0
Monday 12 Aug 2019 15:55

پاراچنار میں عید اور دیگر تہواروں میں مروجہ رسومات

پاراچنار میں عید اور دیگر تہواروں میں مروجہ رسومات
تحریر: ایس این حسینی

ملک بھر کی طرح ضلع کرم میں بھی عید مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ عید ہو یا دوسری مذہبی رسومات و مناسبات، محرم ہو یا دیگر رسمی تہوار، یہ تمام تر پروگرامات پاراچنار میں ایک انوکھے انداز سے منائے جاتے ہیں۔ ان ساری مناسبات کا ذکر کرنا باعث طوالت ہوگا، چنانچہ عید قربان ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔

عید قربان کیلئے تیاریاں:
عید قربان سے ہفتہ دو ہفتے پہلے لوگ تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔ نئے کپڑے تیار کرتے ہیں۔ قربانی کے جانور خریدتے ہیں۔ ایک خاص بات کہ جن لوگوں نے تازہ منگنی کی ہوتی ہے، وہ پہلی عید کے موقع پر اپنی بہو کیلئے تحفے تحائف اور زیورات وغیرہ خرید کر لے جاتے ہیں۔ عید سے ایک دن، دو یا تین دن قبل شادی شدہ بہنوں اور بیٹیوں کے پاس میٹھائی، مقامی شیرینی، بھنی مکئی اور دیگر تحفے تحائف لے جاتے ہیں۔ عید کی شب بہترین کھانا، خصوصاً پلاؤ وغیرہ پکایا جاتا ہے۔

عید کا دن:
عید کے دن صبح سویرے لوگ جاگ کر نزدیک واقع مسجد و امامبارگاہ جاتے ہیں اور وہاں پر اجتماعی دعا کرکے گلے مل کر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ وہاں سے پلٹ کر ایک گاؤں یا ایک محلے کے بچے اور رشتہ داروں کے مرد و خواتین ایک دوسرے کے گھروں میں جا کر مبارکبار پیش کرتے ہیں۔ خواتین ان کے گھر آنے والے افراد خصوصاً بچوں کو عیدی کے طور پر ابلے انڈے یا نقد روپے دیتی ہیں۔
اس کے بعد مرد قریب واقع عیدگاہ جبکہ بعض افراد مرکزی عید گاہ پاراچنار جاتے ہیں۔ جہاں مرکزی جامع مسجد پاراچنار کے پیش امام جو کہ اس وقت علامہ شیخ فدا حسین مظاہری ہیں، کی امامت میں نماز عید ادا ہوتی ہے۔ چنانچہ لوگ عید گاہوں میں نماز عید ادا کرتے ہیں۔

نماز اور عید کے دیگر مستحب اعمال کے بعد مجلس کا اہتمام ہوتا ہے۔ مجلس شروع ہونے سے پہلے یا بعض مقامات پر مجلس کے بعد علاقے میں ہونے والے ان مرحومین کیلئے اجتماعی فاتحہ خوانی کی جاتی ہے، جن کی فوتگی کے بعد یہ ان کی پہلی عید ہو۔ پورے سال کی مجالس ایک طرف عید کی دو مجالس کا ایک انوکھا لطف اور مزہ ہوتا ہے۔ عید کی مجلس میں جیسے ہی مرثیہ اور نوحہ شروع ہوتا ہے، لوگ دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتے ہیں۔ بالخصوص وہ افراد جن کا کوئی قریبی رشتہ دار تازہ تازہ فوت ہوا ہو۔

انفرادی و اجتماعی قربانیاں
نماز عید اور مجلس کے بعد لوگ گھروں کو لوٹ کر قربانی کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس موقع پر انفرادی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی قربانیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اجتماعی قربانیوں میں ایک مقام پر 20 سے لیکر 50 تک چھوٹے جانور جبکہ 5 سے لیکر دس یا پندرہ تک بڑے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ اجتماعی قربانیوں کے حوالے سے سب سے بڑا پروگرام تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی علامہ سید عابد حسین الحسینی کی سرپرستی میں ان کے گاؤں آڑخی میں منعقد ہوتا ہے۔ جس میں پچاس یا اس سے کچھ زیادہ جانور ذبح ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی جامع مسجد کے پیش امام کی سرپرستی میں نیز مجلس علمائے اہلبیت کے زیر اہتمام بھی اجتماعی قربانیوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ نماز عید کا سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد پاراچنار کے وقت کے پیش امام کی امامت میں مرکزی عید گاہ پاراچنار میں جبکہ دوسرا بڑا اجتماع علامہ عابد حسین الحسینی کی امامت میں قبادشاہ خیل میں منعقد ہوتا ہے۔

آج کے اجتماعات کی روئیداد
گذشتہ کی طرح اس سال بھی دونوں مقامات پر بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ مجمع سے خطاب کے دوران مرکزی عیدگاہ پاراچنار میں نائب پیش امام علامہ ارمان علی صاحب نے کشمیر کے حوالے سے بھارت کے فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ کشمیر اور اس جیسے مسلمانوں کے دیگر مسائل کیلئے مسلم ممالک کو متحد ہونا چاہیئے اور متفقہ پلیٹ فارم سے اس کے خلاف نہ صرف احتجاج بلند کرنا چاہیئے، بلکہ اس کے لئے عملی طور پر اقدامات بھی کرنا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو چاہیئے کہ وہ 42 ملکی اتحاد کو مسلمانوں کی بجائے مسلمانوں کے دشمنوں پر آزمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے ڈرا کر آپس میں لڑانے کا کھیل کھیل رہا ہے اور دھڑا دھڑ اپنا فرسودہ اور ناکارہ اسلحہ انہیں بیچ رہا ہے۔

دوسری جانب قبادشاہ خیل میں عید کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عابد حسین الحسینی نے کہا کہ علاقے کے لئے سب سے خطرناک چیز نشہ، بے پردگی اور فحاشی ہے۔ لہذا عوام کو چاہیئے کہ اس سلسلے میں مرکز اور تحریک کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بھارت کے نئے فیصلے کی بھی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ بھارت نے اپنے ہی آئین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ انہوں نے تمام مسلم ممالک سے پاکستان کے ساتھ کشمیر کاز پر تعاون کی اپیل کی۔
خبر کا کوڈ : 810193
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب