0
Wednesday 21 Aug 2019 13:48

وزیر دفاع کی کرپشن پر نیب کی خاموشی

وزیر دفاع کی کرپشن پر نیب کی خاموشی
رپورٹ: ایس علی حیدر

پاکستان کے وزیر دفاع پرویز خٹک کا تعلق مانکی شریف ضلع نوشہرہ سے ہے، وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی، ضلع ناظم اور وزیر آبپاشی سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ پرویز خٹک کے سیاسی استاد قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ ہیں۔ انہوں نے سیاسی داؤ پیچ، حکومتیں بنانے اور گِرانے کے تمام طور طریقے اور گُر اپنے استاد سے سیکھے ہیں، جب وہ صوبہ کے وزیراعلٰی تھے تو انہوں نے اپنے سیاسی استاد پر وہی فارمولہ استعمال کیا، جو انہوں نے ان سے سیکھا تھا۔ آفتاب شیرپاؤ اپنے سیاسی شاگرد کے ہاتھوں قلابازیاں کھاتے رہے۔ پرویز خٹک نے اپنے آبائی ضلع نوشہرہ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران عجیب و غریب موقف اپنایا اور کہا کہ نواز شریف اور زرداری نے تجوریاں بھریں، پاکستان کو چوروں اور لٹیروں سے آزاد کرانا ہوگا، لوٹ مار پر شریف خاندان اور زرداری فیملی جیل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہر بیٹھے بے شمار ارب پتی لوگ کرپشن، کمیشن اور رشوت کے ڈر سے پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو وزیر دفاع کا اپنا دامن بھی داغدار ہے، بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی اور مالم جبہ سمیت کئی بڑے بڑے مالی سکینڈل میں ان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں، آج وہ وزیر دفاع ہیں، اس لئے قومی احتساب بیورو (نیب) ان سے پیار اور محبت کرتا ہے۔ جب وہ اقتدار میں نہیں رہیں گے تو نیب کا ان کے ساتھ پیار اور محبت کا رشتہ ختم ہو جائے گا، ان کا آخری ٹھکانہ کال کوٹھڑی ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پرویز خٹک کے پانچ سالہ دور حکومت میں کرپشن کی کہانیوں کی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ مرکز اور صوبہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں، ورنہ وہ آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) میں غضب کی کرپشن ہوئی ہے، بلین ٹری سونامی منصوبہ کرپشن کی ماں ہے۔ مالم جبہ اسکینڈل تاریخ کا حصہ بنتا جا رہا ہے، آج نیب اور حکومت کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے پی ٹی آئی کی چھتری تلے پناہ لئے ہوئے سیاستدان سر فخر سے اُٹھا کر سیاست کر رہے ہیں، جن کی زبانیں حکومت کے خلاف کھلتی ہیں وہ نیب کے ریڈار پر آجاتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو تیز دھار تلوار کی شکل اختیار کرچکا ہے، جب وزیر دفاع پرویز خٹک مخالفین پر کرپشن، ڈاکو اور لوٹ مار کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں تو خود بھی انہیں ہنسی آتی ہوگی کہ وہ اپنے دور حکومت میں کیا کرتے رہے۔ اگر لوٹ مار کرنے والوں کا بلا امتیاز احتساب ہوا تو وزیر دفاع سب سے پہلے جیل میں ہونگے۔ ایک جانب پرویز خٹک کی مزاحیہ کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں تو دوسری جانب سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اسوقت نیب کی تحویل میں ہیں، جب ان کا جسمانی ریمانڈ لینے کیلئے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے احتساب جج محمد بشیر سے مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی، جس پر زیرحراست شاہد خاقان عباسی نے حکومت اور نیب پر طنز کے تیر برسائے اور کہا کہ تعلیم بالغاں کا کورس ہے، ایل این جی کیس پر نیب کو سمجھا رہا ہوں، اسے سمجھ نہیں آرہی ہے، جس طرح بالغاں کو درس دینا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے تو اسی طرح نیب کو سمجھانا تعلیم بالغاں سے کم نہیں۔

شاہد خاقان عباسی اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری شائد وہ سیاستدان ہیں، جو نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ لینے پر نہ اعتراض کرتے ہیں اور نہ ہی ریمانڈ نہ دینے کی استدعا کرتے ہیں، بلکہ وہ احتساب جج سے نیب کی استدعا منظور کرکے ان کا مزید جسمانی ریمانڈر دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ دونوں زیر حراست ملزمان مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ انہوں نے آمریت کے دور کی سختیاں جھیلیں، وہ پہلے بھی جیل کی صعوبتیں اور تکالیف برداشت کرچکے ہیں۔ عجیب و غریب بات یہ ہے کہ ان دونوں کا بار بار جسمانی ریمانڈ لیا جاتا ہے اور احتساب عدالت کے جج صاحب بھی ان کا ریمانڈ دے دیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ فاضل جج محمد بشیر بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں، ایک جانب قومی احتساب بیورو کی زیادتیاں اور انتقامی کارروائیاں عروج پر ہیں تو دوسری جانب عدلیہ دباؤ کا شکار ہے، ایسی صورتحال میں انصاف کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کو بدترین انتقام کا نشانہ بنانا ریاستی اداروں کو زیب نہیں دیتا، ریاستی اداروں کا کام عوام کو انصاف اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔

بدقسمتی سے ریاستی اداروں نے اپنا کام چھوڑ دیا ہے اور وہ انتقامی کارروائیوں میں آخری حدیں عبور کرچکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چور چور اور لٹیرے لٹیرے کہنے کی بجائے کارکردگی پر توجہ دی جائے۔ انتقامی کارروائیوں سے ملک تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، اب حکومت اور ریاستی اداروں کو انتقامی کارروائیوں کو ترک کرنا ہوگا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انتقامی کارروائیوں، ظلم اور زیادتی کرنے والے ریاستی اداروں کی گرفت ہونی چاہیئے اور ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیئے، جب ریاستی ادارے مقدس گائے تصور ہونگے تو ظلم ہوتا رہے گا۔ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہونا چاہیئے، تمام ریاستی اداروں سے ان کے ظلم زیادتی اور بدعنوانی کا حساب لینا چاہیئے۔ ملک تب ترقی کریگا، جب ظلم و زیادتی اور انتقامی کارروائیاں کرنے والوں کی پکڑ ہوگی، جب ریاستی ادارے بے لگام ہونگے تو ملک ترقی کی بجائے زوال پذیر ہوگا، جو موجودہ حکومت میں ہوا ہے۔ دنیا ترقی کرکے آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان میں انتقامی کارروائیوں پر توانائی صرف کی جا رہی ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو ملکی ترقی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ شاید موجودہ حکومت پہلی حکومت ہوگی، جس نے ایک سال کے عرصے کے دوران کریڈیبلٹی لوز کر دی ہے۔ حکمرانوں کو اپنی توانائیاں عوام کو ریلیف دینے پر صرف کرنی چاہیئیں، تاکہ ملک ترقی کی راہ پرگامزن ہوسکے۔
خبر کا کوڈ : 811687
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے