0
Monday 19 Aug 2019 08:25

ڈرونز کی بارش اور انصاراللہ سے یورپی ممالک کے مذاکرات

ڈرونز کی بارش اور انصاراللہ سے یورپی ممالک کے مذاکرات
اداریہ
یمن کی انقلابی اور عوامی جماعت انصاراللہ نے جب سے دشمن کے خلاف ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے، جنگ کا نقشہ اور طاقت کا توازن تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ گذشتہ دنوں انصاراللہ یمن نے سعودی عرب کے بارہ سو کلومیٹر اندر گھس کر الشیبہ آئل فیلڈ پر دس سے زیادہ ڈرونز گرا کر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی نیندوں کو حرام کر دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ الشیبہ آئل فیلڈ سعودی عرب کے بڑے آئل فیلڈز میں شمار ہوتا ہے، جس میں ایک بلین بیرل آئل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ آئل فیلڈ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی سرحد سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یمنی مجاہدین کے حالیہ ڈرونز نے گویا متحدہ عرب امارات کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ آپ بھی ہم سے دور نہیں اور آپ کی سرزمین بھی ہمارے ڈرونز کی دسترس سے دور نہیں ہے۔

انصاراللہ یمن نے رمضان المبارک میں پہلی بار کامیاب ڈرون حملہ کیا تھا، اس کے بعد یمنی ڈرونز ابہا، جیزان، الخمیس اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں کئی کامیاب حملے کرچکے ہیں۔ الشیبہ ائل فیلڈ پر دس سے زیادہ ڈرونز حملے کی خبر ایسے عالم میں سامنے آئی ہے کہ چار یورپی ملکوں فرانس، اٹلی، جرمنی اور برطانیہ کے سفیروں نے انصاراللہ کے نمائندے سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ یورپی ممالک کا یمن کی انصاراللہ تنظیم کو سرکاری طور پر تسلیم کرکے مذاکرات انجام دینا سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے ڈرون سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔ ادھر انصاراللہ کے سربراہ عبدالمالک حوثی نے عالمی برادری بالخصوص عالم اسلام سے اپیل کر دی ہے کہ وہ یمن سے اپنے سفارتی تعلقات بہتر کریں اور یمن کی طرف سے بھی امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ یمن کے مجاہدین تمام دنیا سے پرامن بقائے باہمی کے اصول کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یمن نے ایران کے لیے اپنا باقاعدہ نمائندہ یا سفیر بھی تعینیات کر دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی سطح پر ابھی تک فراری اور مستعفی صدر منصور ہادی کی حکومت کو ہی یمن کا سرکاری نمائندہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس صدر کو کون مانے جو نہ یمن میں رہ سکتا ہے، نہ وہاں اس کی عوامی جڑیں ہیں اور نہ ہی کسی آئین اور قانون کے تحت وہ ملک کا صدر ہے۔ کہنے والے تو یہ کہہ رہے ہیں کہ عدن میں حالیہ جھڑپوں کے بعد منصور ہادی اور ان کی نام نہاد کابینہ ریاض کی گلیوں میں "آوارہ ہوں، آوارہ ہوں" آسمان سے ٹوٹا ہوا ایک تارہ ہوں" کا غمناک گیت گاتے نظر آتے ہیں۔ یمن کروٹ تبدیل کرچکا ہے، غم و اندوہ کے بادل چھٹنے والے ہیں۔ ظلمتوں کی رات ختم ہونے والی ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں کے بعد یمن کی سرزمین سے یہ آواز آرہی ہے کہ انصاراللہ یمن ارادوں کی جنگ جیت چکی ہے اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بقول آج کے دور کی جنگ عزم و حوصلے اور ارادوں کی جنگ ہے۔ دنیا میں سرگرم عمل تمام اسلامی تحریکوں کے لیے یہی روڈ ماڈل ہونا چاہیئے کہ مشکلات سے گھبرا کر مقامی اسٹیبلشمنٹ، فوج، ایجنسیوں یا کسی بھی طاقت سے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں اور اپنے ارادوں کو مضبوط اور عزم کو بالجزم کریں، آخری فتح حق کو ہی ملے گی۔
خبر کا کوڈ : 811317
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے