0
Tuesday 13 Aug 2019 16:59

اب کشمیر کیلئے فقط نغمے اور گلگت بلتستان کیلئے۔۔۔۔!

اب کشمیر کیلئے فقط نغمے اور گلگت بلتستان کیلئے۔۔۔۔!
تحریر: شریف ولی کھرمنگی
 
70 کی دہائی میں بھٹو والی پی پی پی کے ممبر مخدوم سجاد حسین قریشی نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگنے کے بعد فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی صدارت کو سپورٹ کیا۔ تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہنے والے اور پھر ضیاء الحق کی مہربانی سے گورنر پنجاب بننے والے انہی سابق سینیٹر صاحب کے صاحبزادے شاہ محمود قریشی موجودہ وزیر خارجہ پاکستان ہیں۔ شاہ محمود قریشی کیمبرج یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں؛ سن 80 کی دہائی کی مڈ میں ضیاء الحق کے تاریک زمانے میں پارٹی بنیادوں کے بغیر ہونیوالے الیکشن میں ملتان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہونے کے بعد سن 1986ء میں ابتدا میں پیپلز پارٹی کی مخالفت کیلئے بنی ضیائی اتحاد "آئی جے آئی" اور اس اتحاد کی بڑی اور اہم رکن جماعت مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ ضیاء الحق کی ہلاکت کے بعد مسلم لیگ دو دھڑوں میں بٹ کر ایک دھڑا مسلم لیگ نون کی شکل میں نواز شریف کی قیادت میں آگیا؛ تو شاہ محمود قریشی اسکا حصہ بن گٸے، جس کے ممبر کے بطور 1988ء کے الیکشن میں دوبارہ صوبائی سیٹ پر منتخب ہو کر وزیراعلیٰ نواز شریف کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر ترقیات و منصوبہ بندی بن گئے۔ تیسری مرتبہ 1990ء کے الیکشن میں ملتان سے منتخب ہوکر جونیجو والی مسلم لیگ کی حکومت میں میاں منظور وٹو کی پنجاب کابینہ کا وزیر خزانہ کے طور پر حصہ رہے۔ مگر تین سال بعد سن 1993ء میں قریشی صاحب پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔
 
1993ء کے جنرل الیکشن میں قومی اسمبلی کی سیٹ پر پہلی مرتبہ منتخب ہوکر بینظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور بن گئے اور 1996ء میں پارٹی ترجمان قرار پائے۔ جاوید ہاشمی نے 1997ء میں انہیں شکست دی اور 5 سال کے عرصے کیلئے قومی سیاست سے آوٹ ہوگئے۔ 2000ء سے لیکر 2002ء تک وہ ملتان کے سٹی ناظم رہے اور پھر 2002ء کے جنرل الیکشن میں جاوید ہاشمی کو ہرا کر دوبارہ قومی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ 2006ء میں بینظیر بھٹو نے انہیں پی پی پنجاب کا صدر نامزد کر دیا اور تیسری مرتبہ 2008ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کی ملتان کی نشست پی پی کے ٹکٹ پر جیت گئے۔ وہ وزارت عظمیٰ کے موزوں ترین امیدوار سمجھے جاتے تھے، مگر گیلانی کی کابینہ میں وزارت خارجہ کا عہدہ ملا، جسے بعد ازاں 2011ء میں امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے ایشو پر واپس لیا گیا۔ قریشی کو وزارت پانی و بجلی کی آفر کی گئی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا، تاہم انہوں نے چند ماہ بعد قومی اسمبلی کی نشست چھوڑتے ہوئے پی پی سے اپنا بیس سالہ طویل تعلق ہی توڑ ڈالا۔ پی پی کو زرداری لیگ قرار دیا۔ 2011ء کے آخر میں انہوں نے پی ٹی آئی کو نون لیگ پر ترجیح دیتے ہوئے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے پہلے وائس چئیرمین قرار پائے۔ 2013ء اور پھر 2018ء کے الیکشن میں وہ تحریک انصاف کی ٹکٹ سے قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے، اسطرح اگست 2018ء میں قریشی صاحب وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ قرار پائے۔
 
دراصل کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ جو وزارت خارجہ کے اہم ترین عہدے پر متمکن ہیں، وہ شخص ملک کی تین چوٹی کی جماعتوں میں حکومتی عہدے انجوائے کرتے آئے ہیں۔ سیاست کے پیچ و خم اور ملکی و غیر ملکی معاملات میں خارجہ و داخلہ امور سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان جماعتوں کے کون کون سے لوگ کن کن ایشوز پر کتنے پانی میں ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں کے عوام کشمیر کے حوالے سے اور کشمیر کی عوام دیگر علاقوں کی بابت کیسی سوچ رکھتے ہیں۔ سو انہیں گلگت بلتستان اور اس کی جغرافیائی و عوامی امور سے بھی واقفیت ہوگی۔ ان کو جی بی کی عوام کے مطالبات، ان کے مسائل اور ملکی معاملات میں اس خطے کی اہمیت سے بھی یقیناً آشنائی ہوگی۔ اتنے تجربہ کار 63 سالہ وزیر نے گذشتہ دنوں آزاد کشمیر میں واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان کی پوزیشن بالکل بھی تبدیل نہیں کرنے جا رہا، کیونکہ ان کے بقول اس سے کشمیر ایشو پر پاکستان کا کیس کمزور ہوگا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کو ہندوستان نے 1954ء میں اپنے آئین میں شامل کرکے اسمبلیوں میں نمائندگی دی اور اسپیشل قوانین کے حقوق سمیت ریاستی اسمبلی بھی دے دی۔

کشمیر کی اکثریت آبادی اور علاقے پر انڈیا نے قبضہ جمائے رکھا، مگر پھر بھی کشمیر پر انڈیا کا کیس کمزور نہیں پڑا۔ بھٹو جیسا سیاستدان جس نے پاکستان کو 73 کا آئین دیا، انہوں نے بھی شاہ محمود والے اسی فارمولے، بہانے بلکہ مفروضے کے تحت انڈین آئین کے بننے کے بیس سال بعد بننے والے پاکستانی آئین میں گلگت بلتستان کی حیثیت کو واضح کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے پر اکتفا کیا۔ آج گلگت بلتستان کی لاکھوں آبادی ملکی معاملات سے بے کھاتہ، جمہوری حقوق سے محروم اور یہاں کی زمینوں پر دوسرے صوبوں کے لوگ آباد ہو رہے ہیں، مگر کشمیر پر پاکستان کے کیس کو کوئی طاقت نہیں مل رہی اور شاہ محمود قریشی کی مدبرانہ قیادت میں پھلتی پھولتی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ وہ خود  آزاد کشمیر کے دارالحکومت میں کھڑے ہوکر مسلم امہ کو انڈیا کے ساتھ جڑے مفادات سے منسوب کرنے پر مجبور اسلئے ہیں، کیونکہ امہ امہ کا شور کرنیوالے ممالک نے لاکھ کوشش کے باوجود کشمیر کے ایشو پر پاکستان کے فیور میں رسمی بیان بھی دینا ضروری نہیں سمجھا۔

ماضی میں شاہ محمود سے قریبی تعلقات رکھنے والی اسوقت کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے چوٹی کے رہنماوں سمیت حکمران جماعت اور مسلم امہ کی چمپئین وکیل سمجھی جانیوالی ملکی جماعتیں بھی اس ایشو پر وہ کچھ کرتی نظر نہیں آرہیں، جو اس سے قبل دیکھنے کو ملتا تھا۔ سو لگتا ایسا ہے کہ چند ہفتے شور شرابے کے بعد معاملہ کسی اور ایشو کی نذر ہو کر ٹھنڈا پڑجائیگا۔ وزیراعظم دوسرے ممالک کے سربراہان کو کالیں ملا ملا کر خبریں لگواتے رہیں گے اور تجربہ کار وزیر خارجہ تین چار ممالک کے دورے بھی کر لوٹیں گے۔ سلامتی کونسل جہاں سے کشمیر سے متعلق غالباً بیس سے زیادہ قراردادیں پاس ہوچکی ہیں، وہ انڈیا کا ابتک کچھ بگاڑ نہیں سکی تو اب کیا اکھاڑ سکے گی۔؟ پاکستانی عوام پھر یونہی کشمیر کیلئے نعرے اور نغمے گاتے رہیں گے اور انڈیا والے کبھی کبھار اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا نام لیا کریں گے، جو کہ کشمیر کے اکثریتی رقبے اور عوام کو پہلے ریاستی حقوق کیساتھ جکڑے رکھنے کیلٸے کافی تھا، اب یہی باقاعدہ آبادکاری اور دیگر امور کو مقبوضہ خطے میں انجام دینے کیلٸے کافی سے بھی زیادہ ہوگا۔
 
کل اور پرسوں بالترتیب پاکستان اور انڈیا کی آزادی کے دن ہیں، سو دونوں ملکوں کی عوام کو ایام آزادی مبارک۔ تجربہ کار وزیر خارجہ صاحب نے ایک بار پھر یہ بات ہمارے لوگوں کو یاد دلا دی ہے کہ حکومت پاکستان کے مطابق ہم گلگت بلتستان والے پاکستانی کسی صوبے کے باسی ہیں اور نہ ہی گلگت بلتستان کو ملکی آئینی حقوق مل سکتے ہیں۔ ہم خود کو کسی ہندوستانی ریاست کے باسی بھی نہیں سمجھ سکتے۔ رہی بات کشمیر کی تو گلگت بلتستان پر کشمیری حکمرانوں کا غاصبانہ قبضہ تھا، جس سے ہمارے بزرگوں نے جنگ لڑ کر ہمیں آزاد کیا، سو ہمارا خطہ کشمیر کا عملاً اور قانوناً حصہ نہیں رہا۔ اس لئے ہم اپنے بزرگوں کو جنہوں نے اکتوبر 1947ء سے لیکر اگست 1948ء تک جنگیں لڑ کر اس خطے کو ڈوگروں کی غاصب و جابر حکومت سے آزاد کیا، ان کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اگست 1948ء میں چونکہ موجودہ گلگت بلتستان کے تمام علاقے ڈوگروں سے آزاد ہوگئے، اس لئے اپنی عوام کو بھی آزادی کی مبارکباد دیتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 810326
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب