0
Thursday 22 Aug 2019 14:55

کشمیر اور مشرق وسطیٰ کے حکمران

کشمیر اور مشرق وسطیٰ کے حکمران
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

کشمیر ہمیشہ سے ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہا ہے۔ فارن سروس میں کام کرنے والے چھوٹے درجے کے عہدہ دار بھی ہر معاملے میں بے خبر ہوسکتے ہیں سوائے کشمیر کے۔ کشمیر سے اہلیان پاکستان کی جذباتی وابستگی ہے، وہ کسی بھی صورت میں اپنے کشمیری بھائیوں کا تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ بات ہر حکمران سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو کہا گیا کہ انہوں نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے اور کشمیر کی بات نہیں کی تو انہوں نے وہ تاریخی جملے کہے تھے کہ میں انسان ہوں اور انسان سے غلطی ہوسکتی ہے، مگر کشمیر کا معاملہ ایسا ہے کہ میں سوتے میں بھی کشمیر پر غلطی نہیں کرسکتا۔ کشمیر کے مسئلے پر ہمیں اسلامی بلاک کی ہمیشہ حمایت رہی، جب بھی کشمیر کا مسئلہ اٹھا، ہر بار مسلمان ممالک نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا ساتھ دیا۔ یہ حمایت بھی یکطرفہ نہیں تھی بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم اصول اسلامی ممالک سے بہتر تعلقات رہا ہے۔ اسی لیے فلسطین سے لے کر بوسنیا تک پاکستان کی قیادت اور عوام فلسطینی اور بوسنیائی بھائیوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ اسرائیل اور اس کے چیلوں نے بارہا کوشش کی کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم کر دیئے جائیں، مگر ہر بار ناکامی ان کا مقدر بنی۔

اب کی بار صورتحال کافی مختلف لگ رہی ہے، بھارتی استعمار کے مقبوضہ کشمیر کی شناخت پر حملے کے خلاف سوائے ترکی اور ایران کے کوئی بھی پاکستانی موقف کے ساتھ نہیں کھڑا نہیں ہوا۔ ترکی اور ایران کے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ بھی وہاں کی حکومتوں کا اپنا تصور ِخارجہ پالیسی ہے۔ ترکی میں پرو اخوان حکومت ہے، جو ہر مسلمان ایشو کو اپنا ایشو سمجھتی ہے، اس لیے جیسے ہی کشمیر میں حالات خراب ہوئے فوری طور پر ان کی طرف سے ری ایکشن آیا۔ ایران کی خارجہ پالیسی بھی دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت پر مبنی ہے، ایران میں موجود پاکستان اور آزاد کشمیر کے طلاب نے وہاں کے مراجع دینی، جو حکومت سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں، ان کے سامنے حقائق بیان کیے، انہیں اہل کشمیر کی مظلومیت اور ہندی استعمار کی سازشوں سے آگاہ کیا۔ قم، مشہد اور تہران میں سیمینارز اور مظاہرے کیے۔ اس سے ایران میں پہلے سے موجود فضا مزید سازگار ہوگئی اور پہلے  قم کی مذہبی قیادت  جن میں آیۃ اللہ ناصر مکارم شیرازی اور دیگر بزرگ فقیہ شامل تھے، نے انڈیا کی مذمت میں بیانات دیئے، حکومت نے بھی کشمیریوں کی حمایت کا موقف اپنایا اور اب ایران کے سپریم لیڈر آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای نے اہل کشمیر کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کشمیر ایسا معاملہ ہے، جو اس میں ہمارے ساتھ ہے، اصل میں وہی پاکستان کے ساتھ ہے، جو اس معاملہ میں ہمارے مخالف ہے، وہ ہمارے مدمقابل کھڑا ہے۔ بونی سوچ کے لوگ پیدا ہوگئے ہیں، جو ادھار تیل دینے اور چند ارب ڈالر دینے والوں پر مرے جاتے ہیں۔ یہ خود احتسابی کا وقت ہے، کہاں ہیں وہ دوست ممالک جن کی گاڑیاں ڈرائیو کی جاتی ہیں؟ کہاں ہیں وہ ممالک جن کے سو کلومیٹر دور سے بھی کوئی جہاز گذر جائے تو ہمارا دفتر خارجہ کہتا ہے ان پر حملہ ہوا تو ہم ان کا دفاع کریں گے؟ جن کے لیے ہم اپنا خون دینے کے لیے تیار ہیں، ان کا کردار باعث شرمندگی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دہلی میں سفیر نے اعلان کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین حکومت نے بہت اچھا کیا ہے۔ یہ بھی سن لیں، وہ اس سے پہلے بحرین جائے گا، یہ پہلا ہندوستانی وزیراعظم ہے، جو بحرین کا دورہ کرے گا۔ بحرینی حکومت بڑی بے صبری سے اس دورہ کا انتظار کر رہی ہے۔ ہم چیختے رہے کہ یہ بکاو حکمران ہیں، ان کو بچانے کے لیے پاکستان افواج کے سپاہیوں کو بھیجنا کسی طور پر ٹھیک نہیں، خلیفہ خاندان کی آمریت کے تحفظ اور بحرین کے نہتے عوام کو کچلنے کے لیے بحرین کی خوب مدد کی گئی اور آج وہی بحرین مودی کے لیے پلکیں بچھا رہا ہے۔ اگر وہاں کی عوام سے تعلقات ہوتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔

سعودی عرب نے کوئی ایک بیان بھی نہیں دیا، جس سے ہم یہ سمجھیں کہ وہ کشمیر میں ہمارے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس بار تو حد ہوگئی، حج کے موقع پر دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کی جاتی تھی، اتنے سنگین حالات کے باوجود کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کے لیے دعا تک نہیں کی گئی۔ سعودی عرب میں بڑے بڑے علماء موجود ہیں، دنیا بھر میں ان کے فالورز ہیں، جب اہل کشمیر کے ساتھ ہوئی زیادتی کے خلاف ہندو، سکھ، مسیحی یہاں تک کہ انصاف پسند یہودی بھی بول رہے ہیں، ایسے میں سعودی عرب کی مذہبی قیادت کی طرف سے ایک بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ جب کشمیر کو دوسرا فلسطین بنانے کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں دور کی جا چکی ہیں، امت کی مذہبی قیادت کے دعویداروں کی طرف سے سرے سے کوئی ردعمل نہ آنا باعث افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ باعث تشویش بھی ہے۔ یہاں مجھے متحدہ عرب امارات کے وزیر کا ایک بیان یاد آرہا ہے، جس میں انہوں نے  پھلجھڑی چھوڑی تھی کہ پاکستان نے یمن فوج نہیں بھیجی، ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ سبق سکھانے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ پہلے سعودی عرب نے مودی کو اپنا سب سے بڑا سول اعزاز دے کر ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی اور اب یہی کام متحدہ عرب امارات کرنے جا رہا ہے، جو اپنا سب سے بڑا سول اعزاز مودی کو پیش کرے گا۔ ان حالات میں ایسا اقدام اہل کشمیر کو نئے زخم لگانے کے مترادف ہوگا۔

ہمیں عرب ممالک سے اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ عرب ممالک سے مراد صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نہیں بلکہ عرب لیگ میں بائس ممالک شامل ہیں۔ یہ تمام اسلامی ممالک ہیں اور بہت بڑے زرخیز اور جمہوریت پسند بھی ہیں، وہ بین الاقوامی سطح پر ہماری بہتر سپورٹ کرسکتے ہیں۔ الجزائر سے لیکر عراق تک بہت پھیلا ہو خطہ ہے، ہمیں دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ویسے تو بذریعہ افغانستان وسائل سے مالا مال وسطی ایشائی ریاستوں تک رسائی اور ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات بھی ہماری پہلی ترجیح ہونے چاہیں، تاکہ ہم ان سے اور وہ ہم استفادہ کریں۔ اس مشکل وقت میں جن ممالک نے ہمارا ساتھ دیا ہے، ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں ان کا خیال رکھنا ہوگا، تاکہ مستقبل میں بھی وہ ہماری حمایت جاری رکھیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ تعلقات کا تعلق مفادات سے ہے، ڈرائیور بننے سے نہیں ہے۔ اقبال کیا خوبصورت کہہ گئے ہیں:
یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بُوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہراؑ!
خبر کا کوڈ : 812102
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب