0
Thursday 29 Aug 2019 16:45

یمن، تلوار پر خون کے غالب آنے کے دن آپہنچے

یمن، تلوار پر خون کے غالب آنے کے دن آپہنچے
تحریر: ثاقب اکبر
 
یمن میں جنگ کا پانسہ پلٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جنگ مظلوم یمنیوں کی بستی سے جارح عربوں کے فوجی اور تزویراتی مراکز تک جا پہنچتی ہے۔ گذشتہ تین ماہ سے یمنی میزائل اور ڈرونز سعودی عرب میں ہوائی اڈوں، فوجی تنصیبات اور تیل کی شہ رگ پر متواتر حملے کر رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اب فیس سیونگ کے لیے یا دوسرے لفظوں میں اپنے چہرے کو رسوائی کی سیاہی سے بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ شاید ان کی آخری کوشش یہ ہو کہ جنوبی یمن کو ملک کے دیگر علاقوں سے جدا کرکے ایک نام نہاد حکومت قائم کرلیں، کیونکہ انھیں ہی نہیں ایک دنیا کو یقین ہوچکا ہے کہ پایۂ تخت صنعا ان کے ہاتھوں میں نہیں آسکتا۔
 
البتہ سخن گسترانہ بات بیچ میں یہ آن پڑی ہے کہ اتحادی جارحین اب جنوبی یمن پر اپنی اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے پر پل پڑے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی خواہش یہ ہے کہ یہ خطہ اس کے ماتحت آجائے اور جو حکومت قائم ہو، وہ اس کے اشارۂ چشم و ابرو پر حرکت کرے اور سعودی عرب کی تمنا یہ ہے کہ اس خطے میں اس کی بالادستی ہو اور جو کٹھ پتلی حکومت قائم ہو، وہ اس کے ماتحت ہو۔ اس مقصد کے لیے دونوں کے حامی فوجی مسلسل ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ کبھی صدارتی محل ایک کے قبضے میں اور کبھی دوسرے کے قبضے میں، کبھی ایئرپورٹ ایک کے تصرف میں اور کبھی دوسرے کے تصرف میں۔ تاہم ہمیں یقین ہے کہ جب شمال میں جارحین حتمی شکست سے دوچار ہو جائیں گے تو ان کے لے پالک عدن میں بھی ٹک نہیں سکیں گے۔
 
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی عدن میں سر پھٹول پر انصار اللہ یمن کے سینیئر نمائندے البخیتی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودیہ جنوبی یمن کو ملک کے دیگر حصے سے کاٹنے کے لیے کوشاں ہیں، انھوں نے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ پہلے روز سے امریکی اور اسرائیلی مفادات کے لیے مسلط کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مارچ 2015ء میں شروع ہونے والی اس ہولناک اور تباہ کن مسلط شدہ جنگ کے نتیجے میں مظلوم اور غریب یمن کے ہزاروں شہری جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد تو بے پناہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار یمنی اس جنگ میں شہید یا زخمی ہوچکے ہیں۔ ملک کے انفراسٹرکچر کی تباہی کا تو حساب ہی نہیں، فقط ہسپتالوں اور شفا خانوں کی تباہی دیکھی جائے تو سات سو کے قریب ایسے مراکز سعودی اماراتی حملوں کے نتیجے میں نیست ونابود ہوچکے ہیں۔
 
البتہ اس اثناء میں نہ فقط یہ کہ سعودی قیادت میں بننے والا دس ملکوں کا یہ اتحاد یمنیوں کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کرسکا بلکہ یمنیوں کی قوت ارادی اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے جاری ان کی مزاحمت پہلے سے زیادہ قوی ہوچکی ہے۔ فضائی، بحری اور زمینی ناکہ بندی اور جارحیت کے باوجود انھوں نے ایسے ایسے ہتھیار بنا لیے ہیں کہ جنھوں نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ تباہ حال یمنی ہی ہیں، جو گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں تین امریکی ڈرون گرا چکے ہیں۔ یمنیوں نے جو میزائل بنائے ہیں، انھوں نے بھی دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ مسلسل جارحین کے تزویراتی مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس وقت تک یمنی تین طرح کے ڈرون بنا چکے ہیں۔ یہ ڈرون سعودی عرب کے اندر بارہ سو سے زیادہ کلومیٹر فاصلہ طے کرکے تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
 
گذشتہ بدھ 28 اگست کو دو یمنی ڈرونز نے نجران اور جیزان میں مختلف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس سے ایک روز قبل یمنی ڈرونز نے سعودیہ کے شہر خمیس مشیط میں شاہ خالد ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد جنگی جہاز تباہ ہوئے اور دیگر کئی ایک فوجی تنصیبات بھی حملے کا نشانہ بنیں۔ یہ تفصیلات یمنی فوج کے ترجمان کرنل یحییٰ سریع نے ایک بیان میں جاری کی ہیں۔ آج ہی کے روز (29 اگست کو) یمنی فوج نے ابہا کے سعودی ہوائی اڈے کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس ہوائی اڈے پر اس سے قبل بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے یمنی فوج حملے کرچکی ہے۔ یہ ہوائی اڈا جو یمن پر سعودی جارحیت سے پہلے سویلین تھا، بعدازاں اسے فوجی ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ لہٰذا یہ بھی یمنی فوج کی جوابی کارروائیوں کا نشانہ قرار پایا۔
 
چند ہفتے پہلے یمن کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ اس نے اپنے جارحین کے تین سو اہداف کی ایک فہرست تیار کی ہے، جنھیں وہ ایک منصوبے کے تحت نشانہ بنائیں گے۔ ابہاء کا ہوائی اڈا اس فہرست میں شامل قرار دیا گیا ہے۔ سب سے چونکا دینے والا اور سعودیوں کو ہلا دینے والا حملہ دارالحکومت ریاض پر یمنی ڈرونز کا حملہ ہے۔ ریاض کو اگرچہ پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے، لیکن یمنی ڈرونز کی ریاض کی فضا میں رسائی تمام فوجی ماہرین کو چونکا دینے والی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر امریکی اسلحہ اور ماہرین یمنی عزم و ارادہ اور مزاحمتی قوت کے سامنے نشانِ عبرت بنے کھڑے ہیں۔ سعودیوں کا خیال تھا کہ وہ دو ہفتے میں صنعا پر قبضہ کر لیں گے، لیکن ساڑھے چار سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا اور جنگ کا پانسہ پلٹنے لگا، جارحین کی ساری آرزوئیں خاک میں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔

عالمی سطح پر مختلف ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودیہ اور امارات کسی نہ کسی طرح سے اپنی بچی کھچی عزت بچانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وفود ایران کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ شاید بہت جلد یہ خبر آنے والی ہے کہ متحدہ عرب امارات یک طرفہ طور پر اس محاذ سے الگ ہوگیا ہے، چونکہ جو میزائل اور ڈرونز سعودی عرب کے مختلف صوبوں اور اہم مراکز پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں، ان کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ کسی دن چند اہم ترین اماراتی فوجی اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنائیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو متحدہ عرب امارات کی اقتصاد اسی طرح سے زمین بوس ہو جائے گی، جیسے نائن الیون کے روز نیویارک کے ٹون ٹاورز(Twin Towers)۔ اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ یمن میں تلوار پر خون کے غالب آنے کے دن آپہنچے ہیں۔ محرم الحرام کی آمد آمد پر یہ جملہ آپ کو ایک اور بھی معنویت و روحانیت سے سرشار کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 813380
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے