0
Thursday 22 Aug 2019 08:45

کشمیر سب کے لئے امتحان

کشمیر سب کے لئے امتحان
اداریہ
عالمی اور علاقائی مسائل میں کشمیر کو اس وقت بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ آج ہر باشعور اور انسانی درد رکھنے والا کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا نظر آرہا ہے۔ یوں بھی کشمیر کے مسئلے کو جس زاویئے سے بھی دیکھیں، کشمیریوں کی حمایت انسانی فریضہ نظر آتا ہے۔ انسان حق و باطل کے آئینے میں دیکھے تو حق کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ ظالم اور مظلوم کے تناظر میں دیکھا جائے تو کشمیری برسوں سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔۔ انسانی حقوق جو سکہ رائج الوقت ہے اور دنیا میں انسانی حقوق کے نام پر کیا کیا کھیل نہیں کھیلے جا رہے ہیں، کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی جس طرح کی جا رہی ہے، کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جمھوریت کے آئینے میں بھی اہل کشمیر کی جدوجہد کو پرکھا جائے تو اہل کشمیر کا ساتھ دینا ہر جمہورت پسند کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اس تمام صورتحال اور فطری و منطقی دلائل کے باوجود کشمیریوں کی حمایت اس سطح پر سامنے نہیں آرہی، جتنا کشمیریوں کا حق بنتا ہے۔

اس خاموشی کو توڑتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے کشمیری مسلمانوں کی صورتحال پر اپنی ناراضگی، دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر کی موجودہ صورتحال اور اس مسئلے پر ہندوستان اور پاکستان کے اختلافات کو برصغیر سے نکلتے وقت خبیث برطانیہ کے اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر، کابینہ کے ارکان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ کشمیریوں سے ناروا سلوک بند کیا جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں کشمیری مسلمانوں کی صورتحال پر اپنی ناراضگی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ برطانیہ نے کشمیر میں لڑائی کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رکھنے کی غرض سے جان بوجھ کر اس علاقے میں لڑائی کا یہ بیج بویا اور یہ زخم لگایا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہندوستان کی حکومت سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہندوستانی حکومت سے ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے شریف عوام کے سلسلے میں منصفانہ پالیسی اپنائے اور اس علاقے کے مسلمان عوام سے طاقت کی زبان میں بات نہ کی جائے۔ رہبر معظم امام خامنہ نے ایران کے مشکل ترین اقتصادی حالات میں  ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو داو پر لگاتے ہوئے ہندوستانی حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ ایران نے پاکستان کے لئے خطیر سرمایہ کاری کرکے گیس پائپ لائن بچھائی، لیکن پاکستان نے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا۔ ایران نے سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی حمایت کرکے ہندوستان سے ناراضگی مول لی ہے، حالانکہ موجودہ مفلوج کنندہ امریکی پابندیوں میں بھی ہندوستان ایران کے اہم خریداروں میں شامل ہے۔ ایران اپنی حساس اقتصادی صورت حال میں کشمیریوں کی حمایت کرکے ہندوستان سے ناراضگی پیدا کر رہا ہے، لیکن وہ عرب ممالک جو ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن پروجیکٹ کے مخالف تھے اور پاکستانی وزیراعظم ان کے ڈرائیور بنے ہوئے تھے، آج اپنی سرمایہ گزاری کو بچانے کے لئے مسلمانوں کے قاتل اور گجرات کے قصائی کے نام سے معروف نریندر مودی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 812085
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے