0
Saturday 17 Aug 2019 08:07

برطانیہ کی شکست اور امریکہ کی رسوائی

برطانیہ کی شکست اور امریکہ کی رسوائی
اداریہ
اسلامی جمہوریہ ایران کا تیل بردار جہاز گریس ون اس وقت ایرانی پرچم کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے۔ ایرانی پرچم کے ساتھ یہ جہاز جہاں جہاں سے گزرے گا، برطانیہ اور امریکہ کی ساکھ کو روندتے ہوئے ایران کی خود مختاری اور جرات و استقامت کا اعلان کرتا نظر آئے گا۔ امریکی اشارے پر برطانیہ نے جبل الطارق کے علاقے میں گریس ون تیل بردار جہاز کو اس بہانے روک لیا تھا کہ اس میں موجود تیل شام نہ پہنچنے پائے۔ برطانیہ کے اس دعوے کو جبل الطارق کی عدلیہ نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اور امریکی دبائو کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کے آئیل ٹینکر کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج عالمی سیاست میں بڑے سے بڑا خفیہ واقعہ بھی زیادہ دیر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ امریکہ اور برطانیہ اس وقت ایران پر دبائو بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے ماضی اور حال کا سامراج تمام حربے استعمال کر رہا ہے۔

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں فوجی نقل و حرکت، ابراہم لنکن بحری بیڑے کی اس خطے میں روانگی اور بحری سکیورٹی کے نام پر خلیج فارس میں نئے اتحاد کی تشکیل اس کی چند مثالیں ہیں۔ ایران کا بحری محاصرہ اور ایران کے تیل کی سپلائی کو روکنے کے لیے علاقائی اور عالمی کوششیں اس وقت جاری رہیں، جب تک ایران نے آگے بڑھ کر آبنائے ہرمز اور اپنی سمندری حدود میں برطانیہ کے بحری جہازوں پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ اس سے پہلے امریکی ڈرون کی تباہی کا منظر دنیا دیکھ چکی تھی، لہذا برطانیہ کے بحری جہاز کو غیر قانونی اقدامات کی بدولت ضبط کرنے عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ پیغام گیا کہ ایران اپنی آزادی و خود مختاری نیز ارضی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ پر کسی قسم کا سجمھوتہ کرنے پر تیار نہیں۔

گریس ون کی رہائی بھی ایرانی موقف کی صداقت اور اپنے موقف پر سودا بازی نہ کرنے کا کھلا اعلان ہے۔ بوڑھا سامراج برطانیہ اب نئی چال سوچ رہا ہے جبکہ کائو بوائے مزاج امریکی انتظامیہ سے اور کچھ نہ بن سکا تو اس نے گریس ون کے عملے پر امریکی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کو کہتے ہیں گھسیانی بلی کھمبا نوچے۔ امریکہ جب ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو اس نے تیل بردار جہاز کے ملازمت پیشہ عملے کے افراد پر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریس ون تیل بردار جہاز کی رہائی حقیقت میں برطانیہ کی واضح شکست اور امریکہ کی تاریخی رسوائی ہے۔ کاش ان جارح مزاج ممالک کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دور گزر چکا ہے اور اکیسیویں صدی کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ قانون پر عمل درآمد، باہمی رواداری، وحدت انسانیت اور پرامن بقائے باہمی جیسے اصولوں سے دنیا کو پرسکون بنانے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 811008
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب