0
Sunday 18 Aug 2019 08:26

33 روزہ جنگ کی کامیابی کا حقیقی پیغام

33 روزہ جنگ کی کامیابی کا حقیقی پیغام
اداریہ
حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے تینتیس روزہ جنگ کی کامیابی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر ایک تاریخی خطاب کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس جنگ سے پہلے اور بعد کا نقشہ کھینچا ہے اور اس جنگ کی ناکامی کی صورت میں جو صورتحال پیش آسکتی تھی، اس کا بھی تجزیاتی جائزہ لیا ہے۔ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ اگر 2006ء کی تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ کو شکست ہو جاتی تو آج مشرق وسطیٰ کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ امریکہ کا پورے علاقے پر تسلط ہوتا اور اسرائیل نیل سے فرات کے شیطانی منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حزب اللہ نے پہلے 2000ء میں اور پھر 2006ء میں اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے بت کو پاش پاش کیا ہے۔

حزب اللہ کے مجاہدین نے اپنی مجاہدت، شہادت پسندی اور جرات و بہادری سے ایسے دشمن کو شکست فاش دی، جسے تمام عرب ممالک مل کر بھی شکست دینے میں ناکام رہے تھے۔ حزب اللہ کی 33 روزہ جنگ کا نتیجہ فلسطینی تنظیموں کے جوش و جذبے میں اضافے کا باعث بنا اور اس جنگ کے بعد اسرائیل نے جتنی بار غزہ پر حملہ کیا، فلسطینی تنظیموں نے اس کا ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ غاصب اسرائیل کو جنگ بندی کا سہارا لینا پڑا۔ حزب اللہ کی تنتیس روزہ جنگ نے شام اور عراق میں بھی حسینی مجاہدین کو یہ حوصلہ اور امید دلائی کہ دشمن کا اگر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے تو بڑے سےبڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے جا سکتے ہیں۔

2006ء کی 33 روزہ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے یعنی حقیقی مشرق وسطیٰ کی بنیاد رکھی، جس میں غاصب صہیونی حکومت ایک شکست خوردہ طاقت بن کر سامنے آتی ہے اور مشرق وسطی کے بارے میں "گریٹر اسرائیل"، "عظیم مشرق وسطیٰ" اور "جدید مشرق وسطیٰ" جیسے منصوبے جن پر امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور ان کے حواریوں نے لمبی چوڑی سرمایہ گزاری کر رکھی تھی، عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئے۔ حزب اللہ کی اس 33 روزہ جنگ میں کامیابی نے مشرق و مغرب کی طاقتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ استقامتی بلاک کا مقابلہ کرنا اب آسان نہیں رہا ہے۔ اس جنگ کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ اب مشرق وسطیٰ کی قسمت کا فیصلہ اسرائیلی نواز عرب حکمران نہیں بلکہ اس خطے کے غیور اور مجاہد عوام کریں گے۔ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے اپنی حالیہ تقریر میں اسی مفہوم کو علاقے اور عالمی طاقتوں تک پہنچا دیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب دنیا کے ہر خطے میں موجود اسرائیل نواز قوتوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 811202
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب