0
Saturday 17 Aug 2019 15:50

اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر

ستمگر تجھ سے امید وفا ہوگی جنھیں ہوگی
اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر
تحریر: ثاقب اکبر

حیرت ہے کہ پاکستان میں بڑے بڑے بزرجمہر اور کہنہ کار سیاستدان، تجزیہ کار اور ڈپلومیٹ اس امر پر بغلیں بجا رہے ہیں کہ پچاس برس بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آیا ہے، اس طرح سے ایک مرتبہ پھر گویا عالمی سطح پر یہ مسئلہ ابھر آیا ہے اور یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ یہ معاملہ بھارت کے دعووں کے علی الرغم عالمی سطح پر ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ کیا اس بیٹھک سے کوئی نتیجہ کشمیر یا پاکستان کے مفاد میں برآمد ہوا ہے؟ کیا سلامتی کونسل کے اجلاس کی وجہ سے بھارت پر کوئی دباﺅ آیا ہے؟ کیا سلامتی کونسل نے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی اقدام کا فیصلہ کیا ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب ہے، نہیں۔ تو پھر ہمارے دانشور اور سیاستدان کس بات پر خوش ہو رہے ہیں۔ کشمیر میں ظلم اسی طرح سے جاری ہے، کرفیو مسلسل موجود ہے، مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، لوگ گھروں میں مقید ہیں اور سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا بھی اور ختم بھی ہوگیا۔ البتہ اس پر اظہار مسرت کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے کر اپنے نام کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کی درخواست پر کشمیر کے موضوع پر بند کمرے میں جو اجلاس ہوا، اس کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا اور کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ جسے ہم آئندہ کسی وقت اپنے لیے دلیل بنا سکیں۔

5 اگست 2019ء کو بھارتی پارلیمنٹ میں کشمیر کے بارے میں خصوصی آئینی شقوں کا خاتمہ کر دیا گیا۔ 370 اور 35A کے خاتمے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت جو بھارتی آئین میں موجود تھی، وہ ختم ہوگئی، اگرچہ ان شقوں میں پہلے بھی ترامیم کی جاتی رہی ہیں، جن کے ذریعے کشمیر کی داخلی خود مختاری کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب جو رہی سہی صورت تھی، اس کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، یہاں تک کہ اب کشمیر میں پورے ہندوستان سے لوگ آکر آباد ہوسکتے ہیں، زمینیں خرید سکتے ہیں، مکان بنا سکتے ہیں، اپنے ووٹ کا اندراج وہاں کرسکتے ہیں، کاروبار تو وہ پہلے ہی کر رہے تھے، اب کشمیر کے اندر کشمیریوں کے ہاتھوں میں جو کاروبار رہ گیا ہے، آہستہ آہستہ اس پر بھی ہاتھ صاف کرنے کی راہ مزید ہموار ہوگئی ہے۔ اب کشمیر گویا وہ فلسطین بننے جا رہا ہے، جہاں فلسطینی پناہ گزین ہیں اور باہر سے آکر بسنے والے حکمران۔ کیا سلامتی کونسل کے اس اجلاس سے اس صورت حال میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے یا ہوسکتی ہے؟ اس کا جواب بھی ہے، نہیں۔ وہ اقوام متحدہ جو ماضی میں کشمیر کے بارے میں اپنی گیارہ قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کروا سکی، وہ بند کمرے کے بے فیصلہ اجلاس کے بارے میں کیا کردار ادا کرے گی۔؟

ہندوستان کی تقسیم کے بعد جب کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑی اور قریب تھا کہ سارا کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بن جاتا تو اقوام متحدہ اس وقت ثالث کے طور پر سامنے آئی اور یہ ثالثی اس نے بھارت کی درخواست پر کی۔ اس ثالثی کا نقد نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر کا بڑا حصہ بھارت کے تسلط میں چلا گیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اس عالمی ادارے کے جس قانون کے تحت منظور کی گئیں، وہ بھی اس کے لیے کسی بائینڈنگ کا سبب نہیں بنتا۔ ورنہ جہاں پر بڑی طاقتوں نے اور خاص طور پر امریکا نے چاہا کہ اقوام متحدہ کوئی ایسا فیصلہ کرے کہ جس پر عملدرآمد کیا جائے تو اس کے بارے میں قرارداد دوسری شق کے تحت منظور کی گئی، جو اقوام متحدہ کے فیصلوں کے لیے بائینڈنگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا بڑی طاقتوں کے نزدیک پہلے دن سے ہی کشمیر کے بارے میں قراردادوں کا مقصد اسے بھارت کی جھولی میں ڈالنا تھا اور کشمیر کا بڑا حصہ چونکہ بھارت ہی کے قبضے میں رہا، اس لیے اقوام متحدہ کی باسی کڑھی میں کوئی ابال نہیں آیا، اب جب کہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ بھارت کے نئے فیصلے کے بعد کشمیر کے اندر آزادی کی ایک نئی تحریک اٹھے گی اور پاکستان بھی مجبور ہوگا کہ وہ اس کی حمایت میں آواز اٹھائے تو ایک مرتبہ پھر اس کا اظہار ضروری ہو جاتا ہے کہ اقوام متحدہ ظاہر کرے کہ ہمیں کشمیر کے مسئلے میں دلچسپی ہے۔

یہاں یہ بات کہے بنا واضح ہے کہ بھارت نے مذکورہ بالا آئینی ترامیم کرکے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے، کیا اقوام متحدہ کو نہیں چاہیئے تھا کہ وہ اس پر بھارت کی مذمت کرتی، حالانکہ مذمت سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلنا تھا۔ اس سلسلے میں ماضی میں فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کردار کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ شروع شروع میں جب عالم اسلام کے اندر اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں اضطراب پایا جاتا تھا تو اہم ترین کام اقوام متحدہ نے یہ کیا کہ اسرائیل کو ایک جائز ریاست تسلیم کر لیا، پھر اس کے بعد اسرائیل پر نئی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئیں، کچھ نہ کچھ مذمت بھی کی گئی، لیکن ان پابندیوں اور ایسی مذمتوں کی حیثیت نمائشی ہی رہی، یہاں تک کہ آہستہ آہستہ مذمتوں والی قراردادوں کا بھی بہت حد تک خاتمہ کر دیا گیا۔ گویا اقوام متحدہ نے فلسطین کے مسئلے پر ”مٹی پاﺅ اور ڈنگ ٹپاﺅ“ والا کام کیا۔ یہی کام اس نے کشمیر کے مسئلے پر کیا اور موجودہ اجلاس بھی اقوام متحدہ کی اسی ماہیت کا عکاس ہے۔ اقوام متحدہ کی تشکیل میں ہی خرابی کی ایسی صورتیں مضمر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ عملاً بڑی طاقتوں کے مفادات کا محافظ ادارہ ہے اور خاص طور پر امریکا اور اس کے حواریوں کے مقاصد کا آلہ کار۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے بارے میں ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں:
ستمگر تجھ سے امید وفا ہوگی جنھیں ہوگی
خبر کا کوڈ : 811129
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب