0
Sunday 25 Aug 2019 17:02

مایوسیوں کے گہرے بادل

مایوسیوں کے گہرے بادل
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک برس ہی ہوا ہے، اس ایک برس کے بعد کسی بھی شہر میں سروے کرکے دیکھ لیں، عام عوام سے لیکر خواص تک سب ہی پریشان دکھائی دیتے ہیں اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں، بالخصوص مہنگائی کا رونا رویا جا رہا ہے، ٹیکسز کی بھرمار اور کاروباری طبقات سے لیکر ملازمت پیشہ افراد سب ہی عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کے بعد پٹرول کی قیمت بڑھی ہے اور ڈالر نے جس تیزی سے اڑان بھری ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے، سونا بھی اپنی بلند ترین شرح پر پہنچ گیا ہے اور کسی غریب کا ایک تولہ خرید کر بیٹی کو بیاہنا اب خواب دکھائی دیتا ہے۔ کہنے کو پی ٹی آئی کے قائد نے یہ کہا تھا کہ ہم قرض یعنی بھیک نہیں مانگیں گے اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ ایک ملک کے سربراہ کی توہین ہوتی ہے کہ وہ کسی کے سامنے کشکول پھیلائے، مگر بدترین حالات کا کہہ کر سب سے پہلے سعودیہ سے امداد مانگی گئی، چھ ارب ڈالرز کی امداد، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے تین ارب ڈالرز، قطر کے بادشاہ بھی آئے، ان کیساتھ کیا معاہدہ ہوا، یہ کچھ واضح نہیں کہا جا رہا تھا کہ وہ نواز شریف کی ڈیل کیلئے آئے تھے۔ اس کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ اور ڈیل سب کے سامنے ہے۔

بہرحال مختلف دوست ممالک سے امداد ملنے کے بعد یہی سمجھا جا رہا تھا کہ ملکی حالات بہتر ہو جائیں گے، مہنگائی کا طوفان رک جائے گا اور معیشت مستحکم ہو جائے گی، مگر ایک سال گذر جانے کے بعد عوام تنگ پڑ گئے ہیں، ابھی تک کوئی ایک منصوبہ بھی لانچ نہیں ہوا، بلکہ پچھلے منصوبے جیسے لاہور ماس ٹرین منصوبہ جو شہباز شریف نے شروع کیا تھا اور اپنے آخری دنوں میں ایک سیکشن پر ٹرین لا کر چلا بھی دی تھی، ابھی تک نامکمل ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں واحد بی آر ٹی منصوبہ بھی تشنہ تکمیل ہے۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو اس حکومت نے جتنی امیدیں دلائی تھیں، اس حوالے سے مایوسیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ اندازہ نہیں تھا کہ اتنے کم عرصہ میں عوام ان سے مایوس ہو جائیں گے۔
 
وزیراعظم کا امریکہ کا دورہ بڑا کامیاب قرار دیا گیا، بالخصوص امریکہ میں ہزاروں افراد کا اجتماع کرنے کو بڑی کامیابی تعبیر کیا گیا، اب عرب امارات میں ہندوستان کے وزیراعظم کے پرتپاک استقبال اور ایک اسٹیڈیم میں بڑی تقریب نیز اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا جانا کس کی کامیابی اور کس کی ناکامی سمجھا جائے؟ امریکہ میں عوامی اجتماع امریکی حکومت کی طرف سے نہیں تھا، امارات میں مودی کیلئے سرکاری سطح پر عوامی اجتماع رکھا گیا ہے، افسوس کہ ہمیں ابھی تک اپنے دوستوں اور دشمنوں کی پہچان نہیں ہوئی۔ ہمیں جن بتوں سے امیدیں ہیں، وہ تو اپنے لئے کسی کے محتاج ہیں، کیا امارات اور سعودیہ یمن کے مسئلہ پر امریکہ و اسرائیل کے محتاج نہیں اور ان ممالک نے بیک ڈور چینل سے ایران سے مدد نہیں مانگی، امریکہ انہیں اپنے تمام تر جدید ہتھیاروں کے باوجود تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے، پھر یہ ہمیں کیسے مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

تیل کی دولت کا نشہ اب اترتا دکھائی دیتا ہے، وقت ان عربوں کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے اور یہ خود اسرائیل کی گود میں بیٹھنے میں عافیت جان رہے ہیں، تاکہ ممکنہ طور پر سامنے آنے والی اسلامی تحریکوں کو دبا سکیں، ہندوستان کے ساتھ بھی اسی تناظر میں تعلقات میں تیزی اور مضبوطی لائی جا رہی ہے، مودی جیسے قاتل اور مسلم دشمن کو پہلے حجاز کے قابضین نے اعلیٰ ترین ایوارڈ دیئے، اب امارات نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ مودی پہلا ہندوستانی وزیراعظم ہے، جو بحرین گیا ہے، اس دورے کے دوران بحرینی افواج و پولیس میں شامل پاکستانیوں کو دور رکھا گیا ہے، حالانکہ ہم نے ہی یہاں فائیو سٹار ہوٹلوں میں یہ کرائے کے فوجی بھرتی کرکے بھیجے تھے، یہی اوقات ہے ان کرائے کے فوجیوں کی کہ یہ وہاں کی سول آبادی جو اہل تشیع ہیں، کو نشانہ بنانے کیلئے بھرتی کئے گئے ہیں۔
 
شاہان وقت کی ڈرائیوری کرنے سے لیکر تاریخی استقبالئے دینے کے باوجود ہم اس مقام و مرتبہ سے محروم ہیں، جو توقع رکھتے تھے، ایسے وقت میں جب مودی نے کشمیر کے مسلمانوں پر آگ و خون اور بارود کی بارش کر رکھی ہے اور پوری دنیا اس کی مزمت کر رہی ہے اور گہری نظر سے دیکھ رہی ہے، ایسے وقت میں امارات کی طرف سے اتنے اعزازات سے نوازا جانا اور بحرین کے کٹھ پتلی شاہان جو سعودی قزاقوں کے پے رول پہ رہتے ہیں، کی قربتیں بڑھانا ہمارے لئے کافی سبق آموز ہے، سعودیہ جس نے اپنے غریب ہمسائے یمن پر ناجائز چڑھائی کی ہوئی ہے، جس میں لاکھوں لوگ برباد اور تباہ ہوگئے ہیں، اگر کبھی ان کی مزاحمت اور جوابی کارروائی میں کسی سعودی ایئر پورٹ یا اہم پوائنٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہمارا دفتر خارجہ باقاعدہ اس کی مذمت کرتا ہے اور اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ سعودیہ کا دفاع ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، حالانکہ حرمین کا دفاع الگ معاملہ ہے اور آل سعود کا دفاع الگ معاملہ ہے، اس کے باوجود ہم آل سعود سے اپنی وفاداری نبھانے کا اعلان کرتے ہیں۔

یہاں کے کچھ ریال خور ملاں بھی میدان میں آجاتے ہیں اور اپنی نوکری پکی کرنے کا کام کرتے ہیں، بعض لکھاری اور اینکر بھی آل سعود کی نمک خواری کا حق ادا کرنے سے نہیں چوکتے، جبکہ اس کے مقابل ایران جو پاکستان کا برادر ہمسایہ اور مشکل وقت میں کام آنے والا ہے، اس کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اب بھی کشمیر کے سلگتے ایشو پر ایران پہلا ملک تھا، جس میں اہل کشمیر کی حمایت میں ہندوستانی سفارت کے سامنے احتجاج کیا گیا، ناصرف احتجاج بلکہ ایران کی سرکردہ شخصیات بشمول رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای نے بھی کشمیر میں مودی حکومت کے مظالم پر مسلمانوں کو جھنجھوڑنے اور اس جانب متوجہ ہونے کی اپیل کی ہے، کشمیر میں کئے جانے والے مطالم پر ایران خاموش نہیں رہا، اس کے جمعہ کے اجتماعات و خطبات جو ملکی پالیسی کا اعلان ہوتے ہیں، میں ہندوستانی اقدامات کی بھرپور مذمت کی گئی ہے، حالانکہ یہاں پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران ہندوستان کے زیادہ قریب ہے اور اس کے تیل کا بڑا خریدار ہندوستان ہے، لہذا اس کا وزن ہندوستان کی طرف ہی رہیگا، مگر معاملہ اس کے الٹ دیکھا جا رہا ہے۔

ہمارے عرب دوست ہندوستان سے قربتیں برھاتے نظر آئے ہیں اور اہل کشمیر کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں، جبکہ ایران کشمیریوں کا ہم آواز بنا ہے، ہماری حکومت اور اس کے ترجمانوں کو اتنی جراءت نہیں کہ وہ ایران کے اس عمل کی تعریف و توصیف کرسکیں، چونکہ آقائوں کی ناراضگی کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔
بہرحال حکمرانوں سے مایوسیوں کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، چاہے یہ مقامی ایشوز ہوں، مہنگائی کی بات ہو یا عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات، ہر حوالے سے مایوسیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان کے بس کی بات نہیں، تمام پارٹیوں سے جو الیکٹ ایبل جمع کئے گئے تھے، انہوں نے ابھی تک تو کارکردگی کے حوالے سے مایوس کیا ہے اور یہ تاثر بھی ابھی سے سامنے آگیا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرتی نظر نہیں آتی، ایسے میں ہم پاکستان کیلئے نیک تمنائوں کی دعا کرسکتے ہیں، بہتر سال سے ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 812619
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب