0
Wednesday 14 Aug 2019 07:58

آزادی کا تقاضا

آزادی کا تقاضا
اداریہ
آزادی ایک ایسی نعمت ہے، جس کا صحیح ادراک ایک آزاد قوم کو ہی ہوسکتا ہے، البتہ اکثر اوقات اقوام کو آزادی کا تاثر دیا جاتا ہے، حقیقی آزادی عطا نہیں کی جاتی۔ یہاں پر ایک اور بات بھی کہنا مناسب ہوگا کہ بعض اوقات انسان کو جو میسر ہوتا ہے، وہ اس کی قدر نہیں کرتا۔ وہی چیز جب عدم یا ناپید ہو جاتی ہے تو اس کی کمی کا احساس زیادہ ہونے لگتا ہے۔ اسلام ایک ایسا دین اور مکتب ہے، جس کا حقیقی شاگرد ہمیشہ توحیدی معاشرے کا متمنی رہتا ہے، وہ ایک اللہ اور ایک معبود کی بندگی و عبادت کو واجب سمجھتا ہے، وہ خدا کے علاوہ کسی کی غلامی و بندگی کو قبول نہیں کرسکتا۔ اسلام بنیادی طور پر حریت و آزادی کا سبق سکھاتا ہے اور اسلام کے تمام احکامات و عبادت میں اس تاثر اور حقیقت کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کی آمد سے انسانیت کفر و شرک کی پابندیوں سے آزاد ہوئی اور انسانی آزادیوں کا حسین دور شروع ہوا۔ کفر و شرک کی طاقتیں بلکہ وسیع مفہوم میں ابلییسی طاقتوں نے کبھی نفسیاتی، کبھی نفسانی اور کبھی حکومتوں اور حکمرانوں کے ذریعے اسلام و مسلمین کو مختلف شیطانی پابندیوں اور داموں میں جکڑنے اور الجھانے کی کوشش کی۔

دنیا بھر میں پھیلی امت مسلمہ کو جغرافیائی حدود میں قید کرکے ان کی فکری اور عملی حریت کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ برصغیر پاک و ہند کا خطہ بھی ان چند علاقوں میں شامل ہے، جہاں مسلمانوں نے برسوں حکمرانی کی، لیکن چونکہ اسلام حکمرانی نہ کرسکا، لہذا نتیجہ آزادی سے محرومی کی صورت میں ظاہر ہوا اور یوں مسلمانوں کی ایک بڑی آزادی ہندئوں اور انگریزوں کی غلامی میں اسیر ہوگئی۔ 1857ء سے 1947ء کا دورانیہ برصغیر کی تاریخ کا ایک عبرت انگیز دور ہے، لیکن اس بات کو ماننا پڑے گا کہ 1947ء میں وسیع ہندوستان کا چاہے ایک حصہ ہی سہی، وہ پاکستان کی صورت میں آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہوا۔ تحریک آزادی کے وہ تمام مجاہدین اور عالم انسانیت کی ایک بڑی ہجرت میں شریک تمام مسلمان لائق تحسین ہیں کہ ایک نیک اور عظیم مقصد کے لیے جان و مال کی قربانیاں پیش کیں، چودہ اگست ان قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے۔ ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے پاکستان کا دنیا کے نقشے پر ظہور ایک بڑی کامیابی اور امید کی کرن تھی اور ہے، لیکن اس آزادی کے حقیقی مفہوم کو درک نہ کیا جا سکا۔

آزادی کے حصول کے باوجود یہ ملک سامراجی طاقتوں کے چنگل سے آزاد نہ ہوسکا اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ کے نعروں سے تخلیق پانے والی یہ ریاست غیر الہیٰ طاقتوں کے ابلیسی تسلط سے آزاد نہ ہوسکی اور یوں آزاد ہونے کے باوجود ابھی تک ریاست مدینہ کی تلاش میں سرگردان ہے۔ ریاست مدینہ کا تصور ایک الہیٰ فلاحی ریاست کا تصور ہے، لیکن کیا یہ وہ سحر ہے، جس کی آرزو و تمنا بانیاں پاکستان نے کی تھی۔؟ پاکستان جسے دوسرے ممالک کے لیے نمونہ عمل ہونا چاہیئے تھا، لیکن آج اس ملک کا پلاننگ کیمشن یہ اعداد و شمار جاری کر رہا ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں سات کروڑ ستتر لاکھ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ پانچ فیصد خاندانوں نے 95 فیصد کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ دو کروڑ بچے ابتدائی تعلیم سے محروم ہیں اور جو طبقاتی نظام تعلیم موجود ہے، اس میں پانچ فیصد خواص کے لیے ایک نظام اور باقی بھیڑ بکریوں کے لیے دوسرا نظام۔

صحت عامہ کی صورتحال یہ ہے کہ آٹھ کروڑ سے زائد عوام مختلف طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 77 فیصد نوجوان روزگار کے لیے تعلیم کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ بےروزگاری اور مہنگائی کی شرح میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور سلامتی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن ملک میں کئی دہائیوں تک مذہبی جنونیوں کے مسلح جھتوں نے سلامتی کو دائو پر لگائے رکھا، اب باوردی جنونیوں نے مختلف حیلے بہاںوں سے عوام میں انجانا خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے۔ مخصوص وردیوں اور گاڑیوں میں گھروں سے اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے، یا بیوی بچوں کے سامنے گاڑیوں سے اتار کر مسنگ پرسنز بنا دیا جاتا ہے۔ جب ریاست کے ادارے آزادی کی نعمت تو ایک طرف، آزادی کے تاثر کو بھی زائل کرنے میں مشغول ہوں تو یوم آزادی کے دن بے روزگار، غریب، تعلیم سے محروم اور مسنگ پرسنز کے اہل خانہ کس طرح یوم آزادی منائیں۔
پچھلے برس بھی بوئیں تھیں لفظوں کی کھیتیاں
اب کے برس بھی اس کے سوا کچھ نہیں
خبر کا کوڈ : 810368
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے