0
Sunday 11 Aug 2019 16:13

جلتا کشمیر اور مسلمانان عالم کی بےحسی۔۔۔!

جلتا کشمیر اور مسلمانان عالم کی بےحسی۔۔۔!
تحریر: ایس ایس ناصری
 
مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے نہتے کشمیری مسلمانوں پر سنگیں ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی بدتریں پامالی رواء رکھے ہوئے ہیں۔ بہارتی فوج کی ظلم و بربریت یہ ہے کہ نہ انکو کشمیری ماں بہنوں پر ترس ہے اور نہ ہی شیرخوار اطفال پر، نہ بزگوں کی بزرگی کا احساس ہے اور نہ ہی تعیلیمی اداروں میں حصول علم میں مشغول طلباء کی محنت اور مشقت کی فکر، ان کو صرف اپنی وحشیانہ حرکات سے غرض ہے، اور یہ کئی عشروں سے جاری ہیں، یہاں تک بوڑھی مائیں اپنی نظروں کے سامنے اپنے جوان بیٹوں کی لاشیں اپنے مردوں کےکاندھوں پر اٹھاتے دیکھتی آرہی ہیں۔ ہزاروں نئی نویلی دلہنیں بیوہ ہوگئی ہیں، اور ہزاروں بہنوں کے سروں سے بھائی کا سایہ اٹھ گیا ہے۔ باپ کے سامنے ان کے جوان بیٹیوں کی عصمت تار تار کی جارہی ہے، پھر بھی بہادر اور نڈر کشمیری بہن بھائی اپنے حق خود اداریت کیلئے یکجا ہو کر ان ظالم بھارتی افواج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور بندوق اور توپوں کی گولیوں کا جواب لاٹھی اور پتھروں سے دے رہے ہیں ان کی جرات مندی اور ہمت کی جتنی تعریف کریں کم ہے۔ اس موقع پر انہیں انکے صبر و استقامت اور بہادری پر سلام پیش کریں تو بیجا نہ ہوگا۔
 
کشمیریوں کی اس دلیرانہ اور بہادرانہ حکمت عملی نے آج تک بھارت کو پسپا کر کے رکھا ہوا ہے اور سکیولر بھارت نے کشمیری مسلمانون پر طرح طرح کے مظالم ڈھانے میں کسی قسم کی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ حالیہ دنوں میں نام نہاد جمہوریت کے دعویدار بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ایک اور وار کیا ہے، جس سے ان کی جمہوریت کے دعوے کا جنازہ نکل گیا ہے۔ بھارت سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35اے ختم کرنا اسکی مکروہ ذہنیت کا عکاس ہے۔ اس سے بھارتی عزائم کھل کر سامنے آئے ہیں۔
حالیہ بھارتی اقدام کشمیری مسلمانوں اور دیگر کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ اور ان کے حقوق پر ڈھاکہ ہے۔ اس اقدام سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک اور مقبوضہ کشمیر میں دیگر اقوام کو بسانے کی سازش کے ساتھ اس خطے کی خاص اہمیت کو روند ڈالنا ہے، اور کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا گھناؤنا حربہ ہے۔ جنگجو مودی سرکار کا یہ فیصلہ 1947ء میں مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کی جانب سے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصادم ہے۔ اسطرح کے یکطرفہ فیصلہ سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی کے ساتھ غیر اخلاقی بھی ہیں۔ جس کے خطرناک نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے۔

اس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہوگا اور خطے کا امن مزید تباہ ہونے کا اندیشہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف بسنے والے مسلمانوں اور پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور35اے ختم کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بجائے مزید ظلم و ستم سے وادی میں خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے اور مظالم انتہا پر ہیں، زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ تحریک آزادی کو کچلنے اور اسے ختم کرنے کیلئے بھارتی قابضیں اور فوجی نہتے کشمیری مسلمانون پر ظلم کی داستان رقم کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کی بدتریں پامالی روا رکھے ہوئے ہیں۔ انتہاء پسند بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور طرح طرح کے الزامات اور دھمکیوں سے مسلسل مسئلہ کشمیر سے چشم پوشی اختیار کرنے اور مزید اس مسئلے کو الجھانے میں ہر قسم کے افعال سر انجام دے رہا ہے، جس سے نہ صرف اس خطے کے مظلوم کشمیری مسلمان پریشان ہیں، بلکہ اس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی توہیں ہو رہی ہے، پھر بھی آنکھ بند کر کے کشمیریوں پر شب خون مارا جارہا ہے۔
 
اس وقت مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کا واضح مقصد اقوام عالم اور عالم اسلام کی توجہ اس مسئلہ کی جانب مبذول کرانا ہے کہ آخر کب تک بےگناہ کشمیریوں کے خوں کی ہولی کھیلتے رہیں گے، اور بے گناہوں کی خوں کی ندیاں بہاتے رہیں گے۔ ایک طرف مظلوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں تو دوسری طرف نہ صرف پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان سے لیکر ساحل کراچی تک لوگ سراپا احتجاج ہیں، بلکہ غاصب بھارت کے زیر انتظام کارگل اور دیگر جہگوں پر بھی مودی سرکار کے اس ناجائز اور ظالمانہ فیصلہ اور رویہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل کر مظلوم مقبوضہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے غلط فیصلے کو واپس لینے اور انہیں حقوق دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہاں تک بھارت کی اسمبلی میں کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین نے اس فیصلہ کو انسانیت سوز اور بھارتی تاریخ کا سیاہ تریں فیصلہ قرار دیا ہے، اور اس کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، تاہم مودی سرکار نے مظالم کو روکنے کی بجائے مقبوضہ وادی میں مزید تازہ دم فوجی دستے بھیج دیئے ہیں۔ انتہا پسند بھارت پچھلے سات سے زائد دھائیوں سے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کیلے تیار نہیں اور اپنی ہٹ دھرمی اور طرح طرح کے الزامات سے کشمیریوں سے نگاہیں چرا رہا ہے۔

اس وقت آٹھ دنوں سے لگاتار کرفیو کے باوجود پوری وادی سراپا احتجاج ہے، اور آزادی آزادی کی نعروں سے گونج رہی ہے۔ احتجاج کے دوران بھارتی فوجیوں کی ہٹ دھرمی اور مظالم سے شھید ہونے والے نوجوانون کو پاکستانی سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوسوں کی شکل میں آخری منزل کی طرف پہنچا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں انسانیت سے محبت اور ہمدردی کرنے والے لوگ کشمیری بہن، بھائیوں اور بوڑھے ماں، باپ کو سلام پیش کر رہے ہیں، جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور آئے روز اپنے پیاروں کا جنازہ اٹھانے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف بلند رکھا ہوا ہے بلکہ ان کی جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظر آرہی ہے، مظلوم کشمیری عوام نے بھارت کی طرف سے انسانیت سوز مظالم کے باوجود جگہ جگہ پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہرا کر اقوام عالم کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مگر ستم یہ ہے کہ مسلمانوں کے نام پر بنائی ہوئی تنظیموں کے سربراہاں اس وقت خواب غفلت میں ہیں اور انہیں مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی کوئی پرواہ نہیں، کہاں ہے عالم اسلام۔۔؟؟
 
اس وقت کشمیر سمیت دیگر کئی ممالک میں بچوں کا لہو ٹپک رہا ہے اور دنیا بھر کے اسلامی ممالک ذاتی مفادات کی سیاست میں مشغول ہیں، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم پر عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی خاموشی معنی خیز ہے، لیکن عالم اسلام کو چاہیئے کہ آج مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں اور یکجا ہو جائیں، اگر آج بھی عالم اسلام، محمد مصطفٰی (ص) کی امت پر ہونے والے مظالم سے نہ جاگا تو وہ وقت دور نہیں کہ ہر طرف دشمنوں کی یلغار ہوگی، اور مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھیں گے۔ اور شائد اس وقت ہماری سوئی ہوئی غیرت کسی کام نہںی آئیگی۔ آج کشمیر نہیں جل رہا ہے بلکہ محمد عربی کی امت جل رہی ہے، اور اسلامی ممالک کے بےحس حکمران، اسلامی جماعتیں، دینی تنظیمیں، کشمیری مسلمانوں کے بہتی لہو کا تماشا دیکھ رہی ہیں، اور ہمارا ضمیر مردگی کے عالم میں سو رہا ہے، اگر یہی حالت رہی تو اسکا خیمازہ ہمیں بھگتنا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 810133
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب