0
Wednesday 21 Aug 2019 21:33

ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکشیں، ماجرا کیا ہے؟

ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکشیں، ماجرا کیا ہے؟
تحریر: سید اسد عباس

کشمیر کی موجودہ صورتحال کو جذباتی، علاقائی تناظر سے دیکھنے کے علاوہ ایک پہلو عالمی نظر سے بھی دیکھنا ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا ایک مصدقہ اور توثیق شدہ مسئلہ ہے، جو گذشتہ بہتر برسوں سے حل نہیں کیا جا رہا، اس مسئلے کو برصغیر کے دو اہم ممالک کے مابین وجہ نزاع کے طور پر قائم رکھنے کے لیے ابتداء سے ہی اسے اصولی حل تو دیا گیا، تاہم اس حل کے لیے عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے۔ برطانیہ نے تقسیم ہندوستان کے وقت اپنی نااہلی یا سامراجی شاطرانہ فکر کا استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کو جوں کا توں چھوڑ دیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے اس سامراجی طاقت نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسائل کو جنم دیا۔ برطانوی سامراج نے نئی بننے والی ریاستوں کے مابین نزاع کا بندوبست بہت سوچ سمجھ کر کیا۔ وہ علاقے جہاں برطانوی سامراج حاکم رہا، ان میں تاریخ میں پہلی مرتبہ مردم شماری، ذاتوں، عقائد، مذاہب، رسوم و رواج کے بارے میں معلومات کو اکٹھا کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ یہ معلومات جمع کی گئیں بلکہ ان کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ ہوا اور ان تجزیات کے نتائج برطانوی سامراج کی حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنے۔

اقوام کے رویئے اور مزاج کو مدنظر رکھ کر ان کو حکومتی ذمہ داریاں دینا، باغی اقوام سے زمینیں اور وسائل ضبط کرکے انہیں سامراجی حکومت کی تابعدار نسلوں میں تقسیم کرنا اور ان کو اپنے علاقوں میں طاقتور بنانا۔ معاشرے میں طبقاتی نظام کو رواج دینا، یہ سب سامراجی حکومت کی تسلط پسندانہ حربے تھے، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے زیر تسلط اقوام پر حکومت کی۔ اس سامراجی ٹولے نے جس معاشرے پر بھی حکومت کی، وہاں کے پورے ڈھانچے کو بدلا، وہاں کے تعلیمی نظام کو بدلا، جس کے سبب بعض نسلیں اور اقوام اشرافیہ کا حصہ بنیں اور بعض محرومی کا شکار ہوکر اپنے حقوق کے دفاع پر مجبور ہوئیں۔ برصغیر پاک و ہند میں سر سید احمد خان کی تعلیم کے لیے تحریک اسی سامراجی حربے کے جواب میں تھی۔ بہرحال ایک پورے سائنسی نظام، ایک حکومتی سیٹ اپ کے مقابلے میں سرسید احمد خان کا اقدام کس حد تک کامیاب رہا، اس پر بات کی جاسکتی ہے۔ جیسے جیسے مسلمان بیدار ہوتے گئے، ویسے ویسے برطانوی سامراج کے مختلف حربوں سے آگاہ ہوتے گئے اور اس کے خلاف حکمت عملیاں طے کرتے رہے۔

حربوں اور حکمت عملیوں کے مقابلے کا ایک مسلسل سلسلہ تقسیم ہند تک جاری رہا۔ یہ بات کسی سے پنہاں نہیں ہے کہ ہندو اپنی تابعداری کے سبب ہمیشہ انگریز سے قریب رہے اور اسی سبب وہ انگریز سے مراعات لیتے رہے۔ انگریز کو بھی معلوم تھا کہ برصغیر میں مسلمانوں کی طویل عرصے کی حکومت کے سبب ہندو مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں اور سامراج نے اس نفرت اور دشمنی سے بھرپور استفادہ کیا۔ 3 جون 1947ء میں برطانوی وائسرے نے تقسیم ہند کا زمینی منصوبہ پیش کیا، جس میں تقسیم کی تاریخ کا بھی اعلان کیا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ پنجاب اور بنگال کی قانون ساز اسمبلیوں میں تقسیم ہند کے لیے رائے شماری کروائی جائے گی، اگر یہ اسمبلیاں تقسیم کی حمایت کریں گی تو ان علاقوں کی تقسیم کا عمل انجام دیا جائے گا۔ بلوچستان اور سندھ کا معاملہ وہاں کے عوام پر چھوڑا گیا۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ اور آسام کے ضلع سلہٹ میں تقسیم کے لیے ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ انڈیا پندرہ اگست 1947ء کو آزاد ہوگا۔ تقسیم ہند کی صورت میں ایک باونڈری کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔ برصغیر میں موجود مختلف ریاستوں کے حوالے سے اس منصوبے میں کوئی بات نہ کی گئی، تاہم 3 جون کو ماونٹ بیٹن نے کہا کہ ان کو آزاد نہیں رہنا چاہیئے بلکہ کسی ایک ریاست کا حصہ بن جانا چاہیئے۔

ابو الکلام آزاد نے کہا کہ تقسیم کی صورت میں فسادات کے پھوٹنے کا خدشہ ہے، جس کے جواب میں ماونٹ بیٹن نے کہا کہ میں کوئی سویلین نہیں، ایک فوجی ہوں اور اگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کہیں فسادات برپا ہونے کا خدشہ ہے تو میں اس کے امکان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا۔ ماونٹ بیٹن اپنے اس دعوے میں کس قدر سچا تھا، وہ تو تاریخ نے دیکھ ہی لیا، فسادات کی ان غمناک داستانوں نے پورے برصغیر میں نفرتوں کی آگ کو مزید شعلہ ور کیا، جس کے نتیجے میں مقبوضہ وادی میں بھی فسادات کا سلسلہ پھوٹ پڑا اور ایک مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو تہ تیغ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی آبادی کو جنوبی پنجاب کی جانب ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ ماونٹ بیٹن کا دعویٰ اور اس کی نااہلی یہ کوئی غلطی تھی یا سوچھی سمجھی سازش، اس پر تحقیق تاحال باقی ہے اور اس جرم کے اصل محرکات اور غفلت کرنے والے ذمہ داروں کا تعین ابھی باقی ہے۔

کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ سے قائداعظم نے متعدد ملاقاتیں کیں اور اسے کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پاکستان میں شامل ہونے کو کہا، تاہم ہری سنگھ اس بات پر ڈٹا رہا کہ وہ اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھے گا، کیونکہ اگر وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کرتا ہے تو اس صورت میں ریاست کے مسلمان ناخوش ہوں گے اور اگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرتا ہے تو ریاست کے ہندو اور سکھ خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ بہرحال مہاراجہ نے ہندوستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے، جس کے سبب بھارتی افواج کشمیر میں اتار دی گئیں۔ جس کے جواب میں پاکستان نے بھی کشمیر کی جانب پیش قدمی کی اور دونوں ممالک کے مابین جنگ ہوئی، جسے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 47 میں کشمیر میں استصواب رائے اور دونوں ممالک کی افواج میں کمی کے مطالبے کے ذریعے بند کروایا گیا۔ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے میدان سے ایوان ہائے اقتدار کے بند کمروں کے اجلاسوں اور سیاسی مذاکروں تک محدود ہوگیا جبکہ بھارت کی جارحیت روز بروز بڑھتی چلی گئی۔

آج کشمیر کی تازہ ترین صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ ہندوستان مقبوضہ علاقے کو ریاست ہند کا حصہ قرار دے چکا ہے اور ریاست کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اپنے خیال میں ہندوستان اب جیسے چاہے وادی کی صورتحال کو بدل سکتا ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان اس سارے قضیے میں تنہا نہیں ہے اور نہ ہندوستان کا تازہ اعلان عالمی سیاست سے جدا کوئی مظاہرہ ہے بلکہ پاکستان کی سی پیک میں شمولیت، چین کی جانب جھکاو، شنگھائی تنظیم میں شمولیت، روس کے ساتھ ہمارے بہتر ہوتے روابط، اسرائیل اور ہندوستان کی قربتیں، امریکہ کا افغان جنگ میں ہندوستان پر انحصار اور سی پیک کے معاملے میں ہندوستان کی خطے کے دیگر ممالک کے خلاف اپروچ وہ تمام عوامل ہیں، جو ہندوستان کے اس فیصلے کا باعث بنے ہیں۔ مودی سرکار کو بالیقین صیہونی ریاست اور آج کے استعماری گاڈ فادر امریکا کی جانب سے آشیرباد ملی ہے کہ خطے کی اس دکھتی رگ کو چھیڑو۔

امریکا کا پاکستان اور ہندوستان کو ثالثی کی پیشکش کرنا نہایت اہم ہے۔ چین اور روس کی جانب جھکتے پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کرکے اسے ایک مرتبہ پھر امریکا کی طاقت اور قوت کا احساس دلایا گیا ہے۔ اسے یاد دلایا گیا ہے کہ تمہاری شہ رگ ہمارے پنجے میں ہے، ہم جب چاہیں تمہاری رگوں میں بہتا کشمیری دریاوں کا پانی بند کرکے تم کو خشک سالی کی جانب سے لے جاسکتے ہیں۔ اس وقت امریکہ برطانوی سامراج کا قدیم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمیں اس کی ثالثی سے کس قدر توقعات لگانی چاہئیں، یہ قابل غور امر ہے۔ پاکستان کو اب اس مسئلے کے حل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، وقت گزارو کی پالیسی ناکامی سے دوچار ہوئی ہے، یہ مسئلہ زیادہ سے زیادہ بھیانک شکل اختیار کرکے ہمارے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ دو نیوکلیائی طاقتوں کے مابین اس طرح کے حساس معاملے کا موجود رہنا پورے خطے کے لیے نقصاندہ ہے، لہذا پاکستان کو کشمیری عوام کی مرضی اور منشاء کے مطابق اس مسئلے کو عالمی سطح پر حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات لینے کی ضرورت ہے، تاکہ اس مسئلے کی بیخ کنی کرکے خطے کو ہمیشہ کے لیے پرامن بنایا جاسکے۔
خبر کا کوڈ : 811935
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب