0
Thursday 29 Aug 2019 11:04

کشمیر اور گلگت بلتستان کی مـشترکہ محرومیت

کشمیر اور گلگت بلتستان کی مـشترکہ محرومیت
تحریر: محمد حسن جمالی
 
کشمیر اور گلگت بلتستان وہ خوبصورت خطے ہیں جن کی نظیر بہت کم ہے ، قدرت نے انہیں بے پناہ حسن سے نوازا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ خطے آج دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، روز بروز جدید ذرائع اور سوشل میڈیا کی بدولت ان خطوں کے وہ مقامات جو دنیا والوں کی نگاہوں سے اوجھل تھے آہستہ آہستہ نمایاں ہو رہی ہیں، جس کے سبب ہر سال سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو یقینا روشن مستقبل کی نوید ہےـ گلگت بلتستان کے معروف سیاحتی مقامات میں سرفہرست فیری میڈوس، دیوسائی، راما، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، شنگریلا، خلتی جھیل، پھنڈر، شندور، ہنزہ بلتت التت فورٹ، شگر فورٹ گانچھے فورٹ، خپلو میں ہزار سال قدیم مسجد چقچن، نلتر ،کھرمنگ میں منٹھوکا آبشار، خموش آبشار، کھرمنگ کھر، کندرک بڑوق سمیت سات جھیلیں وغیرہ شامل ہیں۔ کشمیر میں اخباری رپورٹ کے مطابق ۱۰۰ سے زیادہ تاریخی مقامات ہیں اور گنگا چوٹی، دائوکھن، وادی لیپہ ویلی، چناری آبشار، چھم آبشار، ایل او سی چکوٹھی، کھلانا، وادی چکار، ذلزال جھیل وغیرہ پر سیاحوں کا رش رہتا ہےـ
 
 
 یہ بات بھی دنیا والوں کے علم میں ہے کہ جنت نظیر کشمیر اور گلگت بلتستان بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ان کے باسی عرصہ دراز سے اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کی بات کی جائے تو ۷۲ سال گزرنے کے باوجود یہ بدقسمت خطہ بے آئینی کی دلدل سے نہیں نکل سکا، المیہ یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں ریاست پاکستان گلگت بلتستان کی ثروت ہڑپ کرتی رہی، اس کے وسائل اور افرادی قوت سے بھرپور استفادہ کرتی رہی، کرگل سیاچن سمیت جہاں کہیں بھی پاکستان کے دشمنوں سے سینہ سپر ہوکر لڑنے کے لئے بےباک اور شجاع و نڈر جوانوں کی ضرورت پڑی، پاکستانی حکمرانوں نے خطہ بےآئین کے آرمی جوانوں کا ہی انتخاب کیا، انہیں آگے کرنے میں ہی فلاح و صلاح جانی، ان کے لہو کی قربانی سے ہی پاکستان کے حصے میں  جیت فتح اور کامیابی آئی۔
 
مگر تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان کو دل و جان سے محبت کرنے والے گلگت بلتستان کے مکینوں نے جب بھی، جس انداز میں پاکستانی حکمرانوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا، کہیں بھی شنوائی نہیں ہوئی، مسند اقتدار پر برجمان کسی بھی ذمہ دار شخص نے اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کرنا گوارا نہیں کیا، البتہ ہر پارٹی کے سربراہ یا عہدہ دار گلگت بلتستان کے باسیوں کو سبز باغ ضرور دکھاتے رہے، جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے ان کے دل و دماغ میں حقوق دینے کو یقینی بناتے رہے، گلگت بلتستان کے سادہ لوح عوام ان کو عزت اور دعائیں دیتے رہے، انہیں بے تحاشہ خرچ کرکے اپنے ہاں مدعو کرتے رہے، وہ باری باری گلگت بلتستان کا دورہ کرتے رہے، عوام اپنا سب کچھ بھلا کر ان کے جلسے میں شرکت کرتے رہے، جلسے میں نعرے لگاتے رہے مگر ... 
 
۲۱ویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی حکمرانوں کی دوغلی پالیسی اور فریب دے کر گلگت بلتستان کے عوام کو الو بنانے کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری دکھائی دے رہا ہے، جس کی حالیہ مثال بلاول بھٹو کا دورہ گلگت بلتستان ہے وہ تشریف لائے، گلگت بلتستان کے عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا، کھرمنگ تک کا دورہ کیا، جگہ جگہ عوام سے خطاب کیا اور ماسلف اقتدار کے نشے میں مست افراد کی سیرت پر چلتے ہوئے حکومت وقت پر تنقید کے نشتر چلائے اور عوام سے کچھ وعدے کرکے بے وقوف بنا کر واپس چلے گئے، سکردو میں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا مودی تم لوگوں کو مار سکتے ہو لیکن ان کی سوچ کو کبھی ختم نہیں کر سکتے، تم رہبر نہیں رہزن ہو، تم قاتل ہو، مودی تمہیں تاریخ ایک ہی نام سے یاد رکھے گی، قاتل، قاتل ....جناب بلاول اپنے گریبان میں ذرا جھانک کر بھی دیکھو، کیا گلگت بلتستان کے حوالے سے آپ اور آپ کے پدر بزرگوار سمیت سابقہ حکمرانوں پر  آپ کی یہ باتیں منطبق نہیں ہو جاتیں؟ کیا آپ لوگ گلگت بلتستان کے حقوق کے غاصب نہیں؟ کیا آپ لوگ بجائے رہبر کے رہزن نہیں؟
 
 وارث بےنظیر نے مزید کہا سلیکٹڈ وزیراعظم نے ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی کو تباہ و برباد کر دیا، سوال یہ ہے کہ کیا زرداری نے معیشت کو ترقی کی چوٹی پر پہنچا دیا تھا؟ کیا خارجہ پالیسی کے حوالے سے آنجناب نے کوئی لائق تحسین اقدام کیا تھا؟ پدرم سلطان بود کے مطابق پیپلز پارٹی کی مسند چیئرمینی پر براجمان بینظیر کے نور نظر نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے غریب عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیئے، ملک کا ہر طبقہ مہنگائی اور ٹیکس سے پریشان ہے، خان اور اسکی کابینہ کے لوگ ڈریں، ظلم کرنے والوں کو اپنے ظلم کا حساب دینا ہوگا و ... ہم اس جوان سے عرض کریں گے کیا آپ کے بابا اور مادر محترمہ کے دور حکومت میں پاکستانی عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا نہیں پڑا؟ کیا سندھی عوام کی حالت زار چو دراہٹ کے عذاب، غربت، بے روزگاری، لوٹ گھسوٹ، پانی بجلی کی قلت، رشوت کرپشن کی لعنت، ہسپتالوں اور تعلیمی درسگاہوں کی ناگفتہ بہ حالات پر جناب عالی کے والدین نے توجہ دیے  ہرگز نہیں تو پھر ....  
 
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا اقتدار سے پہلے وعدے کرنا بہت آسان ہوتا ہے، کوئی بھی وعدہ خان نے پورا نہیں کیاـ ان سے پوچھنے کا حق تو بنتا ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں نے الیکشن کے وقت عوام سے کئے ہوئے کتنے وعدے پورا کرچکے ہیں؟ کیا ہر الیکشن کے نزدیک تمام پارٹی کے سربراہاں گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دینے کا وعدہ کرکے ان سے ووٹ نہیں مانگتے؟ آپ کہتے ہیں وعدہ کرکے اسے پورا نہ کرنا ظلم ہے بلکل درست کہا ہے ہم اس بات کی بھرپور تایید کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کا وعدہ پاکستان کے تمام حکمرانوں نے کیا ہے مگر کسی ایک نے بھی اسے پورا کرنے کا نہیں سوچا، یقینا یہ جفا ہے اور ظلم۔ اور ہم کہتے ہیں مجرم اور ظالم نواز شریف، ذرداری سمیت سارے حکمران ہیں۔

دوسری طرف کشمیر پر نگاہ ڈالیں، اس کے باسی مودی کی بھڑکائی ہوئی جنگ کی آگ میں جل کر خاکستر ہو رہے ہیں، آزادی اور حق ارادیت کے حصول کی جدوجہد کے جرم میں کشمیری بہن بھائیوں پر ظلم کے پہاڑ گرے ہوئے ہیں، ان کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے، ان کی عزت پائمال ہو رہی ہے، ان کے گھر برباد ہو رہے ہیں، ان کے بچے بوڑھے اور جوان لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی تاریخ پرانی ہے، کشمیر متنازعہ خطہ قرار پاتے ہی ہندو ٹولے نے مسلمانوں سے دشمنی کا اظہار کیا، انہوں نے مسلمانوں کو دبا کر رکھنے کا تہیہ کرلیا، مسلمانوں کی طرف غیر انسانی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا، ان کے حقوق پر ڈاکہ مارنے کا آغاز کیا، ان کے مال عزت اور آبرو سے کھیلنے کا عندیہ دیا اور انہیں خوفزدہ کرکے اپنا غلام بناکر زندگی گزارنے پر مجبور کرنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا، چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری باشندے باشعور ہوتے گئے اور انہوں نے اپنی محرومی کے ازالے کے لئے آواز بلند کرنا شروع کی۔

مخفی نہ رہے جہاں کہیں سے بھی کشمیریوں کی طرف سے آزادی اور حق خود ارادیت کی صدا بلند ہوتی، ہندو متعصب ٹولے نے اسے بندوق کی گولی کا نشانہ بناکر ہمیشہ کے لئے اسے دبانے اور بند کرنے کی کوشش کی۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ہندو ٹولے میں ظلم کی شدت اور کشمریوں میں مقاومت کی طاقت بڑھتی گئی، جب ہندو پرست سخت متعصب مودی جب برسراقتدار آئے، تب سے کشمیر میں مسلمانوں کے لئے زمین تنگ سے تنگ تر ہوئی، تقریبا تین ہفتے سے تو کشمیری مسلمانوں پر ظلم کی انتہا ہورہی ہے، بھیڑ بکریوں کی طرح انہیں ذبح اور قتل کیا جارہا ہے، ان کے خون سے کشمیر کے درودیوار رنگین ہورہے ہیں، کشمیر کی سرزمین پر انسانی خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور وہ ملت مسلمانان جہاں کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں، مگر افسوس اسلامیہ جمہوریہ ایران کے علاوہ کسی بھی اسلامی ملک نے سنجیدگی سے کشمیری مسلمانوں ہونے والے مظالم کے خلاف سنجیدگی سے آواز بلند نہیں کی اور بعض نام نہاد اسلامی ملکوں نے تو وقت کے صدام اور شمر مودی کو ایوارڈ سے نواز کر کشمیر کے مظلوموں کے زخم پر نمک چھڑکا اور مسلمانان جہاں کا سر شرم سے جھکا دیا، مودی کو ایوارڈ سے نوازنے والے ذرا سوچیں 
عشق قاتل سے مقتول سے ہمدردی بھی 
یہ بتا کس سے محبت کی جزا ء مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
 
آذادی ،حق خود ارادیت سمیت انسانی بنیادی حقوق سے محروم ہونا کشمیر اور گلگت بلتستان کی مشترکہ محرومی ہے ـ
 
خبر کا کوڈ : 812621
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب