0
Tuesday 13 Aug 2019 07:29

عزم و ارادے کی جنگ

عزم و ارادے کی جنگ
اداریہ
سعودی عرب نے جب یمن پر اپنی جارحیت کا آغاز کیا تھا تو اس وقت کے سعودی وزیر خارجہ سینہ تان کر سفارتی حلقوں میں یہ کہتے نظر آئے کہ یہ مسئلہ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا اور ریاض جو چاہے گا وہی صنعا میں ہوگا۔ سعودی عرب کو بہت جلد احساس  ہوگیا کہ یمن کے انقلابیوں کو شکست دینا اتنا آسان نہیں، لہذا کئی اسلامی اور غیر اسلامی ممالک پر مشتمل اتحاد تشکیل دیا گیا، جس میں امریکہ سمیت متحدہ عرب امارات کو خصوصی اہمیت دی گئی، اس اتحاد کے نتیجے میں مظلوم اور عربوں میں سب سے غریب ملک یمن پر زمینی، فضائی اور سمندری راستوں سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا، لیکن یمنی مجاہد اس اتحاد اور اس کے کرائے کے فوجیوں کے مقابلے میں ڈٹے رہے، لیکن اب خبریں آرہی ہیں کہ یمن پر جارحیت کرنے کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا اتحاد چار سال سے زائد عرصے کے بعد اب جنوبی عدن میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے اور دونوں ہی ممالک ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ عبوری کونسل نے گذشتہ چار روز کے دوران عدن کے اہم ترین فوجی مراکز اور حساس مقامات پر اپنا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس دوران سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے گذشتہ چند دنوں میں عبوری کونسل کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ ادھر یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے سینیئر رکن محمد البخیتی نے العالم سے اپنی گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اتحاد نے یمن کے مستعفی اور مفرور صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے بہانے یمن پر وحشیانہ جارحیت اور اس ملک کا شدید ترین محاصرہ کرکے لاکھوں یمنیوں کا قتل عام کیا۔ البخیتی نے عدن کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ منصور ہادی کی نہ صرف یہ کہ عدن میں کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی بلکہ اس کے سعودی اتحادیوں نے منصور ہادی کی ظاہری حیثیت کو بھی تباہ کر دیا۔

انصاراللہ کے رہنماء نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اتحاد نے یمن میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر خود اپنے ہی اتحادی گروہوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمنی عوام کی استقامت اور مزاحمت کے مقابلے میں شکست کھانے کے بعد اب یمن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ اس کشیدگی اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کی جنگ کو باہمی مفادات کے ٹکراو سے زیادہ جنگ کی طوالت اور ممکنہ شکست سے فرار کی ایک علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ یمن کے مجاہدین نے اسلحے سے نہیں اپنے عزم اور ارادے سے دشمن کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے اور یہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ کے اس بابصیرت جملے کی عملی تصویر ہے کہ آج کی جنگ عزم و ارادے کی جنگ ہے، جو مضبوط عزم و ارادے کا مالک ہوگا، کامیابی اس کے قدم چومے گی۔
خبر کا کوڈ : 810252
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب