0
Thursday 22 Aug 2019 00:10

بابا کی چھوٹی، کشمیر کی بیٹی

بابا کی چھوٹی، کشمیر کی بیٹی
تحریر: اسماء طارق، گجرات

السلام و علیکم
بابا کیسے ہیں آپ! امید ہے کہ آپ اللہ میاں کے پاس خیریت سے ہونگے۔ گھر میں سب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں، امی کچھ کہتی نہیں ہیں مگر میں جانتی ہوں کہ وہ بھی آپ کو بہت یاد کرتی ہیں، چپکے چپکے روتی ہیں۔ آپا تو بہانہ ڈھونڈتی ہے آپ کی باتیں کرنے کا اور منا وہ تو آپ کے انتظار میں روز دروازے پر کھڑا رہتا ہے۔ امی نے کئی بار منع کیا کہ آپ نہیں آئیں گے، مگر وہ نہیں سنتا کسی کی، بہت ضدی ہے، دادی کہتی ہیں باپ پر گیا ہے۔ بابا پتہ ہے آجکل چھٹیاں ہوئی ہوئیں ہیں، میں تو خوش تھی، مگر گھر میں سب اداس ہیں۔ امی پہلے پھر کبھی کبھار کوئی بات کر لیتی تھیں، اب تو بولتی ہی نہیں، جیسے گونگی ہوگئیں ہوں، دادی اور آپا بھی اب کوئی کہانی نہیں سناتیں، آپ جب آئیں گے تو آپ ان کو ڈانٹیئے گا۔

سارا دن میں اور منا آپس میں لڑتے رہتے ہیں، اب تو کوئی ڈانٹتا بھی نہیں ہمیں۔۔۔ سب چپ چپ رہتے ہیں، وادی تو جیسے سنسان ہوگئی ہے، کوئی باہر نہیں کھیلنے جانے دیتا۔ رقیہ اور فرح بھی نہیں آتی آجکل گھر پر، پتہ نہیں کیوں ناراض ہیں۔ پھل پک کر خراب ہوگئے ہیں، اب تو پرندے بھی نہیں اڑتے ہماری طرف۔ بس ہر وقت ٹھاہ ٹھاہ کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ دادی کہتی ہیں کہ گولیاں چل رہی ہیں، بندے مر رہے ہیں۔ بابا یہ گولیاں کتنی گندی ہوتی ہیں، آپ کو بھی گولی لگی تھی نا اور پھر آپ اللہ کے پاس چلے گئے۔ بابا نہ فون ہوتا ہے، نہ ٹی وی چلتا اور نہ ریڈیو اس بار تو عید بھی نہیں کی کسی نے اور آپ کو پتہ ہے، منا نماز پڑھنے بھی نہیں گیا۔

دو دن سے گھر میں کچھ نہیں ہے کھانے کو، بہت بھوک لگی تھی، میں نے کہا کہ میں رحیم چاچا کی دکان سے سب کے لیے پکوڑے لے کر آتی ہوں تو آپا نے ڈانٹ کر کمرے میں بند کر دیا، آپا بہت گندگی ہے۔ آپا کی  اگلے ماہ شادی ہونی تھی، اب نہیں ہو رہی، بلال بھائی لڑنے چلے گئے ہیں، سب کہتے ہیں کہ وہ اب نہیں آئیں گے، اس لیے وہ بہت اداس رہتی ہیں۔ بابا دلی سے کوئی نیا آرٹیکل آیا ہے، آپ کو پتہ ہے یہ کیا ہے، مجھے تو کسی نہ کچھ نہیں بتایا۔ بابا یہ آزادی کیا ہوتی ہے، کیا ہم آزاد نہیں ہیں، پر مس نے تو سکول میں بتایا تھا کہ اللہ نے سب انسانوں کو آزاد پیدا کیا ہے، پھر یہ سب کیا ہے۔

بابا آپ بھی باہر مت جایئے گا، دادی کہتی ہیں کہ باہر گندے لوگ ہیں، وہ سب کو مار دیتے ہیں، وہ سب سے لڑتے ہیں اور سب کچھ چھین لیتے ہیں، اسی لئے تو وہ سامان لینے باہر نہیں جاتیں۔ باہر ہر طرف خون ہی خون ہے، بابا مجھے اور منے کو بہت ڈر لگتا ہے، آپ جلدی سے آجائیں نا، ان گندے لوگوں کو لے جائیں، ہمارے گھر سے دور کہیں، تاکہ ہم بھی باہر جا سکیں۔ بابا ہمارے سکول جلا دیئے ہیں انہوں نے، اب ہم سکول کیسے جائیں گے اور میں اپنی سہیلیوں سے کیسے ملوں گی۔ بابا کیا وہ سب کو مار دیں گے، کوئی انہیں سمجھاتا کیوں نہیں ہے کہ یہ غلط ہے، گناہ ہے، ہم نے کتاب میں پڑھا تھا، پر وہ سمجھتے ہی نہیں۔ بابا اب مجھ سے اور نہیں لکھا جا رہا، بہت سخت بھوک لگی ہے، پیٹ میں درد بھی ہو رہی ہے، کوشش کرتی ہوں سونے کی، شاید نیند آجائے، آپ اپنا خیال رکھیے گا۔
خدا حافظ
آپکی چھوٹی
کشمیر کی بیٹی
خبر کا کوڈ : 811963
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب