1
Friday 23 Aug 2019 21:22

خان شیخون کی آزادی، صوبہ ادلب کی مکمل آزادی کی سمت اہم قدم

خان شیخون کی آزادی، صوبہ ادلب کی مکمل آزادی کی سمت اہم قدم
تحریر: امیر حسین رجبی

خان شیخون کا قصبہ شام کے صوبہ ادلب کے جنوب اور صوبہ حماہ کے شمال میں واقع ہے۔ پیر 19 اگست کو میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی کہ شام آرمی خان شیخون میں داخل ہو گئی ہے۔ شام آرمی نے مدایا گاوں سے پیشقدمی شروع کی اور النصرہ فرنٹ کے دہشت گردوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے آگے بڑھی۔ اس کے بعد شام آرمی خان شیخون کے اردگرد پہاڑیوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی اور پانچ سال کے بعد یہ علاقہ تکفیری دہشت گرد عناصر کے کنٹرول سے باہر نکالنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ خان شیخون کی آزادی شام کے صوبہ ادلب کو تکفیری دہشت گرد عناصر کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کروانے میں ایک فیصلہ کن اور اسٹریٹجک اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ خان شیخون کی آزادی بہت زیادہ فوجی اور سیاسی اہمیت کی حامل ہے۔ ہم تحریر حاضر میں اس عظیم فتح کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔
 
خان شیخون کا قصبہ شام کے صوبے حماہ کے شمالی علاقوں میں داخل ہونے کا دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ گذشتہ پانچ برس کے دوران یہ قصبہ تکفیری دہشت گرد عناصر کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا تھا۔ اسی طرح تکفیری دہشت گرد عناصر کی لاجسٹک سپورٹ کا ایک اہم روٹ بھی تھا۔ تکفیری دہشت گرد عناصر اس قصبے پر قابض ہونے کے ناطے ہمیشہ صوبہ حماہ کے شمال میں واقع گاوں دیہاتوں کو مارٹر گولوں اور توپخانے کے ذریعے حملوں کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔ شام کے شمال میں ایک علاقہ "موت کی مثلث" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ درحقیقت تین قصبوں الزکاہ، اللطامنہ اور کفر زیتا کے درمیان واقع ہے۔ اب جبکہ شام آرمی خان شیخون جیسے اہم اور اسٹریٹجک قصبے پر قابض ہو چکی ہے تو موت کی مثلث کو بھی آزاد کروانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ تکفیری دہشت گرد عناصر نے خان شیخون میں بے تحاشہ دفاعی اقدامات انجام دے رکھے تھے اور وہ وہاں خود کو محفوظ تصور کر رہے تھے۔ لیکن اب جبکہ یہ قصبہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو شام آرمی کے سامنے شمال کی جانب پیشقدمی کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ خان شیخون کے قریب ہی ایک اور انتہائی اسٹریٹجک قصبہ معرہ النعمان واقع ہے جہاں سے انٹرنیشنل ہائی وے بھی گزرتی ہے اور یہ ہائی وے شام آرمی کی پیشقدمی تیز کر سکتی ہے۔
 
دوسری طرف تکفیری دہشت گرد عناصر صوبہ حماہ کے شمالی علاقوں میں شام آرمی کے محاصرے میں آ چکے ہیں۔ اب ان کے سامنے صرف دو ہی راستے بچے ہیں۔ یا تو شام آرمی کے خلاف مزاحمت کریں جس صورت میں ان میں سے ایک دہشت گرد بھی زندہ نہیں بچے گا یا ماضی کی طرح ہتھیار پھینک کر ترکی کی سرحد پر واقع صوبہ ادلب چلے جائیں جو ابھی تک تکفیری دہشت گرد عناصر کے قبضے میں ہے۔ خان شیخون کا قصبہ صوبہ ادلب کے مشرقی، مغربی اور شمالی دیہاتوں تک رسائی رکھتا ہے۔ اسی طرح خان شیخون کی آزادی کے بعد حلب سے دمشق جانے والی ہائی وے کی آزادی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ صوبہ ادلب اور صوبہ حماہ میں ترکی کی وساطت سے النصرہ فرنٹ سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر اور شام حکومت میں جنگ بندی قائم ہو چکی تھی۔ لیکن دہشت گرد عناصر کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی اور اپنے قریب واقع دیہاتوں میں مارٹر گولے اور توپ کے گولے برسانے کے بعد آخرکار شام آرمی ان کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن شروع کرنے پر مجبور ہو گئی۔
 
جب آستانہ مذاکرات کے تیرہویں دور میں شام کے شمالی علاقوں میں جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تکفیری دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسے ترکی کی جانب سے حمایت کی امید تھی۔ جب شام آرمی نے النصرہ فرنٹ کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو ترکی کا ایک فوجی کانوائے خان شیخون کی جانب بڑھنے لگا جس پر شام ایئرفورس نے وارننگ کے طور پر اس پر حملہ کیا اور اسے مزید آنے سے روک دیا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی مدد اور حمایت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ النصرہ فرنٹ نے خان شیخون میں شام آرمی کے خلاف مزاحمت کا وعدہ کر رکھا تھا اور اپنے افراد کے حوصلے بلند رکھنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ لیکن اب خان شیخون پر شام آرمی کا قبضہ ہونے کے بعد یقینا دہشت گرد عناصر کے حوصلے پست ہوں گے۔ شام آرمی جیسے جیسے شمال کی طرف پیشقدمی کرے گا اس ملک میں جنگ بندی کا حتمی خاتمہ قریب ہوتا جائے گا۔ شام حکومت ملک کا چپہ چپہ تکفیری دہشت گرد عناصر کے قبضے سے باہر نکالنے کیلئے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ ایران اور روس بھی شام کے اتحادی ممالک ہونے کے ناطے اس کے اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 812281
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب