1
Wednesday 21 Aug 2019 00:27

جلتی ہوئی وادی کشمیر اور اسلامی فوجی اتحاد

جلتی ہوئی وادی کشمیر اور اسلامی فوجی اتحاد
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ تین ہفتوں سے جاری بھارتی فوج کے مظالم اور بربریت کے نتیجے میں اب بھی وادی کے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ ہے، کئی نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے، ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، اس کے علاوہ بعض اطلاعات کے مطابق سینکڑوں خواتین اور بچیوں کو بھی اغواء کیا گیا ہے، علاوہ ازیں سینکڑوں نوجوان بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام 70 سال سے زائد جاری ہندوستانی قبضہ کے دوران نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے مودی سرکار کی جانب سے ملکی آئین میں کشمیر کے حوالے سے متنازعہ ترمیم اور کشمیر پر حالیہ یلغار کے بعد بروقت اقدامات کرتے ہوئے اس مسئلہ کو مختلف فورمز پر اجاگر کیا، جس میں سلامتی کونسل کا اجلاس سب سے اہمیت کا حامل تھا، اس کے علاوہ قومی یکجہتی پیدا کی گئی اور پاک فوج نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ ہندوستان کی اس بدمعاشی پر اقوام عالم کا رول حسب روایت متنازعہ رہا، تاہم افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امت مسلمہ بھی کشمیری عوام کا ساتھ دینے کی بجائے اس معاملہ پر تقسیم نظر آئی، بعض ممالک نے اس پر کھل کر تنقید کی، بعض نے درمیانی راہ اختیار کی، جبکہ کچھ عرب ممالک سمیت چند مسلم ممالک نے کشمیر پر پاکستان کے بیانیہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے ہندوستان کا ساتھ دیا۔
 
حکومت پاکستان نے اپنے تئیں سفارتی سطح پر بالخصوص اسلامی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، تاکہ ہندوستان کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کیا جائے، کیونکہ بھارتی رویہ سے قطع نظر پاکستان کو اس بات کا بھرپور احساس ہے کہ جنگ کسی ملک کے مفاد میں نہیں اور اس کا ناقابل تلافی نقصان نہ صرف دونوں فریقین بلکہ خطہ کے کئی ممالک کو اٹھانا پڑسکتا ہے۔ تاہم مسلم ممالک نے اس صورتحال میں جس سرد مہری کا مظاہرہ کیا، وہ کشمیری عوام اور پاکستان کیلئے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ گذشتہ دنوں نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ سب اپنے اپنے کاروبار اور مفادات کے دوست ہیں اور بائیس کروڑ افراد کے ملک کا ڈیڑھ ارب آبادی والی معیشت سے کوئی مقابلہ نہیں، لہٰذا ہمارے سارے دوست بشمول مسلم امہ کے روحانی سربراہ کے، بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی حد تک عمران خان صاحب کی ساری ڈرائیوری تقریباً بیکار گئی۔ ہمیں پندرہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی محض گولی دی گئی اور پاکستان سے بھارت جا کر پہلے پاکستان سے زیادہ سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا اور اب اس عید پر تو حد ہی ہوگئی۔
 
یہاں واضح ہو کہ جس وقت کشمیری عوام بھارتی فوج کے محاصرے میں پانچواں دن گزار رہے تھے، عین اسی روز سعودی عرب کی سرکاری کمپنی آرامکو نے بھارت کے سب سے بڑے تجارتی گروپ ریلائنس کے ساتھ بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ جب کشمیری عید کی نماز سے محروم کیے جا رہے تھے، تب سعودی عرب بھارت کے ساتھ تجارتی پینگیں بڑھا رہا تھا اور جب کشمیری مسلمان عیدِ قربان پر قربانی کے حق سے بزور طاقت روکے جا رہے تھے، ریلائنس گروپ اہلِ بھارت کو اس عظیم سرمایہ کاری کی خوش خبری سنا رہا تھا۔ جب کشمیر میں بھارتی افواج محاصرے اور کرفیو کی کیفیت میں نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلا رہی تھیں، نوجوانوں کو شہید اور زخمی کیا جا رہا تھا، بے گناہوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا، حریت قیادت نظربند تھی، کشمیری بہن، مائیں اور بیٹیوں کی پاک عزتوں پر ہاتھ ڈالے جا رہے تھے، ایسے میں کشمیری عوام کو 41 مسلم ممالک کی افواج پر مبنی نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی یاد آئی ہوگی۔
 
نہتے کشمیریوں نے شائد سوچا ہو کہ شائد واقعی یہ فوجی اتحاد امت مسلمہ کی زخموں پر مرحم رکھنے اور ان پر دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے بنا ہوگا۔ تاہم کسی قسم کی فوجی یلغار یا دھمکی تو دور، اس فوجی اتحاد کی جانب سے کشمیری مظلومین کی حمایت میں ایک مذمتی بیان تک نہ جاری کیا گیا، واضح رہے کہ اس نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت پاکستان کے سابق سپاہ سالار جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے ہاتھ میں ہے۔ شائد اس اقدام سے حکومت پاکستان پر بھی یہ واضح ہوگیا ہو کہ یہ فوجی اتحاد محض آل سعود نے اپنے مفادات کے دفاع قائم کیا تھا۔ حالانکہ جب بھی آل سعود خاندان نے حرمین شریفین کے تحفظ کو ڈھال بنا کر اپنے دفاع کی بات کی تو پاکستان کی جانب سے سب سے پہلے لبیک کی صدا بلند ہوئی۔ کشمیر کے کشیدہ حالات کے دوران ایک افواہ یہ بھی پھیلی تھی 41 ممالک کے اسلامی فوجی اتحاد کی مشترکہ فوج کے کمانڈر راحیل شریف نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے بھارتی ظلم و تشدد اور کرفیو کے باعث عید کی نماز اور قربانی سے محروم کرنے کے خلاف اس نام نہاد اسلامی فوج کی لاتعلقی اور بے حسی کے خلاف استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم اسی روز ہی اس خوش کن خبر کی تردید کر دی گئی۔
 
بھلا پانچ ملین ڈالر سالانہ کی تنخواہ یعنی اسی کروڑ روپے سالانہ اور چھ کروڑ چھیاسٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ چھوڑنا آسان کام ہے؟ کشمیر کی حالیہ کشیدگی اور بھارتی یلغار کے بعد پاکستان کو اپنے دوست اور دشمنوں میں فرق کر لینا چاہئے، یہ پاکستان ہی ہے، جب افغانستان کے مسلمانوں پر جنگ مسلط ہوتی ہے تو کمک یہاں سے جاتی ہے، فلسطین کے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں تو پاکستان کے عوام میدان میں ہوتے ہیں، خانہ کعبہ اور روضہ رسول (ص) کے دفاع کی بات آتی ہے تو پاک فوج کی مدد طلب کی جاتی ہے، تاہم آج اگر پاکستان نہتے کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے مسلم ممالک کے ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کرتا ہے تو ایران اور ترکی سمیت گنتی کے چند ممالک کے بجائے کسی مسلم مملکت کی جانب سے آواز تک نہیں اٹھائی جاتی۔ وہ عناصر جو اس نام نہاد فوجی اتحاد کو کبھی امت کا نجات دہندہ قرار دے رہے تھے، پر بھی واضح ہوگیا ہے کہ یہ 41 ملکی فوجی اتحاد صرف اور صرف آل سعود خاندان کے مفادات کے دفاع کیلئے بنایا گیا تھا، نہ کہ امت مسلمہ کے تحفظ کیلئے۔
خبر کا کوڈ : 811750
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے