0
Wednesday 21 Aug 2019 10:18

مسئلہ کشمیر، پاکستان سنہری موقع سے فائدہ اٹھائے

مسئلہ کشمیر، پاکستان سنہری موقع سے فائدہ اٹھائے
تحریر: تصور حسین شہزاد

پاک بھارت کشیدہ صورتحال کے پیش نظر خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کوئی نہیں روک سکے گا، جس کو لیکر عالمی برادری میں پہلی بار سنجیدگی دکھائی دے رہی اور سلامتی کونسل نے بھی پہلی بار کشمیر کو متنازع ایشو تسلیم کیا ہے۔ 5 اگست کو انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت والی آئینی شق 370 کے خاتمے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کی۔

دونوں وزرائے اعظم کیساتھ ہونیوالی گفتگو کے دوسرے روز وائٹ ہاوس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ایک طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہیں اور یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، وہاں مسلمان اور ہندو ہیں، لیکن وہ ایک ساتھ اچھے طریقے سے نہیں رہ سکتے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم اس وقت ایک گھمبیر مسئلے سے دوچار ہیں۔ دونوں وزرائے اعظم میرے دوست ہیں اور دونوں بہت زبردست انسان ہیں، دونوں اپنے اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں، لیکن وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، کشمیر ایک گھمبیر معاملہ ہے، جو کہ بہت لمبے عرصے سے جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے اس معاملے بر بات کریں گے۔ امریکی صدر اور انڈین وزیراعظم آئندہ ہفتے فرانس میں ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کرنیوالے ہیں، جہاں دونوں رہنماوں میں ملاقات میں کشمیر کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ کشمیر پیچیدہ معاملہ ہے اور اس کی پیچھے مذہب ہے، مذہب پیچیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران بھی ٹرمپ کی جانب سے یہ پیشکش سامنے آئی تھی، تاہم اس وقت جہاں پاکستان نے اس کا خیر مقدم کیا تھا، وہیں انڈیا نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ بھارت کے رویئے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرنا چاہتا۔

عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد مخالفین کی جانب سے یہ بات بھی کی گئی کہ عمران خان امریکہ میں کشمیر کا سودا کر آئے ہیں، جبکہ کشمیر کے حوالے سے خصوصی شق کے خاتمے کے خلاف پاکستان نے فعال کردار ادا کیا ہے اور کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اگر حکومت نے امریکہ میں بیٹھ کر کشمیر کا سودا کیا ہے تو یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہوسکتی ہے۔ ہم جس دہشتگردی کے چنگل سے 70 ہزار سے زائد قربانیاں دے کر نکلے ہیں، اس میں دوبارہ پھنس سکتے ہیں۔ امریکی ایماء پر ہم نے افغانستان کی جنگ کا طوق اپنے گلے میں ڈالا۔ اس جنگ کیلئے ہم نے ہی طالبان کی شکل میں مجاہدین تیار کئے۔ ان نام نہاد مجاہدین نے سوویت یونین کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ سوویت کی تباہی کے بعد ہم نے "مجاہدین" کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہی مجاہدین واپس پلٹے اور ہم پر ہی حملہ آور ہوگئے، وجہ ؟ کیونکہ ہم نے انہیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔

اب اگر حکومت نے کشمیر کا سودا کیا ہے، (جو کہ ابھی تک صرف سیاسی الزام تراشی ہے) تو اس کے بھی بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ کشمیری مجاہدین کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہوسکتا ہے اور ایک بار پھر پاکستان (خاکم بدہن) دہشت گردی کی آگ میں جا گرے گا اور دشمن یہی چاہتا ہے۔ اس  لئے حکومت کو اس حساس ترین معاملے کو انتہائی حکمت کیساتھ ڈیل کرنا چاہیئے، ٹرمپ کی کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھا جائے کہ ٹرمپ عمران خان کی نسبت مودی کے زیادہ قریب اور ان کے تعلقات انڈیا کیساتھ زیادہ ہیں، کیونکہ اس میں اسرائیل بھی شامل ہے اور کشمیر میں جو کچھ ہوا ہے، اس کی پوری پلاننگ "میڈ اِن اسرائیل" ہے۔ فلسطین کی طرح کشمیر میں بھی آبادی کا تناسب بگاڑا جا رہا ہے۔ آج 15 روز ہوچکے ہیں، مقبوضہ وادی کرفیو میں ہے۔ کشمیری عوام گھروں میں محصور ہیں۔ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

سری نگر سمیت مقبوضہ وادی میں کیا ہو رہا ہے، کیا ہوچکا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے، اس کی کوئی خبر نہیں، بلکہ بھارت تو اپنے "جمہوری چہرے" پر یہاں تک کالک مَل چکا ہے کہ اس سے دہلی کے پریس کلب میں سول سوسائٹی اور انڈین صحافیوں کو کشمیر میں بنائی گئی ویڈیوز چلانے کی بھی اجازت نہیں دی۔ گذشتہ روز سری نگر میں کرفیو میں نرمی کرکے سکول کھولے گئے، مگر دو سے تین اساتذہ کے علاوہ کوئی ایک بچہ بھی سکول نہیں آیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیر میں معاملات کافی زیادہ خراب ہیں۔ دہلی میں موجود اسرائیلی سفارتخانہ جہاں دہلی میں ایرانی اثرورسوخ محدود کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، وہاں وہ کمشیر کے معاملے میں بھی بہت زیادہ دخل دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی اسرائیلی طرز جارحیت کے بل بوتے پر وادی کو انڈیا میں ضم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

مودی کے اس اقدام سے کشمیریوں کی اپنی شناخت ختم ہو جائے گی، وہ محض انڈین شہری ہی بن کر رہ جائیں گے اور انڈیا میں مسلمانوں کیساتھ کیا ہو رہا ہے، وہ کشمیری بھی جانتے ہیں اور انڈین مسلمان بھی، کہ محض گاو رکھشہ کے نام پر مسلمانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے اور اس معاملے میں بھارتی عدالتیں بھی شرپسندوں کی طرف کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ گذشتہ دنوں بھی گائے لے جانیوالے مسلمان نوجوان کے قتل کیس میں عدالت نے تمام تر ثبوتوں کی موجودگی کے باوجود ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔ اس عدالتی فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ انڈیا میں باعزت صرف ہندو ہیں۔ باقی اقلیتوں کیلئے سانس لینا بھی جرم ہے۔ انڈیا میں مسلمانوں کیساتھ ہندووں کے ناروا سلوک کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا کہ اجمیر شریف کے گدی نشین کو بولنا پڑ گیا۔

ایسی صورت میں جب انڈیا میں رہنے والے مسلمان پچھتا رہے ہیں، کشمیریوں کو انڈیا میں شامل کرنے کا مطلب ان کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے کشمیری بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور "ہم کیا چاہتے، آزادی" کے نعرے کو عملی جامہ پہنائیں اور حکومتِ پاکستان بھی اقوام متحدہ سمیت عالمی عدالت انصاف میں اس کیس کو مکمل تیاری کیساتھ لے جائے۔ کیونکہ اب یہ حکومت پاکستان کے پاس کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ حکومت نے اگر یہ موقع ضائع کر دیا تو سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ملے گا۔ اور تقدیر صرف ایک بار ہی دستک دیتی ہے، جو دستک پر در واء کر دے، وہی کامیاب ٹھہرتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 811802
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے