0
Monday 26 Aug 2019 23:54

ہم کشمیریوں کیساتھ کھڑے ہیں

ہم کشمیریوں کیساتھ کھڑے ہیں
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
درحقیقت مسئلہ کشمیر عالم اسلام کو درپیش چیدہ مسائل میں سے ایک ہے، مقبوضہ وادی پر بھارتی فوج کی آج سے 71 سال قبل ہونے والی یلغار ظلم و ستم کی تلخ داستان کی صورت میں قائم ہے۔ نہتے کشمیریوں کے آئے روز اٹھتے لاشے اور ماوں، بہنوں کی سسکیاں آج تک عالم اسلام کے مردہ ضمیر کو نہیں جھنجوڑ سکیں۔ رواں ماہ نریندر مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر حکومت پاکستان نے آغاز میں تسلی بخش ردعمل دیا، تاہم بعد ازاں کہیں پاکستان کو سفارتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کہیں دوست کہلانے والوں نے دھوکہ دیا، تو کہیں پاکستان مخالف عالمی طاقتوں کا اثر و رسوخ کام کر گیا۔  اگر یوں کہا جائے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر پر ان گذشتہ تین ماہ کے دوران وہ کچھ نہیں کرسکی، جو اسے کرنا چاہیئے تھا، تو غلط نہ ہوگا۔ اسے عمران سرکار کی ناکام سفارتکاری کہیں، سابقہ حکومتوں کا قصور، بھارت کی مضبوط لابی، دوستوں کی بے وفائی یا کچھ اور۔ تاہم یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ لاکھوں کشمیری عوام اس وقت بھی شدید قسم کے خطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔
 
غیر ملکی جریدے مڈل ایسٹ آئی کے کالم نویس سی جے ورلیمن نے گذشتہ دنوں بھارتی قبضے کے تحت کشمیر کے حوالے سے بعض اعداد و شمار جاری کئے، جن کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے اور مقبوضہ وادی میں 6 ہزار سے زیادہ نامعلوم یا اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی قبریں ہیں، جنہیں بھارتی فورسز نے غائب کیا تھا۔ اس کے علاوہ 80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل ظلم و ستم اور تناؤ کے باعث 49 فیصد بالغ کشمیری پی ایس ٹی ڈی نامی دماغی مرض کا شکار ہوچکے ہیں، جن متنازعہ علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے، ان میں مقبوضہ کشمیر بھی شامل ہے۔ گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بھارتی فورسز تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں 7000 سے زیادہ زیر حراست ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔ سی جے ورلیمن کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی 18 قراردادیں موجود ہیں اور کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ہے، لیکن 2016ء میں بھارت نے اقوام متحدہ کے وفد کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر جانے سے روک دیا۔
 
واضح رہے کہ عالمی اداروں کے مطابق مقبوضہ وادی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہندوستانی افواج کی ریاستی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، اس کے علاوہ ہزاروں خواتین کی عصمت دری بھی ہوئی ہے۔ کشمیر میں مسلسل 23 روز سے کرفیو نافذ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے، اسکول بند ہیں، لوگ اسپتالوں تک میں نہیں جا سکتے۔ مقبوضہ وادی کی اس گھمبیر صورتحال پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آج شام قوم سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے، بھارت نے آخری پتہ کھیل دیا ہے اور اب کشمیر کی آزادی کا تاریخی موقع ہے، مودی نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرکے بہت بڑی تاریخی غلطی کی، بھارت نے پانچ اگست کو پیغام دیا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے اور سیکولرازم کو ختم کر دیا، انہوں نے اپنے آئین اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی، تکبر کی وجہ سے مودی نے یہ کام کیا، انہوں نے سوچا کشمیریوں پر اتنا تشدد کریں گے کہ وہ خاموش ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں آپریشن کا منصوبہ بنا لیا تھا، ہمیں اطلاع مل چکی تھی اور ہماری فوج پوری طرح تیار تھی، ہم نے اس ایشو پر فوری طور پر دنیا سے بات کی۔
 
وزیراعظم نے مزید کہا کہ میں دنیا میں اب کشمیر کا سفیر بنوں گا اور اقوام متحدہ میں 27 ستمبر کو اس معاملے کو اٹھاؤں گا، کشمیر کے ساتھ دنیا کھڑی ہو یا نہ کھڑی ہو، لیکن پاکستانی قوم کھڑی ہوگی، ہر جمعہ ہم ایک پروگرام کریں گے، جس میں 12 بجے سے لے کر ساڑھے 12 بجے تک آدھے گھنٹے کے لیے پوری قوم شریک ہوگی۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بار بار کہا کہ ہم کشمیری عوام کیساتھ کھڑے ہیں۔ اپوزیشن سمیت کئی حلقوں نے وزیراعظم کی اس تقریر کو روایتی قرار دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ قوم سے خطاب میں کوئی ٹھوس پالیسی بیان نہیں کی گئی، اس عزم کا اظہار نہیں کیا گیا کہ اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتا ہے تو کیا کیا جائے گا۔؟ اگر بھارتی افواج کشمیر میں کوئی آپریشن شروع کرتی ہیں تو پاکستان کا کوئی اقدام سامنے آئے گا یا پھر اس وقت بھی یہی کہا جائے گا کہ ہم کشمیری عوام کیساتھ کھڑے ہیں، اب جبکہ آج نریندر مودی نے امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا ہے تو کیا بات چیت کا کوئی راستہ باقی رہتا ہے۔؟ سلامتی کونسل کے اجلاس کا بھی مودی سرکار پر کوئی اثر نہیں ہوسکا۔
 
ہندوستان حکومت کے رویئے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بزور طاقت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ایک ملک جو نہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی قراردادوں پر عمل کرتا ہے، نہ سلامتی کونسل کی سفارشات کو مانتا ہے، نہ کسی ملک کی ثالثی قبول کرتا ہے، اس سے کس طرح ڈیل کیا جائے۔؟ آج بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی صورتحال گذشتہ ادوار کی طرح روایتی نہیں، وہاں کسی بھی وقت بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، گو کہ جنگ کسی طور پر خطہ کے مفاد میں نہیں، تاہم پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر اپنی روایتی پالیسی اور روش کو بدلنا ہوگا، حکمرانوں کو رٹی رٹائی تقریروں سے نکلنا ہوگا، یقیناً یہ صورتحال عمران خان کی حکومت کیلئے کسی ٹیسٹ کیس سے کم نہیں۔ ہم گذشتہ ‏71 سال سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، لاکھوں کشمیری شہید ہوگئے، ہم ساتھ کھڑے ہیں، ہزاروں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لٹ گئیں، ہم ساتھ کھڑے ہیں، ہزاروں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے، ہم ساتھ کھڑے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ زندہ کھڑے ہیں یا مردہ۔؟
خبر کا کوڈ : 812848
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب