العابدین و امام محمد باقر علیما السلام قربانی کے بعد ایک تہائی پڑوسیوں میں تقسیم فرماتے، ایک تہائی سائل کو دیتے اور ثلث اپنے گھر والوں کے لئے رکھتے تھے۔ (5)

یہ مذکورہ بالا احادیث  واضح کر رہی ہیں کہ قربانی کرنا ایک مستحب عمل ہے، بہت سے ایسے افراد جو واجب بھی انجام نہیں دیتے انہیں اس مستحب عمل کی اتنی فکر کیوں ہے کہ اسے کسی اور دن انجام دیا جائے؟ جبکہ احادیث سے واضح ہے کہ روز عید قربان اسکی تاکید کی گئی ہے۔ خیر سگالی کے جذبہ کے تحت یہ کام اتنی خوبصورتی سے کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے دیگر ہندو بھائیوں کو کوئی اذیت نہ ہو اور  کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ کسی بھی عمل کو بھونڈے پن سے انجام دینے کا مطالبہ ہمارے آئمہ طاہرین نے ہرگز ہم سے نہیں کہا ہے اور یہ بھی نہیں کہا ہےکہ اپنے دین کے ساتھ دوسروں کو خوش کرنے کے لئے کھلواڑ کرتے رہو ''حلال محمدی حلال الی یوم القیامہ۔۔۔۔۔" اجتماعی طور پر کسی بھی ایسے عمل کے لئے جس کا استحباب کسی خاص دن وارد ہوا ہے اور کسی خاص دن میں اسکی ادائیگی کی تاکید کی گئی ہے، اور ایسے عمل کے لئے کسی اور دن انجام دینے کی کوئی بات ہوتی ہے تو کوئی ایسی درخواست و اپیل ہرگز قابل قبول نہیں ہے، جو ایک مخصوص دن میں کسی خاص مستحب عمل کو نہ انجام دیکر بعض مصلحتوں کے تحت کسی دوسرے پر ڈالنے کی تاکید پر مشتمل ہو، گرچہ ہمارے یہاں فقہاء نے یہ فتوی ضرور دیا ہے کہ قربانی کو اگر کسی وجہ سے ۱۰ ذی الحجہ کو انجام نہیں دیا ہے تو انسان ایام تشریق میں اسے انجام دے سکتا ہے، لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم ۱۰ ذی الحجہ کو قربانی نہ کرنے کی وجہ از خود تراش لیں۔

کانوڑیوں کی یاترا کی بات ہے تو کسی نے ابھی تک یہ نہیں کہا کہ عید قربان انکے لئے کسی زحمت کا سبب بن رہی ہے، تو آخر ہم خود ہی کیوں  آگے بڑھ کر ایسا فیصلہ کر رہے ہیں جس میں کوئی منطق نہیں پائی جاتی، اگر بعض حساس علاقے ہیں تو وہاں بھی کچھ ایسی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں کہ دشمن کو  کوئی موقع نہ دیا جا سکے اور ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دھیان رکھا جائے ظالم و مظلوم کی جگہ بھی نہ بدلی جائے اور ایسا نہ ہو کہ ہم خود ہی اپنے آپ کو ظالم کے طور پر پیش کرنے لگیں، جیسا کہ کچھ جگہوں پر بعض شرپسند کانوڑیوں ہی کی زیادتی (6) کے سبب مسلمان لوگ اپنے گھروں تک کو چھوڑ کر جائے پناہ کی تلاش میں نکل گئے ہیں، اور بعض علاقے وہ ہیں جہاں انتظامیہ کو دفعہ ۱۴۴لگانا پڑی ہے۔ (7) کیا یا ان لوگوں کے بارے میں سوچنا ہمارا فرض نہیں جو تشدد آمیز کاروائیوں کی زد میں  آکر اپنا گھر بار تک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ (8) جبکہ دوسری طرف یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ امن پسند لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی مقدس یاترا کو امن و امان برقرار رکھتے ہوئے انجام دے رہے ہیں اور مسلمان ڈاکٹرز انکا علاج تک کرتے نظر آ رہے ہیں (9) اور ایسا بھی ہے کہ کچھ مقامات پر مسلمانوں نے پیش قدم ہوتے ہوئے انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انکی طرف سے  یاتریوں کو کسی طرح کی کوئی مشکل  پیش نہیں آئے گی، چنانچہ شہر کے ڈی ایم کو اس سلسلہ سے میمورنڈم بھی پیش کیا گیا ہے۔ (10)

یہ عمل خود بتا رہا ہے کہ مناسب طریقہ عمل یہی ہے کہ اگر کہیں عید قربان یا کسی بھی مسئلہ کو لیکر خدشات ہیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ (11) نہ یہ کہ سیدھی یہ اپیل داغ دی جائے کہ ہم عید قربان پر اس بار قربانی نہیں کرینگے کیونکہ کانوڑیوں کی یاترا انہی دنوں میں پڑ رہی ہے جس میں عید قربان ہے، اگر کسی کو کانوڑیوں سے زیادہ ہی محبت ہے تو اپنا بوریا بسترا لے جا کر انکے ساتھ شریک عمل ہو کوئی اسے نہیں روکتا، لیکن دینی اصولوں کے ساتھ مذاق ناقابل قبول ہے۔ مراجع کرام موجود ہیں، فقہاء و مجتہدین کا سایہ ہمارے سروں پر ہے، یہ قوم لاوارث نہیں ہے جو اپنے خاص سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے جو چاہے شیعہ فرنٹ بنا کر اپیلیں اور درخواستیں داغتا پھرے، موجودہ اپیل میں ذرا غور کریں کتنے فقہاء ہیں؟ کتنوں نے شریعت کے اصولوں کو سمجھنے کے لئے کسی حوزہ میں وقت صرف کیا ہے کتنی آئمہ طاہرین علیھم السلام کی حدیثوں کی طرف رجوع کیا ہے؟

فقہاء و علماء تو انکی سیاست کی روٹیوں کو سیکنے میں انکے چولہوں پر خاک نہیں ڈالتے، پھر یہ سیاسی لوگ کیوں دین کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ ہرگز ہماری قوم اس طرح کی اپیلوں کو قبول نہیں کرے گی، اور ہر سال کی طرح بہت ہی عزت و وقار کے ساتھ قربانی کے عمل کو اس طرح انجام دیا جائے گا کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ملا، کسی نے قربانی کا جانور چوراہے پر لے جا کر ذبح کرنے کا حکم نہیں دیا ہے اور جو وطن عزیز میں ایسا کرتا ہے وہ دین سے واقف ہی نہیں ہے،  لہٰذا مکمل رواداری اور بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری بھی ہرگز نہیں کریں گے، اور اپنے دینی فرائض پر بھی بحسن و خوبی عمل کریں گے انشاء اللہ، ہاں البتہ جو اپیل نام نہاد قائدین کی جانب سے کی جا رہی ہے وہ کسی مرجع وقت کی جانب سے کی جائے یا معتبر علماء، ہندوستان کی مصلحتوں کے پیش نظر کوئی فیصلہ کریں تو  الگ بات ہے لیکن فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے آپ تمام حضرات سے گزارش ہے افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے اپنے اپنے علاقے کے علماء سے رجوع کریں، اور انکی قیادت میں اپنے مذہبی فرائض کو ادا کریں۔ پروردگار ہم سب کو توفیق بندگی عنایت فرمائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1۔ کانوڑ یاترا (ہندی: कांवड़ यात्रा) ایک ایسا  مقدس سفر جسے شیو کے عقیدت مند (جن کو کانوڑیا یا بھولے کہا جاتا ہے) گنگا کا مقدس پانی لانے کے لئے ہریدوار، گومکھ اور صوبہ اتراکھنڈ کے گنگوتری اور صوبہ بہار کے سلطان گنج کا رخ کرتے ہیں،۱۹۸۰ء کی دہائی تک یہ یاترا بہت محدود تھی اور محض چند عقیدت مند اور سادھو سنت اس میں حصہ لیتے تھے۔ لیکن 1980ء کے بعد یہ یاترا عوام میں مقبول ہونے لگی۔ آج کے دور میں کانوڑ یاترا بھارت کے سب سے بڑے اجتماعات میں سے ایک ہے، جس میں بھارت کے تقریباً تمام تر علاقوں سے عقیدت مند شیو اور عازمین سفر مقدس ہریدوار کا رخ کرتے ہیں۔ 2010ء اور 2011ء میں تقریباً 12 ملین عازمین نے اس تقریب میں حصہ لیا تھا۔ یہ عقیدت مند زیادہ تر دہلی، دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان، پنجاب، بہار سے ہوتے ہیں اور کچھ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش سے بھی ہوتے ہی۔
http://web.archive.org/web/20190107014827/https://www.amazon.in/Uprising-Fools-Pilgrimage-Protest-Contemporary-ebook/dp/B06XGP8DNW?_encoding=UTF8&deviceType=desktop&keywords=uprising%20of%20the%20fools&qid=1490716771&ref_=sr_1_1&sr=8-1
Singh, Vikash, (2017). Uprising of the fools : pilgrimage as moral protest in contemporary India. Stanford, CA: Stanford University Press. ISBN 978-1503601673OCLC 953363490.
2۔ من لا يحضره الفقيه، ج2، ص: 213
3۔ من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 508
4۔ من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 508
5۔ من لا يحضره الفقيه، ج2، ص: 493
9۔ https://asrehazir.com/hrnnews/
خبر کا کوڈ : 810131
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب