1
Sunday 25 Aug 2019 17:21

عرب دنیا پر حکمرانی کا خیالی پلاو

عرب دنیا پر حکمرانی کا خیالی پلاو
تحریر: سید ابراہیم

یمن کے خلاف سعودی جارحیت اور عام شہریوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ ماضی میں خاص طور پر جمال عبدالناصر کے زمانے میں جب عرب سوشل نیشنل ازم اپنے عروج پر تھا تو یمن سعودی عرب کیلئے ایک خطرہ تصور کیا جاتا تھا۔ لہذا سعودی حکام اس خطرے سے بچنے کیلئے یمن کے خلاف فوجی جارحیت کرتے رہتے تھے۔ لیکن یمن کے خلاف سعودی عرب کی حالیہ فوجی جارحیت اس کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے زمرے میں نہیں آتی۔ کیونکہ اس وقت نہ تو مصر ماضی جیسا طاقتور ہے اور نہ ہی جنرل قذافی یا صدام حسین موجود ہیں جو یمنیوں کو سعودیوں کے خلاف اکسانا چاہیں گے۔ پس یمن کے خلاف سعودی عرب کی موجودہ فوجی جارحیت کی وجہ کیا ہے؟ یہ مسئلہ مزید واضح ہونے کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد ظریف کی جانب سے حال ہی میں بیان کردہ ایک واقعے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
 
ڈاکٹر ظریف کہتے ہیں: "جب میں نے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا تو سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کو پیشکش کی کہ ان سے یمن، بحرین، عراق، شام اور لبنان کے بارے میں مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ میں نے اپنے پیغام میں حتی یہ پیشکش بھی کی کہ اگر وہ چاہیں تو جنرل قاسم سلیمانی سے بھی براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں۔ لیکن سعود الفیصل نے جواب دیا کہ عرب دنیا ہماری ملکیت ہے اور اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔" اب ان پر واضح ہو چکا ہو گا کہ عرب دنیا کا ایران سے تعلق ہے یا نہیں۔ شام اور یمن میں سعودی حکام شکست کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے لبنان کے وزیراعظم کو سعودی عرب بلا کر یرغمال بنا لیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ درحقیقت گذشتہ عشرے میں سعودی عرب نے اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی لاتے ہوئے جارحانہ اور تسلط پسندانہ پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ سعودی عرب خود کو عرب دنیا کا مالک تصور کرتا ہے۔ یہ وہی آرزو ہے جو اس سے پہلے مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے دل میں تھی اور کچھ عرصہ تک صدام حسین بھی اس کا شکار رہے۔
 
سعودی حکمرانوں نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کا آغاز اپنے ہمسایہ ممالک سے کیا۔ یمن کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کر دیا، قطر کے خلاف شدید نفسیاتی اور اقتصادی جنگ شروع کر دی، اس کے بعد مصر کا رخ کیا اور وہاں پیسے کے زور پر فوجی بغاوت کروائی اور حتی مصر کے بعض جزیروں پر بھی قبضہ کر لیا۔ شام میں تکفیری دہشت گردی کو فروغ دیا اور لبنان کے اندرونی مسائل میں مداخلت کرنا شروع کر دی۔ ان تمام محاذوں پر سعودی عرب کو بھاری اخراجات کرنے کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں، امریکہ نے بھی سعودی حکمرانوں کو خوب دوہا۔ سعود الفیصل 40 سال تک سعودی عرب کے وزیر خارجہ رہے ہیں۔ دنیا میں بہت کم افراد ایسے ہیں جو اتنے طویل عرصے تک یہ ذمہ داری ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ انتہائی تجربہ کار تھے۔ جب سعودی حکمرانوں میں اس قدر تجربہ کار شخص اتنی سطحی سوچ کا مالک تھا کہ عرب دنیا کو اپنی ذاتی ملکیت تصور کرتا تھا تو شہزادہ محمد بن سلمان جیسے ناتجربہ کار جوان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟
 
اصل مسئلہ یہ ہے کہ عرب دنیا ایک خیالی حقیقت کا نام ہے۔ خود عربوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے عرب باشندوں کی تعداد ان سے دسیوں بلکہ سینکڑوں برابر زیادہ ہے جو اسرائیل کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ اس وقت بھی یمن اور شام میں سعودی حکمرانوں اور ان کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں قتل ہونے والے عام افراد کی تعداد اسرائیل کی جانب سے شہید کئے گئے فلسطینی شہریوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دنیا کے غریب ترین اور امیر ترین ملک عرب دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ شراب کے پیالے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے نصیب میں آئے ہیں جبکہ خون کے پیالے یمن، سوڈان، صومالیہ اور شام جیسے ممالک کے حصے میں آئے ہیں۔ سعود الفیصل اور اس کے بعد والے سعودی حکمرانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ تصور کرتے ہیں دیگر ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ان کی اجازت کا انتظار کریں گے۔ وہ اس وہم کا شکار تھے کہ امریکہ کے جدید ترین جنگی طیاروں کی مدد سے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یمن پر قبضہ کر کے صنعا جا کر اپنے مطلوبہ افراد کو مسند اقتدار پر بٹھا سکتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی شدید غلط فہمی ثابت ہوئی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 812575
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب