0
Thursday 29 Aug 2019 17:12

واقعہ کربلا کی عظمت اور ھمہ گیری کا راز (2)

واقعہ کربلا کی عظمت اور ھمہ گیری کا راز (2)
تحریر: مولانا فدا حسین ساجدی

3۔ مظلوموں کی حمایت:
حکومت سماجی زندگی کا ناقابل انکار جزء ہے اور حکومت کے بغیر انسانوں کے درمیان اختلاف وجود میں آئیں گے اور زندگی درہم برہم ہو جائے گی، لہٰذا اختلافات کو ختم کرنے اور صاحبان حق تک ان کا حق پہنچانے کے لئے نظام کی ضرورت ہے، لیکن صرف نظام کا ہونا کافی نہیں ہے، بلکه نظام کو چلانے والے کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر نظام بےفائده  اور بیکار ہے۔ نظام چلانے والا حاکم کی ذمه داری معاشرے میں عدل و انصاف برقرار کرنا ہے، اگر وه خود ظالم ہو اور انسانوں کے حقوق کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نه ہو اور اس کی توجه اور ہم و غم صرف شکم پروری، خودخواهی اور شخصی مفاد ہو تو اس کا ظلم پورے معاشرے میں پھیل جائے گا اور ہر عہده دار شخص اپنے ماتحت افراد پر ظلم کرنے لگے گا۔ ذاتی طور پر ہر انسان  ظلم اور ستم سے نفرت کرتا ہے اور عدل و انصاف کا طلبگار ہوتا ہے۔ امام (علیه السلام) کے دور میں ظالمانه نظام کی وجه سے اسلامی مملکت کے مختلف حصوں میں ظلم و جور کا بازار گرم تھا اور هر طرف سے مظلوموں اور ستم دیده افراد کی آوازیں بلند تھیں، نظام کے هر شعبه میں ظلم سرایت کر گیاتھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔

اس پر آشوب دور میں امام نے مظلوموں کی حمایت میں قیام کیا، محدث دہلوی کا اس بارے میں کہنا ہے، حضرت (امام حسین علیه السلام) نے یزید کی مخالفت اس غرض سے کی که مسلمان رعایا کو ظالم کے پنجه سے نجات دلائیں اور یه معلوم ہے که مظلوم کو ظالم کے ظلم سے بچانا اور اس میں مظلوم کو ہر طرح مدد کرنا واجب ہے... حضرت امام حسین (علیه السلام ) نے جو یزید سے مقابله کیا اور اس کی مخالفت کی، صرف اس لئے که ظالم کا تسلط مظلوم پر نه ہونے دیں۔ تفسیر کربلا، فروغ کاظمی ، ص 18) اور اس دور کے ظالم حکمرانوں  کو رسوا کر دیا، تو کربلا کا یه عظیم واقعه انسانی تاریخ کے تمام مظلوموں کے دلوں کے زخم کے لئے مرهم بنا۔ مشهور افسانه نگار منشی پریم چند لکھتے ہیں، معرکه کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے اور شاید آخری بھی ہو جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور اس کی صدائے بازگشت آج تک فضائے عالم میں گونج رہی ہے۔

 4۔ انسانی اقدار کا دفاع:
آزادی، سخاوت، انسان دوستی، ایثار و فداکاری، صبر و استقامت، شجاعت و دلیری جیسی صفات انسانی اقدار میں شمار ہوتی ہیں، وه انسان جس کے اندر یه صفات پائی جائیں، لوگ اس کی طرف عزت اور احترام کی نگاه سے دیکھتے ہیں اور کسی  شخص میں ان صفات کا الٹ ظلم، بزدلی، لالچ، کینه، حسد خود خواہی وغیره جیسی خصلتیں پائی جائیں، تو سب لوگ اسے نفرت کی نگاه سے دیکھتے ہیں۔ امام حسین (علیه السلام) کی یه عظیم تحریک اصل میں انسانی اقدار کے دفاع کے لئے تھی، اس دور کا حاکم اور ظالمانه نظام حکومت نه صرف انسانی اقدار کی حفاظت اور ترویج کے لئے کوشش نہیں کر رہا تھا، بلکه ان کو عملی طور پر ختم کرنے اور غیرانسانی صفات کی ترویج میں کوشاں تھا اور اس منحوس هدف کو عملی جامه پہنانے کی خاطر عوامی سطح پر ظلم و بربریت اور فساد پھیلانے میں سرگرم تھا، اگر امام حسین (علیه السلام) اس پر آشوب دور میں فیام نه کرتے تو اس وقت ہمارے درمیان انسانی اقدار اور انسانیت نامی کوئی چیز  باقی نه ره جاتی اور انسانی معاشره اتنا بگڑ چکا ہوتا که انسان فطری طور پر انحراف کا شکار ہونے کی وجه سے بری صفات عام ہوتی اور انسانی معاشره درندوں کے مجموعه کی صورت اختیار کرلیتا۔ لہٰذا امام (علیه السلام) نے اپنے الٰهی اور انسانی قیام کے ذریعے انسانی اقدار کے تحفظ کے لئے بےمثال اور عظیم قربانیاں پیش کی۔

اس بات پر بہترین دلیل امام علیه السلام کا وه تاریخی جمله ہے، جو آپ نے یزید کی بیعت نه کرنے کے حوالے سے ولید کو فرمایا، نقل ہوا ہے که جب ولید نے آپ کو  اپنے دربار میں بلا کر یزید کے خط کا مدعا بیان کیا اور بیعت کا طالب ہوا اس نازک موقع پر جبکه صورتحال انتہائی غیریقینی اور خطرناک تھی۔ امام  نے پرسکون انداز میں فرمایا، اے ولید هم خانواده نبوت و بارگاه رسالت کے چشم و چراغ اور پنجتن کی آخری یادگار ہیں۔ ہدایت الٰہی کا ہم پر خاتمه اور ہم سے آغاز ہوا ہے، یزید ایک فاسق و فاجر شراب خوار اور ذلیل و پست انسان ہے، مجھ جیسا شخص اس  جیسے کی بیعت ہرگز نہیں کرسکتا۔ یزید کا بیعت نه کرنا امام علیه السلام کی طرف سے اس کے ساتھ جنگ کا اعلان تھا اور آپ یه بخوبی جانتے تھے که بیعت نه کرنے  کی صورت میں جنگ کے علاوه کوئی اور راه نہیں، جبکه آپ کے بیعت نه کرنے کی وجه، یزید کے فسق و فساد کو قرار دیتے ہیں اور گویا آپ اس مطلب کی طرف اشاره کرنا چاہتے ہیں که دنیا کا کوئی بھی ذمه دار شخص یزید جیسے فاسق اور فاجر انسان کی حکومت کی وجه سے انسانی اقدار پائمال ہوتے ہوئے دیکھ کر  خاموش نہیں رہتا۔ امام علیه السلام نے مکه سے روانگی کے وقت گرد و پیش کے لوگوں کے سامنے جو تقریر کی ہے وه بھی اس بات کا ثبوت ہے فرمایا، موت انسان کے گلے کا ہار ہے، مجھے اپنے اور اپنے جد رسول خدا (ص) نیز اسلاف سے ملاقات کا اشتیاق اتنا ہی ہے، جتنا یعقوب (ع) کو یوسف (ع) سے ملنے کا تھا۔ اور خدا کی مرضی میں ہماری مرضی ہے اور میرے لئے بہت جان کی قربانی پر آماده ہو وه ہمارے ساتھ سفر اختیار کرے۔

اس طرح آپ نے یه واضح کردیا که آپ کا قیام انسانیت کے تحفظ کے لئے، انسانی اقدار کی حفاظت کے لئے، اسلام کی بقاء کے لئے، کراہتی، سسکتی شریعت کو نئی زندگی دینے کے لئے، مذهب کو پامالی سے بچانے، شام کی تاریکی میں ہدایت کا چراغ روشن کرنے اور مخلوق الٰہی کی فریاد رسی کے لئے تھا۔ (تفسیر کربلا، فروغ کاظمی، ص 279)۔ اس وقت اگر دنیا کے کسی کونے میں انسانی اقدار اور فطری اصول نامی کوئی چیز باقی ہے تو امام (علیه السلام) کی قربانیوں کا نتیجه ہے اسی وجه سے ہر وه انسان جس کی انسانیت خود خواہی اور نفس پرستی کی نذر نه ہوئی ہو، اس کو واقعه کربلا سے ذاتی طور پر دلچسپی ہوتی ہے اور اس عظیم قیام سے درس لیتے ہوئے اپنے معاشرے میں انسانی اقدار کو زنده رکھنے اور اس کے خلاف ہونے والی سازشوں سے سینه سپرکرکے مقابله کرنے کا عزم کرےگا۔ جے اے سیمسن کہتے ہیں، حسین (علیه السلام) کی قربانی نے قوموں کی بقاء اور جهاد زندگی کے لئے ایک ایسی مشعل روشن کی جو رہتی دنیا تک روشن رہے گی۔ بقول پروفیسر ستنام سنگھ خمار، لکھا ہے کہ:
آسماں په فسانه حسین کا
سب کا حسین، سارا زمانه حسین کا
مظلومیت کے وار سے ظالم نه بچ سکا
آخر ہدف په بیٹھا نشانه حسین کا


 5۔ معاشره کی سالمیت:
ہر انسان کی یه خواہش ہوتی ہے که ایک ایسے معاشرے میں زندگی گذارے، جو ایک ہرے بھرے سرسبز و شاداب گلستان کی طرح ہو، جس میں پیارومحبت کے پھول کھلے ہوں، الفت و مہربانی کے چشمے جاری ہوں، عزت و احترم کے سایه میں بیٹھ کر علم و معرفت کی بلبل سے کامیابی و کامرانی کے نغمے سنے اور ایثار و فدا کاری، شجاعت و دلیری، تواضع و انکساری کے خوبصورت مناظر کا نظاره کرے لیکن یه خواب اتنی آسانی سے شرمنده تعبیر نہیں ہو سکتا، کیونکه الله تعالی نے اپنی حکمت بالغه کے تحت انسانوں کو صاحب اختیار بناکر خلق کیا ہے، جس کے نتیجه میں بعض لوگ نفس کے ہاتھوں اسیر ہو کر مختلف گناہوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور انسانی معاشره میں مختلف قسم کی اخلاقی اور معنوی گندگی پھیل جاتی ہے۔ لہٰذا جس طرح باقی چیزیں اگر میلی ہو جائیں تو ان کو دھونے اور صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح انسانی معاشره بھی اگر اخلاقی اور معنوی طور پر ظلم، فساد، اور غیراخلاقی امور جیسی گندگی کا شکار ہو جائے تو اس کی بھی صفائی اور اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔

انسانی معاشره جب اس حد تک بگڑ جائے که اس میں فساد عام ہو چکا ہو، ظلم و بربریت کا بازار گرم ہو، قتل و غارت کا بول بالا ہو، انسانوں کے حقوق پامال ہو رہے ہوں، مظلوموں اور بےسہارا لوگوں کے لئے کوئی پناه گاه نه ہو تو ایسی حالت میں معاشرے کی اصلاح کے لئے صرف زبان سے امر بالعروف اور نہی عن المنکر کافی نہیں بلکه عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ امام علیه السلام کے دور میں یزید جیسے فاسد و فاجر کی حکومت کی وجه سے مسلمان معاشرے کی کچھ ایسی حالت ہوگئی تھی، لہٰذا امام (علیه السلام) یزید کو ایک فاجر اور نالائق شخص خیال کرتے تھے، جس نے اپنے باپ معاویه کی کوشش، سازشوں، فریب کاریوں، ناجائز دباؤ، حکومت کے عمالوں کے اشتراک و تعاون اور اہل شام کی حمایت سے ایک ایسا حق غصب کرلیا تھا، جس کا وه قطعی اہل نہیں تھا اور اس کی جانشینی اصولی طور پر ایک بدعت تھی اور بدعت کو مٹانا اور ناجائز فعل کو ختم کرنا یوں تو هر مسلمان کی ذمه داری ہے، مگر امام حسین (علیه السلام) چونکه رسول خدا کے نواسے اور آپ کی شریعت کے نگهبان، محافظ اور وارث تھے۔ لہٰذا دوسروں کی به نسبت یه ذمه داری آپ پر زیاده عائد ہوتی تھی اور امام (علیه السلام) اس چیز کی طرف متوجه تھے که یزید کی حکومت معاشرے کے  بگاڑ اور بربادی کا بنیادی سبب ہے۔

امام (علیه السلام) نے اس دور کے معاشرے کی تصویر کشی اور اپنی ذمه داری کی طرف اشاره کرتے ہوئے فرمایا، بنی امیه نے الله کی اطاعت ترک کر کے شیطان کی اطاعت کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ مسلمانوں کے اموال پر اپنا ذاتی حق جتاتے ہیں۔ حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام سمجھتے ہیں، مسلم معاشره تباه و برباد ہو رہا ہے۔ اسلامی قدریں پامال ہو رہی ہیں۔ امت بےحسی اور بےچارگی سے دوچار ہے۔ تہذیب بشری دم توڑ رہی ہے اور انسانیت لب گور ہے۔ ایسی حالت میں مجھ سے زیاده کس پر یه فرض عائد ہوتا ہےکه وه ان نازک باتوں کی اصلاح کرے اور امت مسلمه کو مزید تباہیوں سے بچائے۔ (تفسیرکربلا، فروغ کاظمی، ص 295) امام حسین (علیه السلام) نے یزید کے خلاف قیام کیا اور اس قیام کا مقصد معاشره کی اصلاح تھا اور یه قیام اس زمانے کی  معاشرتی اصلاح  کے لئے بہت مؤثر تھا، اور اس میں ایسے پیغامات اور  درس تھے جو بعد میں بھی انسانی معاشرے کی اصلاح میں عظیم کردار ادا کر سکتے تھے، اسی وجه سے دنیا کے ہر باشعور اور صاحب بصیرت افراد واقعه کربلا کو اس نگاه سے دیکھتے ہیں اور اس عظیم قیام میں موجود پیغامات کو اپنے معاشرے کی اصلاح کے لئے بہترین نمونه عمل سمجھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 812846
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب