0
Sunday 1 Sep 2019 07:54

ماہ محرم، ماہ حریت و آزادی

ماہ محرم، ماہ حریت و آزادی
اداریہ
اسلام میں نئے سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، لیکن 61 ہجری کے بعد سے ماہ محرم الحرام نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جانثاروں سے مخصوص ہوگیا ہے۔ 61 ہجری کے ماہ محرم کے پہلے عشرے میں خاندان رسول کے چشم و چراغ اور نواسہ رسول نے دین اسلام کی بقا کے لیے جو لازوال قربانی پیش کی، اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کے مطالبہ بیعت پر ایک جملہ کہہ کر رہتی دنیا کے لیے ایک ایسا درس اور پیغام چھوڑ دیا کہ انسانیت اگر اس پر عمل پیرا ہو جائے تو معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ یزید جیسے فاسق و فاجر نے اپنے کارندے کے ذریعے جب بیعت کا پیغام بھیجا تو آپ نے یہ تاریخی جملہ فرمایا "میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔" آپ نے اس جملے میں معاشرہ سازی اور حریت پسندی کا انمول پیغام بیان فرمایا۔ معاشرے پر اگر یزید جیسے حکمران مسلط ہو جائیں تو حسین علیہ السلام کے پیروکاروں کو مصلحت، سمجھوتے، لین دین، ساز باز اور ٹال مٹول جیسے سہاروں کی تلاش نہیں کرنا چاہیئے۔

یزیدی حکم، یزیدی فکر اور یزیدی اقدامات کے خلاف حسینی پرچم بلند کرنا ہی محرم اور عاشورہ کا پیغام ہے۔ اسی پیغام کو دائمی بنانے کے لیے سیدالشہداء نے فرمایا تھا " اگر دین اسلام میرے خون کے بغیر نہیں بچ سکتا تو اے تلوارو آئو اور مجھ پر ٹوٹ پڑو۔" آج ایک بار پھر محرم الحرام کا آغاز ہوا ہے، نواسہ رسول کے چاہنے والے مختلف انداز میں امام حسین علیہ السلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کہیں عزاداری کی مجالس ہو رہی ہیں، کہیں جلسے جلوس نکالے جائیں گے، کہیں سیمینارز اور شعری نشستوں سے نواسہ رسول کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی جائے گی۔ دوسری جانب بعض یزیدی قوتیں بھی اپنے وجود کا اظہار کریں گی اور مختلف حیلے بہانوں سے عزاداری سیدالشہداء اور فکر امام حسین علیہ السلام کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کریں گی، لیکن یہ ذکر اگر بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں نہیں رک سکا تو آج اس کو روکنا ناممکن ہوچکا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عشرہ محرم الحرام کو سیدالشہداء اور آپ کے بہتر جانثاروں کے ہدف و مقصد سے ہم آہنگ ہو کر منایا جائے۔ اتحاد بین المسلمین، باہمی رواداری اور کربلائی اصولوں کو نصب العین قرار دیا جائے۔ کربلا اور اہل کربلا کا ذکر 61 ہجری سے آج تک جاری و ساری ہے، لیکن اس ذکر کو بیان کرنے والوں کی ایک بڑی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ کربلا کیسے برپا ہوئی اور نواسہ رسول اور آپ کے بہتر ساتھیوں پر یزید، ابن زیاد، عمر سعد و شمر و خولی و دیگر قاتلوں نے کیا کیا ظلم و ستم ڈھائے، اس کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان وجوہات کو ضرور بیان کریں کہ رسول خدا کی رحلت کے صرف پچاس سال بعد اسلامی معاشرے میں ایسی کیا تبدیلی آگئی تھی کہ نواسہ رسول کو کربلا کے لق و دق صحرا میں انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیا۔ خاندان نبوت کی مخدرات عصمت و طہارت کو کوفہ و شام کے بازاروں میں بے مقنہ و چادر پھرایا گیا، لیکن اسلامی معاشرے پر موت جیسی خاموشی طاری رہی۔ کربلا کیسے برپا ہوئی، اس کا بیان ضروری ہے، لیکن کربلا کیوں برپا ہوئی اس کا ذکر اشد ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 813877
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب