9
Saturday 24 Aug 2019 15:30

پاکستان کا 72 سالہ سفر، ایک مختصر نظر

پاکستان کا 72 سالہ سفر، ایک مختصر نظر
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
14 اگست 1947ء سے پاکستان نے اپنا سفر شروع کیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ تاریخ ہے۔ چین ہمارے بعد آزاد ہوا، آج دنیا کی بڑی طاقت ہے۔ کوریا کا خطہ، ویتنام، یہ سبھی قیام پاکستان کے بعد طویل جنگوں سے گذرے، آج جنوبی کوریا اور ویتنام کی مثال کامیاب اقتصادی ماڈل کی حیثیت سے دی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش ہمارا ہی حصہ ہوا کرتا تھا، یعنی مشرقی پاکستان، آج اس کے ٹکے کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر کس درجہ کم ہے! بھارت کا روپیہ پہلے ہی آگے سے آگے جاچکا۔ حتیٰ کہ افغان کرنسی بھی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے سے تقریباً سو فیصد زیادہ مستحکم ہے۔ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا، آٹھ سالہ طویل مسلسل جنگ سے گذرا، بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ترقی کرکے دکھائی، آج ایران میں زیر زمین میٹرو ٹرینیں چلتی ہیں۔ لیکن ہم 72 سال بعد بھی بدتر حال میں ہیں۔ ملک میں نظام حکومت کا تعین تاحال نہیں ہو پایا۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کا دور عبوری حکومت کا دور تھا۔ وہ گورنر جنرل کے عہدے پر سربراہ حکومت تھے۔ سیاستدان خواجہ ناظم الدین بھی اس عہدے پر رہے تو بیوروکریٹ غلام محمد نے بھی اس عہدے کا مزہ لوٹا۔ وزیراعظم بھی ہوا کرتے تھے، جیسا کہ لیاقت علی خان۔

شروعاتی دور کو ٹرانزیشن کا عرصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔ مگر اس کے بعد سے آج تک نظام حکومت کا تعین نہیں کیا جاسکا۔ کبھی وزیراعظم کی قیادت میں حکومت چلی تو کبھی صدارتی نظام۔ اسکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر تھے اور پھر 1958ء میں جرنیلی حکومت یعنی مارشل لاء ڈکٹیٹر شپ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان تھے۔ بلا شرکت غیرے حکمرانی کے بعد جرنیل محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں صدر بھی بن گئے۔ یوں بری فوج کی سربراہی کے لئے جنرل محمد موسیٰ فائز ہوئے۔ مورخ کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اسکی بنیاد ماضی میں ڈالی گئی اور تب جنرل ایوب ملکی معاملات کی فیصلہ ساز طاقتور شخصیت تھے۔ یاد رہے کہ انہوں نے ایک عشرے تک ملک پر حکمرانی کی۔ یہ الگ بات کہ ان کی غلط کاریوں کا نتیجہ جنرل محمد یحییٰ خان کے دور میں سامنے آیا۔ حالانکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پہلے شفاف ترین عام انتخابات کروانے کا سہرا جنرل یحییٰ کے سر جاتا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کن غلط کاریوں کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا، اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
 
میں نہیں سمجھتا کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کے سقوط کا اصل ذمے دار جنرل یحییٰ تھا یا ذوالفقار علی بھٹو یعنی یہ دونوں مرکزی ولن کسی طور نہیں تھے۔ مرکزی ولن کوئی اور تھے۔ ملک کے اندر قیام پاکستان کے بعد سے جو کچھ ہوا، سقوط مشرقی پاکستان کی جڑیں وہیں ملیں گی۔ بہت سارے تنازعات پہلے سے چلے آرہے تھے، البتہ جنرل یحییٰ اور مغربی پاکستان کے سینیئر سیاستدان بین الاقوامی سازش کو نہ سمجھ پائے۔ بڑی عالمی طاقتیں بھارت کی پشت پناہ تھیں اور بھارت نے جب بین الاقوامی جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزی کی تو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل نے بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔۔(خیر، ہر موضوع الگ مقالے کا طلبگار ہے)۔
 
پھر بھٹو کا دور حکومت، پہلے عبوری مدت کے صدر اور پھر وزیراعظم۔ پھر 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء کی فوجی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ۔ ایوب خان کی ”غلطی“ سے ضیاء نے سبق سیکھا اور بری فوج کے سربراہ کا عہدہ نہ چھوڑا۔ یہ الگ بات کہ اس عہدے سے ہٹانے کے لئے موت انک ے گلے پڑگئی۔ خیر، اس کے بعد نامکمل اقتدار کے میوزیکل چیئر کھیل کا ایک عشرہ گذرا۔ دو اڑھائی سال کے لئے وزرائے اعظم بے نظیر اور نواز شریف اور پارلیمانی جمہوریت چلنے دی جاتی رہی اور پھر آٹھویں ترمیم کی تلوار چلا دی جاتی۔ پھر وہی جنرل پرویز مشرف کی جرنیلی حکومت کے لئے فوجی بغاوت۔ پھر تقریباً نو سال کے لئے فوجی حکمران، لیکن نئے انداز میں۔ الیکشن، پارلیمنٹ، سب کچھ ساتھ ساتھ۔ البتہ ضیاء کی طرح وہ بھی وردی میں ہی صدر رہنا چاہتے تھے۔
 
بے نظیر بھٹو کے افسوسناک قتل نے پس پردہ قوتوں کا اصل کھیل بگاڑ دیا۔ پرویز مشرف کو پہلے بری فوج کی سربراہی چھوڑنا پڑی اور اس کے بعد ایوان صدر بھی۔ کیونکہ نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن کے بعد برسر اقتدار آگئی بلکہ آصف زرداری صدر بن کر آگئے۔ پھر پانچ سال کا مکمل اقتدار، پھر نواز شریف کی نون لیگ جس میں پارٹی نے اقتدار مکمل کیا، البتہ نواز شریف نااہل ہوگئے۔ اور اب تبدیلی سرکار۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور اب پھر صدارتی نظام حکومت کی افواہیں۔ یعنی 72 سال بعد بھی ارباب اقتدار نظام حکومت کا تعین کرنے میں ناکام ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ ماضی میں آزمایا جاچکا ہے۔ یعنی ماضی ہی کی غلطیوں کو دہرانے پر کمر بستہ ہیں۔
 
آگے چلئے! سیاست بہت ہوگئی!  کیا پاکستان کا یہ 72 سالہ سفر کمال سے زوال کا سفر نہیں تھا۔ دنیا میں کل 193 ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں، مگر پاکستان کی عالمی رینکنگ پر غور فرمائیں۔ آبادی اکیس کروڑ سے زائد یعنی دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ مگر،اقوام متحدہ کی ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کے مطابق انسانی ترقی کی عالمی دوڑ میں پاکستان 150 ویں نمبر پر ہے۔ 193 ممالک میں 150 واں نمبر!!  اقتصادی رینکنگ فہرست میں پاکستان کا 156 واں نمبر، پاور پرچیزنگ پیریٹی کے لحاظ سے پاکستان کا  140 واں نمبر، بیرونی قرضہ، سو بلین ڈالر سے زائد ہوچکا، آئی ایم ایف سے بائیس مرتبہ قرضہ لے چکے۔
 
یاد رہے کہ قیام پاکستان کے بعد پہلے گیارہ سال، آئی ایم ایف کے در پر بھیک مانگنے پاکستان ایک مرتبہ بھی نہیں گیا۔ لیکن، 1958ء سے حکمرانوں نے سود خور مالیاتی ادارے کے آگے ہاتھ پھیلا دیئے۔ آئی ایم ایف سے پہلا قرضہ تین کروڑ ڈالر لیا گیا۔ 1965ء میں چار کروڑ ڈالر اور 1968ء میں دس کروڑ ڈالر۔ یہ تھی جرنیلی حکومت!  اس کے بعد 1972ء، 1973ء، 1974ء اور پھر 1977ء یعنی چار برسوں میں چالیس کروڑ ڈالر مزید قرض، دس کروڑ ڈالر کے حساب سے اور اسکے بعد تو بات کروڑوں سے کہیں دور نکل گئی۔ 1980ء میں ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا قرضہ، 1981ء میں مزید ایک ارب ڈالر کا قرضہ،  1988ء میں 70 کروڑ ڈالر قرضہ، 1993ء میں تیس کروڑ ڈالر 1994ء میں ایک ارب بیس کروڑ ڈالر، 1995ء میں ساٹھ کروڑ ڈالر، 1997ء میں ایک ارب دس کروڑ ڈالر، 2000ء میں پچاس کروڑ ڈالر، 2001ء میں ایک ارب ڈالر 2008ء میں سات ارب بیس کروڑ ڈالر، 2013ء میں چار ارب چالیس کروڑ ڈالر، اور اب 2019ء میں آئی ایم ایف کا 6 بلین ڈالر کا ایک اور قرضہ۔
 
قرض کا عنوان کچھ بھی ہو، ہے تو قرضہ! اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ، پیرس کلب، ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی، یہ سب سود پر مبنی قرضہ ہے، جبکہ یہ تو صرف آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ ہے۔ دیگر قرضوں کی تفصیلات کا بیان اس تحریر میں ممکن نہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ قرض سے بڑا کوئی مرض نہیں!!  پاکستان کے بہتر 72 برسوں میں قرض کا یہ مرض مسلسل لاحق رہا اور اب بھی جان نہیں چھوڑ رہا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی یعنی بیرونی قرض کی مالیت میں خود بخود اضافہ، یعنی مہنگائی کا سیلاب، یعنی قوت خرید میں کمی۔ ملک کا کوئی ایک مسئلہ ہو تو رو لیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ الگ جان کو عذاب۔ ساڑھے تیرہ بلین ڈالر اس خسارے کو ساڑھے چھے ارب ڈالر سالانہ پر لانا ہے، کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے۔
 
پاکستان ایک مزرعی ملک مگر زرعی نظام کی تجدید نہ ہوسکی۔ خالص داخلی پیداوار میں زراعت کا حصہ چوبیس فیصد، مگر زرعی نظام فرسودہ۔ اقتصادی، سیاسی معاملات، سکیورٹی کی صورتحال، انتہاء پسندی، دہشت گردی، جہالت، پسماندگی سبھی شعبے اصلاح چاہتے ہیں۔ انقلابی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ ان بہتر برسوں کے غلط اقدامات نے معاشرے کے عام انسان پر کتنے منفی اور ملک اثرات مرتب کئے، ان سب کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ قصہ مختصر یہ کہ بہتر سال کا یہ سفر حال اور مستقبل کے لئے سبق ہے، رہنما ہے کہ آگے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔  بہت سے شعبوں کی تجدید ناگزیر ہوچکی۔

پاکستان کے 72 سال، باکمال گذرے یا رو بہ زوال، اس پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی واحد نیوکلیئر ریاست جس نے افغانستان میں کمیونسٹ یلغار روکنے میں مدد کی۔ دنیا کے امن کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں، جو اقوام متحدہ کی نظر میں قابل تحسین ہے۔ عالم اسلام میں پاکستان کا نمایاں کردار رہا۔ کشمیریوں کے مقدمہ لڑنے میں قائدانہ کردار پاکستان ادا کر رہا ہے۔ فلسطین کے حق میں آج بھی پاکستان متحد ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ مایوس کن ہے۔ چراغ تلے اندھیرا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے پاکستان کی معیشت پر کتاب لکھی تو پاکستان کو اشرافی ریاست قرار دیا۔ فلاحی ریاست کا خواب، اب تک خواب کیوں!؟
 
اب نظام حکومت کی جگہ طرز عمل تبدیل کریں۔ ترجیحات تبدیل کریں۔ اب پاکستان میں ہونی چاہیئے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، خود انحصاری، آزادی و خود مختاری، دوسروں پر انحصار کا خاتمہ، اقتصادی طاقت بننے کے سفر کا آغاز، اندرونی استحکام، پائیدار داخلی امن، عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی، باعزت روزگار، خراب طرز حکومت کی جگہ گڈ گورننس۔ تبدیلی نعرہ نہیں بلکہ عمل کی تبدیلی۔ یعنی، عوام کو ریلیف، غربت کا خاتمہ، آمدنی میں اضافہ، مہنگائی کا خاتمہ، سہولیات، تعلیم سب کے لئے، ترقی ہر جگہ، پسماندگی بالکل نہیں، رشوت، سفارش، بدعنوانی کا مکمل خاتمہ، اہلیت کو ترجیح اور بھی بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ خارجہ محاذ پر سات عشروں کی ناکام پالیسی کو تبدیل کئے بغیر پاکستان کی آزادی و خود مختاری ممکن نہیں۔ امریکی، سعودی یا مغربی بلاک کا ہمارے لئے جو اسکرپٹ ہے، وہ ایک کمی کمین کا ہے، نہ کہ آزاد و خود مختار ملک کا کہ جس سے وہ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھیں اور پاکستان کے 72 سالہ سفر میں ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ امریکی سعودی منصوبوں میں شراکت داری بھی ہے۔ اسے بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سنجیدہ ہوں تو ایران بہرحال ایک کامیاب ماڈل ہے۔
خبر کا کوڈ : 812456
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب