0
Monday 12 Aug 2019 08:35

عید قربان، عید قرب الہیٰ

عید قربان، عید قرب الہیٰ
اداریہ
خداوند عالم مختلف بہانوں سے اپنے بندوں کو اپنے قرب کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ تمام عبادات اور خداوند عالم کی خلق شدہ مخلوق کی خدمت بھی قرب الہیٰ اور خوشنودی خدا کا باعث بنتی ہے۔ اسلام اور انسانیت کے لئے دی جانے والی قربانی بھی قرب الہیٰ کا باعث بنتی ہے۔ قربانی کا لفظ بھی قرب سے نکلا ہے، یعنی جو خداوند عالم کے راستے میں جتنی بڑی قربانی دے گا، اسے اسی قدر زیادہ قرب الہیٰ حاصل ہوگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کرکے اطاعت خداوندی کا اظہار کیا اور اطاعت کا ہدف و مقصد بھی خوشنودی خدا اور قربت الہیٰ ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی سب سے عزیز شے کو راہ خدا میں قربان کرنے کے لئے پیش کیا۔ ہر انسان کا اپنا اسماعیل ہوتا ہے، اسماعیل استعارہ ہے، سب سے زیادہ عزیز و پیاری چیز کا۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو ایسی حالت میں قربانی کے لئے پیش کیا کہ انہیں کائنات میں اسماعیل سے زیادہ کوئی چیز عزیز اور پیاری نہ تھی۔ دعاوں سے مانگا ہوا، مدتوں بعد ملنے والا اور بڑھاپے کا سہارا، مطیع و فرمان بردار فرزند اسماعیل ہر باپ کی دلی تمنا ہوتی ہے، لیکن حضرت ابراہیم نے خوشنودی خدا اور قربت خداوندی کے لئے اپنے اس قیمتی سرمائے کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔

حضرت ابراہیم کی یہ ادا اور خدا سے قرب کی خواہش خداوند عالم کو اتنی پسند آئی کہ قربانی ابراہیم کو تمام آنے والی نسلوں کے لئے انتہائی اہم قرار دے دیا، ہر سال دنیا بھر میں پھیلے مسلمان اس دن کو جانوروں کی قربانی دے کر حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔ عید قربان کے دن دنیا بھر میں بسنے والے انسان دنبے، بکرے، اونٹ یا گائے وغیرہ کی قربانی دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں، لیکن کیا یہ جانور ہمیں اتنے عزیز ہیں کہ ان کی قربانی سے ہمیں قرب الہیٰ نصیب ہو جائے گا۔ کیا یہ جانور ہمیں اسی طرح عزیز ہیں، جیسے حضرت ابراہیم کو حضرت اسماعیل تھے۔ ہمارا اسماعیل کون ہے۔ ہمیں دنیا میں کون سی چیز سب سے زیادہ پیاری ہے۔ کوئی عہدے کو عزیز رکھتا ہے، کسی کو دولت و بینک بیلنس پیارا ہوتا ہے، کوئی اپنی جاب کو سب سے زیادہ پیارا سمجھتا ہے۔ کوئی قیادت کو اور کوئی پیری مریدی کو۔ کسی کو اپنا نفس اور اپنی انا بہت عزیز ہوتی ہے۔

ہم نے سنت ابراہیمی پر عمل کرکے بھی اپنی نفسانی خواہشات، انانیت، خود پسندی، تکبر اور خود پرستی کو قربان کرنے کی کوشش کی ہے۔؟ قرب الہیٰ کے لئے قربانی ضروری ہے اور قربانی کے لئے بظاہر کچھ کھونا پڑتا ہے، ہم کچھ کھوئے بغیر قرب الہیٰ اور خوشنودی خدا حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ سیدالشہداء فرماتے ہیں کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر سب کچھ بھی پا لیا تو تم نے کچھ حاصل نہیں کیا اور سب کچھ چھوڑ کر صرف خداوند عالم کا قرب حاصل کر لیا تو گویا سب کچھ پا لیا۔ عید قربان کا دن قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کا دن ہے۔ آج کشمیر، بحرین، یمن، فلسطین، افغانستان سمیت مختلف اسلامی سرزمینوں پر اسلام دشمن طاقتیں اسلام کو نابود کرنے کی خواہاں ہیں، امت مسلمہ کو مظلوموں، محروموں اور مستضعفین کو نجات دلانے کے لئے ابراہیمی جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا
خبر کا کوڈ : 810177
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب