8
Sunday 18 Aug 2019 21:27

انصافین حکومت کا ایک سال یوٹرن میں گزر گیا

انصافین حکومت کا ایک سال یوٹرن میں گزر گیا
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ مخلوط حکومت اقتدار کے ایوانوں میں ایک برس گزار چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی وزارت عظمیٰ میں چلنے والی اس حکومت کی پہلی سالگرہ پر ایک تحریر تو بنتی ہے۔ مجموعی طور پر اس ایک سالہ کارکردگی پر میری رائے یہی ہے، جسے اس تحریر کا عنوان قرار دیا ہے۔ کیونکہ، انصافین حکومت نے پہلا سال اپنے ہی انتخابی منشور اور اعلانات کی خلاف ورزیاں کرتے گزار دیا ہے۔ انصافین حکومت اور اس کے حامی اپنی قیادت کے ماضی کے اعلانات، بیانات اور انتخابی منشور سے موازنہ کریں تو ایک سالہ کارکردگی کو ایک جملے میں یوں بیان کرنے پر مجبور ہونگے: "حکومت نے اپنا پہلا سال تو مکمل کر لیا لیکن اعلان کردہ منصوبے بہت کم مکمل کرسکی۔" انتخابی منشور اور عمران خان کے بہت سے وعدوں پر عمل نہ کیا جاسکا۔ وجہ یہ رہی کہ پی ٹی آئی حکومت یوٹرن لیتی رہی۔
 
وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کی بات متعدد مرتبہ کہی۔ حکمران جماعت کے منشور میں بھی اس کا تذکرہ ہوا۔ کیا پچھلے ایک سال میں حکومت چھوڑ، معاشرے میں کہیں اس سمت میں سفر شروع ہوتا نظر آیا؟! کیا ریاست مدینہ میں چوری کے الزام میں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے پندرہ سالہ بچے کو بے دردی سے سڑک پر اتنا مارا جاتا تھا کہ جیسے سزائے موت پر عمل کیا جا رہا ہو؟! کیا چوری کی سزا ریاست مدینہ نے موت قرار دی تھی؟! یقیناً اس پر سندھ حکومت بھی جوابدہ ہے، مگر یہاں آئی جی سندھ پولیس وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے۔ اس لئے دونوں ہی جوابدہ ہیں۔ البتہ یہ الگ بات کہ سندھ کی حکمران جماعت کی قیادت ریاست مدینہ کے نعرے پر ووٹ نہیں لیتی۔
 
بانی پاکستان، بابائے قوم محمد علی جناح کی تصویر کے ساتھ ان کا وہ بیان منشور میں تحریر ہے، جس میں جناح صاحب نے پاکستان میں اسلام کے سوشل جسٹس نظام کو نافذ کرنے پر تاکید کی ہے۔ کیا ایک سال میں سماجی انصاف ہوتا نظر آیا؟  کوئی مثال؟ احتساب کے نام پر مخالف سیاستدان تو پکڑے گئے، لیکن مبینہ لوٹی ہوئی قومی دولت تاحال قومی خزانے میں واپس نہ لائی جاسکی اور احتساب کی شفافیت اس لئے مشکوک قرار پائی کہ حکومت مخالف سیاستدانوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی گئی، مگر حکمران اتحاد پر ہلکا ہاتھ رکھا گیا۔ عدالت نے جسے نااہل قرار دیا، اس جہانگیر ترین کو اجلاسوں میں مدعو کیا جاتا رہا، جس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی اعتراض کیا۔ نا اہلی کے علاوہ بھی مالی بدعنوانی کے الزامات تو ان پر بھی ہیں اور وزیر اعظم کی بہن پر بھی الزامات ہیں، مگر احتساب کے دو مختلف معیار، قواعد و قوانین نظر آئے۔
 
 پی ٹی آئی کے منشور کی کتاب میں بابائے قوم کے قول کے نیچے قومی شاعر علامہ اقبال کا یہ شعربھی درج ہے:
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
لیکن خارجہ پالیسی مکمل طور پر قصر سلطانی کے گنبد نہیں بلکہ گنبدوں پر ہی بسیرا کرتی نظر آئی۔ اقتصادی پالیسی کا ہی جائزہ لے لیں، کشکول توڑنے، قرض لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے کے وعدے کرنے والوں نے سابقین سے زیادہ بڑا کشکول پکڑ لیا اور سیدھے قصر سلطانی جا پہنچے۔ اس کے بعد جس وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا، اس کو سلاطین کی آؤ بھگت کے لیے استعمال کرنے لگے، بلکہ سلاطین کے ڈرائیور تک بننے سے دریغ نہ کیا۔ قصہ مختصر یہ کہ آزاد و متوازن خارجہ پالیسی کے نعروں کو یکسر فراموش کرتے ہوئے پھر پاکستان کو اس مغربی بلاک کے قدموں میں دو زانو کر دیا کہ جس کا قائد امریکا اور جزولاینفک سعودی عرب ہے۔
 
جو وعدہ کیا، اقتصادی شعبے میں بھی ایک سال کے دوران اس کے بالکل برعکس کیا۔ نہ صرف خلیجی عرب ممالک سے اور چین سے بلکہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے بھی قرض لیا۔ روپے کی قدر میں تاریخی کمی ہوئی، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ بجلی و گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ غریب کی ایسی تیسی ہوگئی اور تنخواہ دار نچلا سماجی طبقہ، متوسط طبقہ، سبھی کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دفنا دیا۔ چھوٹے تاجر، دکاندار، سبھی ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبادیے گئے۔ ٹیکس اصلاحات کے نام پر عام شہریوں کی آمدنی پر مزید ڈاکہ ڈالا گیا۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کے ہوتے ہوئے انکم ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے۔ جب ہر شہری ہر خریداری پر سیلز ٹیکس دے رہا ہے، جو براہ راست حکومت کے خزانے میں جا رہا ہے تو آمدنی پر الگ سے ٹیکس تو کم از کم تین لاکھ آمدنی سے ہونا چاہیئے۔ عام آدمی تو جو کماتا ہے، وہ سب تو خرچ ہو جاتا ہے۔ بچتا کیا ہے؟! ایک سال میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ سستی ہاؤسنگ اسکیم پر ابتدائی نوعیت کے کام کا آغاز ہوا اور وہ بھی سست رفتاری سے۔
 
ایک برس میں انصافین حکومت نے نہ تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور وسائل فراہم کئے، نہ ہی کراچی کے مسائل کو حل کیا، حالانکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان حکمران اتحاد کا اٹوٹ انگ ہے۔ باوجود این، کراچی کے میئر وسیم اختر وسائل کی کمی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ پچھلا ایک سال اسی میں گزر گیا، مقامی حکومت کہتی رہی کہ سندھ حکومت کی جانب سے ادائیگی کم ہے اور سندھ حکومت کہتی رہی کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے حصے کی رقم روکے رکھی۔ مجموعی طور پر اگر کوئی ایک اچھا کام نظر آیا ہے تو وہ خارجہ محاذ پر کشمیر ایشو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل میں زیر بحث لانے میں کامیابی ہے۔ ورنہ تو خارجہ محاذ پر سوائے شیوخ و شاہان عرب کی ہاں میں ہاں ملانے کے کچھ تھا ہی نہیں۔ ملکی سطح پر فاٹا، خیبر پختونخوا انضمام، صوبائی اسمبلی میں ان کی الگ سے نشستیں اور الیکشن سے زیادہ نمایاں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ البتہ کشمیر ایشو ہو یا فاٹا کے پی انضمام، اس پر تو حزب اختلاف سمیت پوری قوم ہی متحد و متفق ہے۔
 
اگر انصافین حکومت یوٹرن نہ لیتی تو پاکستان کے پاس اور مزید بہتر آپشن موجود تھے۔ اگر حکمران آزاد خارجہ پالیسی پر یوٹرن نہ لیتے تو بھارت کو کشمیر پر قبضے کو نئی شکل دینے کی جرات نہ ہوتی۔ پاکستان کی حیثیت اور اہمیت ہے۔ چین کے ساتھ ساتھ، روس اور ایران سے بھی تعلقات بہتر بنانے کے عمل میں تیزی لائی جاتی تو امریکا، سعودی، اماراتی، سبھی کو لگ پتہ جاتا کہ پاکستان انکا محتاج نہیں ہے۔ اب اس ایک سال کی غلطیوں کی درستگی کب تک ممکن ہوسکے گی، کچھ نہیں کہہ سکتے۔ شاید وزیراعظم عمران خان جیسے یوٹرن لینے والوں کے لئے ہی علامہ اقبال نے یہ مصرعہ کہا تھا:
یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا!!
خبر کا کوڈ : 811300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب