0
Monday 12 Aug 2019 19:47
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، بھارتی فوج سے بیزاری

ملک بھر میں عیدالاضحٰی سادگی و احترام کیساتھ منائی گئی

بلاول نے مظفرآباد، سپہ سالار نے لائن آف کنٹرول پہ عید گزاری
ملک بھر میں عیدالاضحٰی سادگی و احترام کیساتھ منائی گئی
رپورٹ: آئی اے خان

ملک بھر میں عید الاضحٰی روایتی جوش و جذبے اور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں میں نماز عید کے اجتماعات ہوئے۔ ان اجتماعات میں وطن عزیز پاکستان کی سلامتی و ترقی اور کشمیر و فلسطین کی آزادی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ صدر مملکت اور وزیراعظم نے اسلام آباد، گورنر وزیراعلٰی پنجاب نے لاہور کی بادشاہی مسجد جبکہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے گورنرز، وزرائے اعلٰی، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنے اپنے آبائی علاقوں میں نماز عید ادا کی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ماڈل ٹاون لاہور میں نماز عید ادا کی۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پاک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیری بھائیوں‌ سے اظہار یک جہتی کیلئے مظفر آباد میں‌ نماز عید ادا کی۔ شاہ محمود قریشی نے نماز عید کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے، ہر فرد مسئلہ کشمیر پر یک زبان ہے۔ یہ معاملہ ہر قسم کی سیاست سے بالاتر اور اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کا موقف بھی ایک ہے۔ وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو یکطرفہ کارروائی کی، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے، معاملے پر یکسوئی سے آگے بڑھ رہے ہیں، پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، بھارتی حکومت مقبوضہ وادی سے کرفیو اٹھائے اور کشمیریوں کو مذہبی آزادی کے تحت عیدالاضحیٰ منانے کی اجازت دے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے، یہ حملہ نہرو اور گاندھی کے بھارت پر بھی ہے اور اقوام متحدہ پر بھی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ مودی ایک انتہاپسند وزیراعظم ہے جس کے ہاتھ گجرات کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جس نے کشمیر میں مسلسل ریاستی دہشت گردی جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مقبوضہ کشمیر پر بات ہوتی ہے تو مریم نواز کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، میں یہاں پہنچا تو فریال تالپور کو اسپتال سے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم قومی اسمبلی میں کہتا ہے کہ میں کیا کروں تو عوام مایوس ہوں گے، ہم مودی کے منتخب ہونے پر مبارکباد بھیجتے ہیں حالانکہ وہ گجرات کا قصاب ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر پاکستان میں مودی جیسی انتہا پسند حکومت ہوتی تو کیا بھارت خاموش رہتا؟ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو ہر فورم پر بے نقاب کیا جائے، پورا کشمیر حکومت پاکستان کی جانب دیکھ رہا ہے، جو آواز مقبوضہ کشمیر میں دبائی جا رہی ہے اسے یہاں سے اٹھانا چاہیئے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم حکومت کو سونے نہیں دیں گے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کی بنیاد کشمیر کاز پر رکھی، محترمہ بے نظیر بھٹو نے کشمیر کے لیے ہر فورم پر جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے نعرہ لگایا تھا ’ہمارا نعرہ سب پر بھاری، رائے شماری رائے شماری‘،۔ بعد ازاں اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں سے ان کے بنیادی حقوق چھین لیے ہیں اور دنیا بے حسی سے یہ سب دیکھ رہی ہے، جب دنیا میں اچھے لوگ کچھ نہیں کرتے تو برائی غالب آ جاتی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد کی فیصل مسجد میں نماز عید ادا کی، جس میں ملکی سلامتی، استحکام اور کشمیریوں کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ صدر مملکت لوگوں میں گھل مل گئے اور انہیں خوشی کے اس موقع پر مبارکباد دی۔ وزیراعلٰی پنجاب نے نماز عید کے بعد پودا لگایا، اس موقع پر گورنر چودھری سرور بھی موجود تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے صوابی، خورشید شاہ نے سکھر، خواجہ آصف نے سیالکوٹ، سراج الحق نے لاہور اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے اپنے آبائی علاقوں میں عید کی نماز ادا کی۔

وزیراعظم عمران خان نے بنی گالا میں نماز عید ادا کی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کوئٹہ اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی فیصل مسجد میں عید پڑھی۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپنے آبائی علاقہ عبدالخیل میں نماز عید کی امامت کی۔ پاک سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے عید کا دن لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں پہ فوجی جوانوں کے ساتھ گزارا۔ آرمی چیف نے باغ سیکٹر میں عید کی نماز اگلے مورچوں پر تعینات فوجی جوانوں کے ساتھ ادا کی۔ اس موقع پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر کثیرالجہتی کاوشیں کی ہیں اور بحران کے حل کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، مسئلہ کشمیر ہمارے لیے ایسے ہی اہمیت رکھتا ہے جیسے امن کی خواہش، امن کی خواہش کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں اور کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ  بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کا ہتھکنڈا استعمال کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے تاہم ہم ایسی کسی بھی بھارتی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں، ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور قربانیاں دیتے رہیں گے، بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے سنگین جرائم کی پردہ پوشی نہیں کرنے دیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہمارا مذہب ہمیں امن کا درس دیتا ہے، سچ کے لیے استقامت اور قربانی بھی سکھاتا ہے، پاک فوج عید قرباں بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر کے باسیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منارہی ہے، بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہٹا کر ایل او سی اور پاکستان پر مرکوز کرانا چاہتا ہے تاہم جتنا وقت، جتنی کاوشیں درکار ہوں کریں گے اور انشاء اللہ ہر چیلنج پر پورا اتریں گے۔ یاد رہے کہ حکومت نے حالیہ عیدالاضحٰی کو کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجتی کیلئے سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قوم نے نماز عید کی ادائیگی کے بعد ملکی سلامتی و خوشحالی کے ساتھ ساتھ کشمیر کی آزادی کیلئے بھی خصوصی دعائیں کیں۔

کشمیر میں بھارتی مظالم کے باعث پاکستان بھر میں عیدالاضحٰی نہایت سادگی و احترام کے ساتھ منائی گئی، دنیا بھر کے امن پسند عوام کے احتجاج اور مذمت کے باوجود عید کے دن بھی بھارتی افواج نے کشمیری مسلمانوں پہ جاری مظالم میں کوئی کمی نہیں کی۔ مقبوضہ کشمیر میں آج عید کے روز بھی کرفیو نافذ ہونے کے باعث شہریوں کی اکثریت نہ تو نماز عید کی ادائیگی کرسکی اور نہ ہی انہیں سنت ابراہیمی کی پیروی میں قربانی ادا کرنے کا موقع دیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے تاحال وادی بھر میں کرفیو فافذ ہے، جارحیت پسند مودی انتظامیہ نے عید کے بڑے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہ دیکر نماز عید کی ادائیگی سے روک دیا جب کہ سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانور کی قربانی بھی مشکل بنادی گئی۔

پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے، کرفیو، انٹرنیٹ اور فون سروس بند ہونے کے باعث بینک بند رہے جس کی وجہ سے اے ٹی ایمز میں بھی پیسے نہیں رکھے گئے، ان حالات میں مویشیوں کی خریداری ناممکن تھی اس لیے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت بھی نہ ہونے کے برابر رہی تھی۔ آرٹیکل 35-اے اور 370 کو ختم کرنے کے سیاہ عمل کے بعد سے مودی سرکار خوف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے، کسی ممکنہ احتجاج اور مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر مودی سرکار نے بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کرلیے ہیں۔ ان تمام نفرت آمیز اقدامات سے مودی سرکار کا مکروہ چہرہ دنیا بھر میں بے نقاب ہوا ہے۔
خبر کا کوڈ : 810236
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب