1
Friday 16 Aug 2019 21:19

ایرانی آئل ٹینکر کی رہائی، امریکہ اور برطانیہ کی بڑی شکست

ایرانی آئل ٹینکر کی رہائی، امریکہ اور برطانیہ کی بڑی شکست
تحریر: عبدالباری عطوان

جبل الطارق نے حال ہی میں ایران کا پکڑا ہوا آئل ٹینکر رہا کر دیا ہے۔ یہ رہائی پہلے امریکہ کیلئے ایک بڑی شکست ہے جبکہ اس کے بعد برطانیہ کی شکست سمجھی جاتی ہے۔ ایران کی ذہانت اور ہوشیاری نے کس طرح خطے میں نئی روایت قائم کر دی ہے؟ کیا اسرائیل اور اس کے اتحادی عرب ممالک اس نئی روایت کی الف بے سمجھ پائیں گے؟ مستقبل کا ٹکراو کس نوعیت کا ہو گا؟ گریس 1 نامی ایران کا یہ آئل ٹینکر 4 جولائی سے جبل الطارق کے حکام نے روک رکھا تھا۔ اس آئل ٹینکر کی رہائی ایرانی حکام کیلئے کوئی بڑی فتح نہیں تھی جنہوں نے طاقت اور ذہانت کے ذریعے اسے ممکن بنایا بلکہ امریکہ کیلئے ایک بڑی شکست تھی کیونکہ امریکہ نے جبل الطارق کے حکمرانوں سے اسے روکے رکھنے بلکہ اسے نیلام کر دینے کی درخواست دے رکھی تھی۔ یوں امریکہ اپنے ہی اتحادی ملک کی جانب سے بے توجہی اور تحقیر کا نشانہ بنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے تین دن پہلے برطانیہ دورے کے دوران برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن سے ملاقات کی اور جبل الطارق کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر کو روکے رکھنے پر زور دیا۔ لیکن برطانوی حکام نے بھی ان کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی۔
 
برطانوی حکومت نے کم از کم گریس 1 آئل ٹینکر کی رہائی کی حد تک ہی سہی، امریکہ کی احمقانہ اور نامعقول پالیسیوں اور اقدامات سے مخالفت کا فیصلہ کیا اور یہ امریکہ کیلئے ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔ برطانوی حکومت نے اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے بندر عباس میں روکے گئے اپنے آئل ٹینکرز آزاد کروانے کیلئے ایرانی آئل ٹینکر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی شہہ پر برطانوی حکومت کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر کو روکا جانا اس کی ایک بہت بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے۔ وہ ایران کی جانب سے شدید ردعمل کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ برطانیہ کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر روکے جانے کے بعد جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے برطانوی حکومت کو خبردار کیا کہ اسے متقابل اقدام کا سامنا کرنا پڑے گا تو اسی وقت صورتحال واضح ہو گئی تھی۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے برطانیہ کو دو ہفتے کی مہلت دی تھی اور جب یہ مہلت گزر گئی تو ایران نے بھی برطانیہ کے دو آئل ٹینکر روک لئے اور یوں ثابت ہو گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی دھمکی کھوکھلی نہیں ہوتی بلکہ وہ جو کہتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔
 
برطانوی حکمران دو بار غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ایک بار اس وقت جب انہوں نے امریکہ کے کہنے پر ایران کا آئل ٹینکر روکا اور دوسری بار اس وقت جب ایران کی دھمکی پر کوئی توجہ نہ دی۔ البتہ انہوں نے فوراً ہی اپنی غلطیوں کا ازالہ کر دیا اور جان بولٹن کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر کو روکے رکھنے کی درخواست مسترد کر کے عقل مندی کا ثبوت دیا ہے۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں اور دوبارہ زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ ایران جذبہ شہادت سے سرشار ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ڈرون طیارے کو اپنی حدود کے کچھ میٹر اندر آتے ہی تباہ کر ڈالا اور امریکہ کی وعدہ خلافی کے بدلے یورینیم افزودگی کی مقدار بڑھانے کی دھمکی پر عمل کر دکھایا اور اراک کے ایٹمی پلانٹ کو دو مہینے کی مہلت ختم ہو جانے کے بعد دوبارہ چالو کر دے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے کہ ایران بھی اس کے اتحادی خلیجی ممالک کی طرح عمل کرے گا اور اس کے تمام مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم ہو جائے گا۔ اپنا خزانہ اس کے حوالے کر دے گا اور اس کی ڈکٹیشن پر پوری طرح عمل پیرا ہو جائے گا۔
 
آج سے ایران کے آئل ٹینکرز آبنائے جبل الطارق سمیت دنیا کے تمام آبناوں سے آزادانہ آمدورفت شروع کر دیں گے کیونکہ امریکہ سمیت کسی ملک میں انہیں روکنے کی جرات نہیں ہے۔ سب اس حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں کہ ایران کا جواب سخت ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے برطانیہ اور برازیل نے تجربہ کیا ہے۔ یاد رہے برازیل نے امریکہ کے حکم پر ایرانی کشتیوں کو ایندھن فراہمی بند کر دی تھی لیکن جب ایران نے اس کے جواب میں گوشت سمیت برازیل سے آنے والی تمام درآمدات پر پابندی عائد کر دی تو اسے اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔ امریکہ ایران کی جانب سے اپنا ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے مقابلے میں خود کو بے بس اور بے یارومددگار محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح امریکہ اپنا اعتبار اور حیثیت بھی کھو چکا ہے کیونکہ اس نے دعوی کیا تھا کہ ایک ایرانی ڈرون مار گرایا ہے جبکہ ایک مہینہ گزر جانے کے بعد ابھی تک اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے ویڈیو شائع نہیں کر پایا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہمارا انتظار طولانی ہو جائے گا۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ برطانوی حکومت کی طرح امریکی حکومت بھی ایک دن ایران کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا اور اسی جوہری معاہدے میں واپس آ جائے گا جس سے دستبردار ہوا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 810965
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب