0
Friday 30 Aug 2019 08:42

افغانستان کا اونٹ

افغانستان کا اونٹ
اداریہ
طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نو دور مکمل ہوچکے ہیں۔ افغان امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد ان مذاکرات کو چلا رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں بظاہر امریکہ اور طالبان شرکت کر رہے ہیں، لیکن بالواسطہ اور بلاواسطہ دوسرے ممالک کے عوامل بھی اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قطر ان مذاکرات کا میزبان ہے اور اس نے طالبان کو اپنے ملک میں ہر طرح کی سہولیات دے رکھی ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات بھی وقتاً فوقتاً اس میں اپنا حصہ ڈالتا رہتا ہے۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کا نام تواتر سے آتا رہا اور یقیناً امریکی دبائو میں پاکستان نے بھی ضرور کردار ادا کیا ہوگا، لیکن اس سے بھی ہرگز انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت طالبان میں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے گروہ بھی موجود ہیں اور ہر ملک کی اپنی پراکسی بوقت ضرورت اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ ہندوستان بھی افغانستان میں ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے طورپر موجود ہے۔

ہندوستان نے گذشتہ برسوں میں افغانستان وسیع سرمایہ گزاری کی ہے، یہاں تک کہ اس وقت افغانستان میں جن ممالک کی درآمدات و برآمدات سب سے زیادہ ہیں، ان میں ہندوستان پہلے یا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کے علاوہ حامد کرزئی اور اشرف غنی نے افغان ہند تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کئی شعبوں من جملہ دفاع، تعلیم، ثقافت وغیرہ میں اہم معاہدے کیے ہیں۔ پاکستان کے طالبان میں اثر و نفوذ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن سابق پاکستانی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بعض اقدامات کیوجہ سے طالبان کا ایک بڑا دھڑا پاکستان پر اعتماد نہیں کرتا۔ دوسری طرف چین، روس، ایران، سعودی عرب وغیرہ بھی طالبان پر کسی نہ کسی طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ اب جبکہ امریکہ اور طالبان دونوں کی طرف سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ مذاکرات کے نو طویل دور انجام دینے کے بعد نوے فیصد سے زیادہ مسائل حل ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے ایک بیان دے کر مذاکرات کی ماہیت کو آشکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا "امریکہ طالبان مذاکرات کی کامیابی کے بعد بھی امریکی افواج افغانستان میں بدستور موجود رہیں گی۔"

طالبان کی طرف سے اس بیان پر ابھی تک کوئی باقاعدہ تبصرہ نہیں آیا، لیکن مذاکرات کے آغاز میں طالبان کے دو بنیادی مطالبے تھے، ایک مطالبہ یہ تھا کہ امریکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ وہ اشرف غنی حکومت کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ امریکہ اور طالبان کے ابھی تک کہ بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان گروہ اپنے دونوں مطالبات سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کے ایک سابق جہادی رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے اس معاہدے پر کڑی تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان سے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی معاہدہ کرنا طالبان دہشت گردی کو عالمی سطح پر سرکاری حیثیت دینا ہے اور دہشت گردی کی حمایت و حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔ احمد مسعود نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ سمجھوتہ افغان قیادت کی سرپرستی میں نہیں ہو رہا اور اس کا افغان قیادت اور عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک جانے پہچانے جہادی خاندان کے فرد کی طرف سے یہ بیان ان مذاکرات کے بارے میں افغان عوام اور اشرف غنی حکومت کے تاثرات بیان کرتا نظر آرہا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو دبائو میں رکھنے کے لیے مودی کارڈ بھی بڑی خوبصورتی سے کھیلا ہے، اب دیکھیں افغانستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 813503
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب