1
Saturday 24 Aug 2019 22:41

حشد الشعبی عراق کی امریکہ کو شدید وارننگ

حشد الشعبی عراق کی امریکہ کو شدید وارننگ
تحریر: علی احمدی

امریکہ ایک عرصے سے عراق میں موجود ہے اور اب تک تمام کوششوں کے باوجود مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لہذا گذشتہ چند ہفتوں سے اس نے عراق کی قومی سلامتی کے خلاف سازشوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ ان سازشوں کا رخ عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی اور عراق آرمی کے فوجی ٹھکانوں کی طرف ہے۔ ان سازشوں کا مقصد ایک طرف عراق آرمی اور حشد الشعبی میں اختلافات پیدا کر کے انہیں ایکدوسرے سے دور کرنا ہے جبکہ دوسری طرف ملک میں سکیورٹی بحران ایجاد کر کے داعش اور سابقہ بعث پارٹی سے وابستہ دہشت گرد عناصر کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ ان امریکی سرگرمیوں کے خلاف عراق کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور تمام گروہوں نے آپس میں متحد ہو کر غیر ملکی جارح قوتوں کا مقابلہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے حکومت سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دو ٹوک اقدامات انجام دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی رضاکار فورس میں شامل ایک گروپ حزب اللہ بٹالینز نے امریکہ کو حشد الشعبی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر شدید وارننگ دی ہے۔
 
یاد رہے کچھ دن پہلے عراق کے شہر بلد میں حشد الشعبی کے ایک ایئر بیس پر ڈرون حملہ ہوا جس کے نتیجے میں اسلحہ کا بڑا ذخیرہ تباہ ہو گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ حملہ اسرائیل نے انجام دیا اور چونکہ اس وقت عراق کی فضائی نگرانی امریکہ کے سپرد ہے لہذا امریکہ کو بھی اس میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔ حزب اللہ بٹالینز نے اپنے بیانیے میں کہا ہے کہ امریکہ نے مقامی سطح پر ایجنٹ بھرتی کر کے حشد الشعبی کے فوجی مراکز کی جاسوسی کروائی اور بلد ایئر بیس پر حملے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ بیانیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مستقبل میں بھی ایسے دہشت گردانہ حملے انجام دینے کے علاوہ عراق کی انقلابی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ بھی کروا سکتے ہیں۔ حزب اللہ بٹالینز نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حشد الشعبی کے مراکز یا شخصیات کے خلاف دوبارہ کوئی ایسا اقدام انجام پایا تو کسی وارننگ کے بغیر امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دوسری طرف حشد الشعبی کے اسسٹنٹ کمانڈر ابو مہدی المہندس نے بھی بلد ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں امریکہ کو ملوث قرار دیا ہے۔
 
عراق کے صدر برہم صالح، وزیراعظم اور قومی اسمبلی کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے بلد ایئر بیس پر دھماکوں کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک ہنگامی میٹنگ میں حشد الشعبی کے اس فوجی مرکز پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا جائزہ بھی لیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جلد از جلد اس میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے پر زور دیا ہے۔ حشد الشعبی نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں انہوں نے اپنے ایک فوجی مرکز کے قریب پرواز کرنے والے ایک جاسوسی طیارے کو مار گرایا ہے۔ یہ جاسوسی طیارہ بغداد کی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔ حشد الشعبی کی جانب سے جاری کردہ بیانیے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے دشمن کا جاسوسی طیارہ مار گرایا ہے اور یوں اس کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے ہیں۔ اس بارے میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بلد ایئر بیس پر دہشت گردی کا واقعہ رونما ہونے کے ساتھ ہی ایک برطانوی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے گروہ کے تمام امور اپنے ایک قریبی ساتھی کے سپرد کر دیے ہیں۔ برطانوی اخبار ٹائمز نے مزید لکھا ہے کہ اس سے ان خبروں کی تصدیق ہوتی ہے جن میں ابوبکر بغدادی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
 
دوسری طرف عراق کی قومی اسمبلی میں سکیورٹی امور کی کمیٹی کے رکن مہدی الامرلی نے بھی حشد الشعبی کے ایئر بیس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حشد الشعبی کے کسی فوجی مرکز کو نشانہ بنایا گیا تو قومی اسمبلی عراقی حکومت پر دباو ڈال کر اسے بین الاقوامی اتحاد سے باہر نکل جانے پر مجبور کر دے گی۔ اسی طرح عراقی پارلیمنٹ میں صادقون الائنس نے بھی بلد ایئر بیس پر حملے میں امریکہ اور اسرائیل کے ملوث ہونے کی شدید مذمت کی ہے۔ صادقون الائنس کے رکن حسن سالم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں امن و امان کے قیام کا واحد راستہ امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کر کے اس کا سفارتخانہ بند کر دینے پر مشتمل ہے۔  
 
خبر کا کوڈ : 812492
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب