0
Wednesday 14 Aug 2019 05:30

آئیں آزادی کو محسوس کریں

آئیں آزادی کو محسوس کریں
تحریر: سید اسد عباس
 
صبح آزادی میں جس قدر بھی خامیاں ہوں، جتنے مرضی نقائص گنوا دیئے جائیں، بہر حال صبح آزادی ہی ہے۔ کم از کم ہم اس احساس کے ساتھ بیدار نہیں ہوتے کہ ہم پر کوئی خارجی قوت مسلط ہے، جو اپنی قوت و طاقت کے بل بوتے پر ہمارے روز و شب کو اپنی مرضی کے مطابق گزارے گی۔ غلامی شاید اسی چیز کا نام ہے کہ ہماری زندگی کو کوئی اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دے اور ہمیں مجبور کرے کہ ہم اس خارجی قوت کے زیر تسلط اس کی مرضی و مفادات کے لیے زندگی گزاریں۔ اس کائنات میں ملطقاً آزاد شاید کوئی وجود بھی نہیں ہے، ہمیں مختلف بندھنوں میں زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ ان بندھنوں اور زنجیروں کو انسان بہرحال بخوشی قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ ثقافتی روایات، خاندانی اقدار، علاقائی رواجات، مذہبی پابندیاں اور عائلی حدود و قیود یہ وہ سب چیزیں ہیں، جس سے ایک انسان کو اپنی زندگی میں سامنا رہتا ہے۔ انسان اگرچہ ان میں بھی بندھا ہوا ہوتا ہے اور مکمل طور پر آزاد نہیں ہے، تاہم ان کو ویسی غلامی تصور نہیں کرتا جیسی کسی گروہ یا فرد کے زیر تسلط زندگی کو غلامی گردانتا ہے۔
 
غلام بنانا اور دوسروں پر اپنا تسلط قائم کرکے ان کی زندگیوں کو اپنی مرضی سے گزارنا انسانی تاریخ میں بہت قدیم ہے۔ پہلے پہل یہ غلامی فرد کی غلامی کی صورت میں سامنے آئی۔ یعنی ایک شخص یا ایک خاندان کو خرید کر یا کسی اور ذریعہ سے غلام بنا لیا گیا۔ رفتہ رفتہ غلامی کا یہ سلسلہ دم توڑنے لگا اور غلام و کنیز کی اصطلاحیں کتابوں میں تو رہ گئیں، تاہم زمین پر اس کے مظاہر بہت کم ہوگئے۔ الہیٰ ادیان نے انسانوں کی غلامی کے خلاف اہم کردار ادا کیا۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام نے انسانی معاشرے میں وہ تعلیمات متعارف کروائیں، جو تمام انسانوں کو برابری کا درجہ دیتی ہیں اور فلسفہ غلامی کی بیخ کنی کرتی ہیں۔ یہ ادیان ہمیں متوجہ کرتے ہیں کہ سب انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں اور ہم سب کا خالق ایک ہے۔ ہر انسان اپنے اعمال کے لیے اسی خالق کی بارگاہ میں جوابدہ ہے۔ یہ عقیدہ، توحید کے عنوان سے معروف ہوا، جس نے سب انسانوں کی برابری کا تصور دے کر فلسفہ غلامی کی بنیادوں کو مسمار کر دیا۔
 
 بعض افراد معترض ہیں کہ ان الہیٰ ادیان کی تعلیمات کے باوجود غلامی کا سلسلہ قائم رہا تو ان کے لیے فقط یہ کہوں گا کہ اگر الہیٰ ادیان نے اس فکر ہم نوعی اور واحدانیت کو رواج نہ دیا ہوتا تو آج بھی غلامی کا سلسلہ قائم ہوتا۔ ان الہیٰ ادیان نے فکر غلامی کو کئی سطحوں پر جا کر انسانی ذہن سے محو کیا ہے۔ اس نے غلاموں کو یہ احساس بخشا ہے کہ خالق کائنات نے تم کو غلام پیدا نہیں کیا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تم آزاد انسانوں کی مانند زندگی گزارو اور اپنی اس انفرادی آزادی کا تحفظ کرو، غلام بنانے والوں کو بھی یہ احساس دلایا ہے کہ جب تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اور ان کا خالق و مالک ایک ہے اور سبھی اس کے حضور جوابدہ ہیں تو پھر کیسے کوئی شخص تمہارا غلام قرار پا سکتا ہے۔ کیسے چند پیسوں کے عوض کسی انسان کی زندگی کو خریدا جا سکتا ہے۔ اسی احساس نے غلامی کو ملازمت کا رنگ بخشا۔

یکسر اس نظام کو ختم کرنا شاید ممکن بھی نہ تھا کیونکہ معاشرے کا معاشی ڈھانچہ اس پر استوار تھا۔ دین خدا معاشرے میں خلل و فساد کے لیے نہیں بلکہ اصلاح احوال کے لیے ہے۔ اگر یکسر حکماً سب کو آزاد قرار دے دیا جاتا، جو کہ ہیں تو یہ کہ حکم فقط ان پر لاگو ہونا تھا، جو کہ دین کی تعلیمات پر ایمان لائے تھے، پورے معاشرے سے غلامی کا قلع قمع اس طرح سے ممکن نہ تھا، پس اس کے قلع قمع کا وہی طریقہ اختیار کیا گیا جو عملی تھا۔ انفرادی غلامی کے خاتمے کے بعد اقوام کی غلامی کے سلسلے کا آغاز ہوا، یہ زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔ برطانوی، اطالوی اور فرانسیسی سامراج نے تیسری دنیا کے ممالک کے فردی، تاریخی، معدنیاتی اور دیگر وسائل کو ہتھیانے کے لیے قوت و طاقت کے بل بوتے پر تسلط کی راہ اپنائی۔ افریقہ، ایشیا اور امریکہ کے بہت سے ممالک اس سامراج کے زیر تسلط آئے اور اقوام نے کئی دہائیاں اس سامراج کے غلام کے طور پر گزار دیں۔

برصغیر پاک وہند کے نصیب میں برطانوی سامراج کی غلامی آئی۔ ہم کیسے اور کیونکر غلام بنے، یہ تفصیلی قصہ ہے، جس کی تفصیلات جاننا نہایت ضروری ہیں، تاکہ آئندہ ہماری ویسی ہی حرکات کے سبب غلامی کی کوئی اور صورت ہم پر مسلط نہ ہو جائے۔ بہرحال 1858ء میں ہمیں اس بات کا احساس ہوگیا کہ ایک خارجی گروہ اس چھوٹے براعظم کی اقوام پر مسلط ہوچکا ہے۔ ہم نے اس گروہ سے چھٹکارا پانے میں تقریباً نوے برس لگا دیئے، کئی اقوام ہمارے بہت بعد برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی سامراج سے آزاد ہوئیں۔ اب بھی اگر جنگ عظیم اول اور دوم وقوع پذیر نہ ہوئی ہوتیں تو شاید غلامی کا سلسلہ تاحال ختم نہ ہوا ہوتا۔(واللہ العلم)
 
اسی غلامی نے ہم مسلمانوں کو دو ایسے مسائل دیئے، جو ہماری آزادیوں کے باوجود ہمارے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ فلسفہ آزادی اور استقلال دینے والے دین کے پیروکار جن کو اس فلسفہ حریت کی دنیا میں تبلیغ کرنا تھی، جن کو پوری دنیا کو توحید سکھانا تھی، جن کو یہ بتانا تھا کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے اور تمام مخلوق اسی ایک خالق و مالک کی غلام اور عبد ہے، جسے غلامی کے خلاف، آزادی اور حریت کا ایک نمونہ بن کر اپنے آپ کو پیش کرنا تھا، اسی دین کے پیروکاروں کے دو گروہ فلسطین اور کشمیر کے عنوان سے آج بھی غیروں کے تسلط میں ہیں۔ سامراج کی غلامی کا خاتمہ ہوئے تقریباً ستر سے زیادہ برس بیت چکے، تاہم نہ فلسطین آزاد ہوا اور نہ ہی کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوسکا۔ یہ غلامی مسلط گروہ سے قبل ہماری اپنی نااہلی کا منہ چڑا رہی ہے۔ مرد حر امام خمینی نے فرمایا تھا کہ اگر مسلمان آج متحد ہوتے اور ان کی ایک آواز ہوتی تو ممکن نہیں تھا کہ یہودی فلسطین پر قبضہ برقرار رکھ سکتے اور بد بخت ہندو کشمیر کو ہم سے چھین سکتا۔
 
قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے دور کے قائدین کو یہ گمان تھا کہ مسلم امہ ایک جسد واحد کی طرح فلسطین کا تحفظ کرے گی، اسی لیے وہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کا ہر مسلمان اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے پر مر جانے کو ترجیح دے گا۔ قائد کے زمانے میں ابھی یہ عرب بادشاہتیں یوں تشکیل نہیں پائی تھیں، جیسی آج ہم دیکھتے ہیں۔ حجاز پر آل سعود کا نیا نیا قبضہ ہوا تھا۔ ترکی سے برطانوی سامراج اپنے پنجے سمیٹ رہا تھا۔ مسلمانوں کو لگا جیسے ان کو فتح نصیب ہو رہی ہے اور غلامی کا طوق گلے سے اتر رہا ہے۔ ان کو کیا خبر تھی کہ غلامی اس وقت ختم ہوتی ہے، جب اس کا اذہان سے خاتمہ ہو جائے۔ جب تک ذہن آزادی کی قدر و منزلت اور اہمیت کو درک نہ کرے، اس وقت تک غلامی کے خاتمے کا تصور ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم نے دیکھا کہ مسلمان نیز غلام اقوام ظاہری طور پر تو آزاد ہوگئیں، تاہم فکری طور پر غلامی جاری رہی۔
 
غیروں کی زبان، ان کا لباس، رہن سہن، طرز زندگی، طریقہ تعلیم، بود و باش، طرز تکلم کونسی ایسی چیز ہے، جس سے ہم نے چھٹکارا پا لیا ہے۔ کیا آزاد ذہن اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ اپنے اردگرد ملاحظہ فرمائیں، ہمیں ہر جانب بھورے، کالے رنگ برنگے انگریز دکھائی دیتے ہیں۔ سکول، کالج، یونیورسٹی، دفتر، کھیل کا میدان، ہسپتال کوئی ایک ایسی جگہ نہیں ہے، جہاں ہم فکری طور پر آزاد نظر آتے ہوں۔ علم اور صلاحیت میں کسی سے مرعوب ہونا بہت اچھا ہے، تاہم کسی دوسرے کی ہر چیز سے یوں مرعوب ہو جانا کہ اپنا سب کچھ بھول بھال کر اس کے رنگ میں رنگے جانا ہماری غلامانہ سوچ نہیں تو اور کیا ہے۔ حقیقت یہ کہ ہم آزادی کی نعمت کو حاصل کرنے کے باوجود اس کی لذت اور لطف سے بے بہرہ ہیں۔ ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ آج بھی غلامی اگر کسی اور رنگ میں ہم پر مسلط کی جائے تو ہم اسے بخوشی قبول کر لیں گے۔
 
آزادی نے ابھی تک ہمارے رگ و پے میں وہ سرور پیدا ہی نہیں کیا ہے، جو آزاد اقوام کو حاصل ہوتا ہے۔ اللہ نے آپ کو بھی انسان خلق کیا ہے، آپ کو بھی وہ سب کچھ عطا کیا ہے، جو کسی برطانوی یا امریکی شہری کو عطا ہوا ہے، کمی ہے تو فقط آزاد ذہن کی، جس کی تعلیم ہمیں چودہ سو برس قبل ہمارا دین دے چکا ہے۔ ہمیں الہیٰ تعلیمات اور اپنی تاریخ سے اپنے ربط کو استوار کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم آزادی کی خوشبو کو اپنے اندر محسوس کرسکیں، یہ ایک یا دو افراد کے کرنے کا کام نہیں ہے بلکہ ہمیں بحیثیت قوم اور معاشرہ اس احساس کو اپنے اندر جنم دینا ہے۔ جس روز مسلم امہ اس احساس کو پا لے گی، فلسطین اور کشمیر تو ایک جانب ہم اقوام کی قیادت کے قابل ہو جائیں گے اور اس کائنات کو عدل اجتماعی کا ایسا نمونہ بنا دیں گے کہ جس پر انحصار کرتے ہوئے پروردگار عالم نے فرشتوں کی بزم میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ۔۔۔۔میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
خبر کا کوڈ : 810354
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب