0
Wednesday 28 Aug 2019 08:06

ڈونالڈ ٹرامپ اور ملاقات کی تمنا

ڈونالڈ ٹرامپ اور ملاقات کی تمنا
اداریہ
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا بہت کم وقفے کے ساتھ فرانس کا دوبارہ دورہ اور فرانس و امریکہ کے صدور کی ملاقاتیں نیز ایران کے بارے ان کے مشترکہ موقف نے بہت سارے سوالات کو عالمی منظرنامہ میں اٹھا دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دورہ فرانس میں فرانس کے صدر میکروں اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے علاوہ برطانیہ اور جرمنی کے عہدیداروں سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ فرانس کے صدر نے اپنے ایک بیان میں صدر ایران اور صدر امریکہ کی ملاقات کا بھی عندیہ دیا ہے جبکہ دوسری طرف امریکی صدر عرصے سے اس بات کے خواہش مند ہیں کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر اپنے سامنے بٹھا کر دنیا بھر کے حریت پسندوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ ایران کی چالیس سالہ جدوجہد کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر مجبور ہوا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دبائو کے پیچھے یہی سازش کارفرما ہے کہ ایران کو مذاکرات کے نام پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔

دوسری طرف ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ وہ ملک کے مفادات کے لیے کسی کے ساتھ بھی ملاقات کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ ٹرامپ، میکرون اور ڈاکٹر روحانی کے بیانات کو ساتھ رکھ کر پڑھا جائے تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ فرانس کے صدر ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان ملاقات میں واسطے کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ کے مختصر دوانیے میں فرانس کا دوبارہ دورہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ عالمی میڈیا میں اس چیز کو بڑی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکی صدر کی ملاقات کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔ ایران میں اس ملاقات کے حوالے سے کوئی گرمجوشی نظر نہیں آرہی، حتٰی وہ قوتیں جو ایٹمی معاہدے سے پہلے امریکہ سے تعلقات بحال کرنے اور براہ راست مذاکرات کرنے پر تاکید کرتی تھیں، اس حلقے میں بھی مکمل خاموشی طاری ہے۔

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے پانچ جمع ایک ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے جے سی پی اے سمیت مختلف عالمی معاہدوں سے یکطرفہ طور پر نکل کر سفارتی دنیا میں اپنا اعتماد کھو دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر اب کسی کو اعتماد نہیں۔ اسی تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے دورے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے میں کہا ہے کہ صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے درمیان ملاقات قابل تصور نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آکر اس معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کرتا ہے تو اس صورت میں بھی امریکہ سے ایران کے براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے امریکی اور فرانسیسی صدور کی ایران کے بارے میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں کھل کر کہا کہ یہ فرانس اور امریکہ سے مربوط ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ ایران امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 813038
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب