0
Wednesday 14 Aug 2019 18:13

1857ء سے قبل تحریک آزادی میں شکست کیوں؟

1857ء سے قبل تحریک آزادی میں شکست کیوں؟
تحریر: عظمت علی
 
ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، اسی سبب اغیار نے ہمیشہ اس پر بری نظر کا بسیرہ بنائے رکھا، برطانیہ اپنے وقت میں عالمی آبادی کے ایک چوتھائی حصہ پر قابض رہا ہے۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں ہندوستان سے تجارت کا پروانہ ملا۔ 1613ء میں اس نے سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی، اس زمانے میں اس کی تجارت زیادہ تر جاوا اور سماٹرا وغیرہ سے تھی، جہاں سے مصالحہ جات برآمد کرکے یورپ میں بھاری داموں بیچے جاتے تھے۔ 1623ء میں جب ولندیزیوں نے انگریزوں کو جزائر شرق الہند سے نکال باہر کیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تمام تر توجہ ہندوستان پر مرکوز کر دی۔ 1662ء میں بمبئی بھی اس کے حلقہ اثر میں آگیا اور کچھ عرصہ بعد شہر ایک اہم تجارتی بندرگاہ بن گیا۔ 1689ء میں کمپنی نے علاقائی تسخیر بھی شروع کر دی، جس کے باعث بالآخر ہندوستان میں برطانوی طاقت کو سربلندی حاصل ہوئی۔ 1858ء میں یہ کمپنی ختم کر دی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ تاہم 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی کے ہاتھ میں رہے۔(ویکیپیڈیا)

اس کے اثر و رسوخ کو دیکھ کر نواب بنگال سراج الدولہ بہت جلد بھانپ گئے کہ دال میں ضرور کہیں نہ کہیں کالا ہے، انگریز جرنیل کلایو پورے بنگال پر قبضہ جمانا چاہتا تھا، اس لئے شہنشاہ بنگال نے بغیر کسی تامل کے 23 جون 1757ء کو کلکتہ سے 70 میل کے فاصلے پر دریائے بھاگیرتی کے کنارے قاسم بازار کے قریب انگریزوں کی اس غاصبانہ چال کے خلاف محاذ قائم کر دیا، جسے پلاسی کی جنگ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ فتح جنگ نواب کے نصیب میں تھی، لیکن سپہ سالار میر جعفر کی غداری نے پورا نقشہ ہی الٹ دیا، اس کو اور ماچند نامی شخص کو سازش کے تحت خرید لیا گیا، میر جعفر کو نواب بنانے کی لالچ نے سراج الدولہ کے حصہ میں آئی فتح کو غاصبوں کی طرف موڑ دیا، ورنہ انہیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑتا اور یہ ان کے لئے کڑوا گھونٹ ثابت ہوتا مگر۔۔۔!

اسی طرح 22 اکتوبر 1764ء کو بکسر کی لڑائی ہوئی، یہ جنگ ایسٹ انڈیا کمپنی اور نواب بنگال میر قاسم، نواب اودھ شجاع الدولہ، مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے درمیان دریائے گنگا کے کنارے پٹنہ سے 130 کلو میٹر مغرب میں بنگال کے ایک چھوٹے قلعہ بند قصبہ بکسر میں لڑی گئی، اس کا بھی وہی انجام ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا، یعنی خاتمہ جنگ شکست پر ہوا، جس کی ایک وجہ اندرونی سازش تھی۔ ہوا یہ کہ دہلی کا نام نہاد شہنشاہ عالم جو کہ خوف جان سے بیرون دلی رہا کرتا تھا، وہ بھی ایک لاکھ فوج کے ہمراہ اپنے صوبہ دار کی امداد کو پہنچا، اس نے بنگال کی خواہش کی اور بطور ہدیہ اشرفیاں بھی پیش کیں، اس ناعاقبت اندیش بادشاہ نے بنگال کا پٹہ انگریزوں کو لکھ دیا اور صوبہ دار کے تحفظ کی ذرہ برابر فکر نہ کرتے ہوئے اپنی ایک لاکھ فوج کے ہمراہ الٹے پاؤں واپس ہوگیا۔ سو یہ  شکست بھی اپنوں کی درپردہ سیاست کی وجہ سے ہوئی۔

تاریخی سچائی ہے کہ حیدر علی کے جیالے فرزند اور مملکت میسور کے سلطان ٹیپو سلطان نے ملک کی آزادی کے لئے برطانوی سامراج کے خلاف کئی کامیاب جنگیں لڑیں، ایسا سخت مقابلہ کیا کہ انگریز کے جارحانہ قدم اکھڑ گئے اور وہ کھٹے دانت واپس لوٹ جاتے۔ یہی وجہ تھی کہ دشمن انہیں راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتے، جیسا کہ خود جرنیل جارج ہیرس نے اس کا اعتراف کیا تھا۔ اینگلو میسور کی چوتھی جنگ 1798ء تا 1799ء کے دوران ہوئی، یہ شیر میسور کی آخری جنگ تھی، جس میں سلطان نے کئی روز قلعہ بند ہوکر مقابلہ کیا مگر تسلیم نہ ہوا اور بالآخر فوج کے دو غدار میر صادق اور پورنیا نے اندرون خانہ سے انگریزوں کے ہاتھ اپنا سودا کر لیا، میر صادق نے سرنگا پٹنم قلعہ کا نقشہ انگریزوں کو فراہم کر دیا جبکہ پورنیا اپنے دستے کو تنخواہ کے بہانے پیچھے کی طرف لے کر چل دیا اور یوں سلطان شجاع اپنوں کی درپردہ غداری کے سبب ملک کے لئے خود کو نچھاور کر گیا۔ گروہ مخالف کے جنرل ہیرس کو جب سلطان کی موت کی اطلاع موصول ہوئی تو اس نے شیر میسور کی عظمت شجاعت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "اب ہندوستان ہمارا ہے۔" مارچ 1799ء کی جنگ بھی درباری عہدیداروں کی سازشی ساز با ز کے نتیجہ میں شکست پر تمام ہوئی۔

1857ء سے پہلے آزادی کی خاطر بہت سی تحریکیں وجود میں آئیں، جن میں حالات کی ستم ظریفی، اپنوں کی غداری کے بموجب انگریزوں کے حوصلے جوان ہوتے گئے اور وہ جستہ جستہ ہندوستان پر قابض ہوتے گئے۔ اپنوں کی غداری نہ ہوتی تو جنگ پلاسی میں نواب بنگال ویسے ہی فاتح قرار پاتا جیسے 1754ء میں سراج الدولہ کے نانا علی وردی کے فاتح قرار پائے تھے، انہوں نے فورٹ ولی پر اتنا زبردست حملہ کیا تھا کہ انگریزوں کی ٹڈی دل فوج کو ڈائمنڈ ہاربر میں پناہ لینا پڑی۔ الغرض، مذکورہ اور اس کے ماسوا اور بھی بہت ساری جنگیں تھیں، جن میں آزادی کی خاطر جان کی بازی لگانے والے منظم اور متحد نہ تھے، اس لئے وہ ناکام رہے۔ اہم وجہ اپنوں کی غداری اور نوابوں و راجاؤں کے دربار کا دشمنوں کی سازشوں کا اڈہ بننا بھی ہے، جس نے ہمیں کامیابی سے کوسوں دور کر دیا اور جس کے حصول کے لئے ہمیں دو سو برس تک مسلسل جدوجہد کرنا پڑی۔ اب ہم قانوناً آزاد ہیں، مگر حقیقت میں اور بہرحال غلام ہیں۔
خبر کا کوڈ : 810491
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب