0
Monday 19 Aug 2019 15:57

پاکستان کشمیر کیساتھ کھڑا ہے

پاکستان کشمیر کیساتھ کھڑا ہے
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ
 
افغانستان میں داعش نے درجنوں مسلمانوں کو خون میں نہلا دیا، اسکا الزام ایک بار پھر پاکستان پر لگایا گیا، دفتر خارجہ نے تردید جاری کی۔ یہ وہ خطرہ ہے جسکی نشاندہی وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنیکی بھارتی کوشش کے بعد کی تھی، کہ اگر دنیا نے جنوبی ایشیاء کا امن تباہ کرنیکی بھارتی سرگرمیوں کا سدباب نہ کیا، تو داعش سر اٹھائے گی۔ عمران خان نے اس کا تذکرہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں بھی کیا۔ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو مودی سرکار کے غیر آئینی اور غیرمنطقی اقدامات کی وجہ سے خطے کی سکیورٹی صورتحال خراب ہونے کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔ حال ہی میں عالمی برادری کے مطالبے پر پی ٹی آئی حکومت نے جہادی تنظیموں کو محدود کیا اور انکے اثاثے ضبط کئے ہیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام پہنچے کہ موجودہ حکومت غیرریاستی عناصر کو خطے کے امن کیلئے خطرہ محسوس کرتی ہے۔

اسی طرح کرتارپور راہداری کھول کر یہ ثبوت بھی دیا گیا ہے کہ پاکستان مذہبی رواداری پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن اس کے بالکل برعکس بھارت میں ہندو توا کو فروغ دیا جا رہا ہے، مودی سرکار نے مسلمانوں بالخصوص کشمیریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے ذریعے انڈیا یہ چاہتا ہے کہ خطے میں امن قائم نہ ہو، شدت پسندی دوبارہ سر اٹھائے اور تشدد کی لہر پیدا ہو۔ اسی لئے مبصرین کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اگر برقرار رہی تو افغانستان کی صورتحال نہ صرف گھمبیر ہو جائیگی بلکہ اس کے اثرات کشمیر پر بھی پڑینگے، جس سے سی پیک جیسے منصوبے سست روی کا شکار ہو جائینگے اور پاکستان کی ترقی کا سفر تھم جائیگا۔ جب سے کشمیر میں کرفیو لگایا گیا ہے، پوری دنیا میں موجود کشمیری بےچینی کا شکار ہیں۔ سخت پابندیوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے مظاہروں میں جیش محمد کے پرچم بھی لہرائے گئے ہیں.

حالانکہ پاکستان میں ان تنظیموں کو کالعدم قرار دیکر ان پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ موجودہ کشیدگی اگر جاری رہی تو یہ عناصر دوبارہ سراٹھائیں گے اور تشدد کا نیا سلسلہ شروع ہو گا۔ اسکا جواز مودی سرکار فراہم کر رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم اگلے ماہ امریکہ جائیں گے۔ افغانستان میں امریکہ کو پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے لیکن بھارت امریکہ کا اتحادی ہے، مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پس پردہ محرکات اور درپردہ مشوروں میں امریکہ کا کردار موجود ہے، بھارتی اقدامات کے ذریعے امریکہ پاکستان سے زیادہ سے زیادہ تعاون حاصل کرنیکی کوشش کریگا اور سی پیک کے متعلق اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرینکی تگ و دو کریگا۔ اسی لئے سلامتی کونسل میں چین نے سرگرم کردار ادا کیا، تاکہ بھارتی کوششوں کو محدود کیا جا سکے۔ کشمیر کے ذریعے امریکہ چین پر اثرانداز ہونیکی کوشش کر رہا ہے.

دوسری طرف افغانستان کے ذریعے بھارت کو استعمال کر کے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب مشرقی سرحد پر بھارت نے کشیدگی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ پاکستان اندرونی طور پر دہشت گردی کو روکنے کے بعد اب معاشی کمزوری کا مقابلہ کر رہا ہے، سیاسی عدم استحکام بھی اندرونی صفوں کو کمزور کر رہا ہے۔ پوری دنیا میں کمشیری اور پاکستانی آواز بلند کر رہے ہیں لیکن سوائے چین کے کوئی ملک پاکستان کیساتھ کھڑا نظر نہیں آ رہا۔ وزیرخارجہ سخت مایوس ہیں، انہوں نے کشمیر میں مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ منظر سے غائب ہے، کیونکہ مسلمانوں کے بھارت سے تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔ اسی دوران سعودی عسکری اتحاد کا تذکرہ بھی ہو رہا ہے، کیونکہ سابق پاکستانی آرمی چیف وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جنرل راحیل شریف کے قریبی ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر پاکستان یمن جنگ میں غیرجانبدار رہنے کی بجائے سعودی عرب کیساتھ جارحیت میں شریک ہو جاتا تو آج سعودی عرب اور عرب امارات ہمارا ساتھ دیتے، جہاں تک راحیل شریف کی وہاں موجودگی کا تعلق ہے، وہ پاکستان کی نمائندگی نہیں کر رہے بلکہ ذاتی حیثیت میں ملازمت کر رہے ہیں۔ یہ بیانیہ اس کے بالکل برعکس ہے، جو راحیل شریف کی سعودی عرب روانگی کے وقت پیش کیا گیا تھا۔ یمن جنگ میں غیرجانبدار رہنے کی سب سے زیادہ تائید پاکستان تحریک انصاف نے کی تھی، کہ پاکستان کو کسی بھی دوسرے ملک میں ہونیوالی مداخلت میں شامل نہیں ہونا چاہیئے۔ عمران خان یہ بھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ اصولی طور پر کسی بھی دوسرے ملک میں مداخلت کیخلاف ہیں، نہ ہی اپنی فوج کو دوسرے ممالک کے مفادات کیلئے وہاں بھیجنے کے حق میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بھارت جارحیت اور کشمیر میں مداخلت کر رہا ہے۔ ویسے ہی یمن سعودی مداخلت کا شکار ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنے اور یقین حاصل کرنیکی ضرورت ہے کہ بھارت کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے اس کیساتھ اسرائیل اور امریکہ برابر کے شریک ہیں، بالکل اسی طرح جو کچھ یمن کیخلاف ہو رہا ہے اس میں سعودی عرب کو اسرائیل کا تعاون حاصل ہے، جس سعودی عسکری اتحاد سے ہمیں امیدیں ہیں، اسکی افتتاحی تقریب کا صدارتی خطبہ صدر ٹرمپ نے دیا تھا، وہ اتحاد کس طرح مسلمان مظلوموں کی مدد کر سکتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ جس طرح پاکستان نے اندرون ملک دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے، اسی طرح ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرینکی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ ان غیر حقیقی سہاروں سے پاکستان کی فوج اور عوام بے نیاز ہیں، جذبہ ایمانی سے لیس پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کی خاطر مرمٹنے کیلئے تیار ہے۔ قوم بیدار ہو چکی ہے، اسکا ثبوت یوم آزادی اور یوم سیاہ کے موقع پر ہونیوالے جوش و جذبے سے بھرپور مظاہروں اور ریلیوں سے کیا گیا، کشمیر کی مکمل آزادی تک یہ جذبہ سرد پڑنے والا نہیں۔ پاکستان کے حقیقی ہیرو یہ پاکستانی ہیں، غیر ریاستی عناصر اور بیرون ملک ملازمت کے دلدادہ طالع آزما نہیں۔
خبر کا کوڈ : 811362
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب